افغان حکومت کے طالبان جنگجوؤں سے خفیہ مذاکرات جاری ہیں امریکی حکام کی تصدیق

طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں، جنرل نکلسن


News Agencies June 01, 2018
طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں، جنرل نکلسن۔ فوٹو: سوشل میڈیا

امریکا نے افغان حکومت کے طالبان کے اعلیٰ نمائندوں سے خفیہ مذاکرات کی تصدیق کر دی ہے۔

پینٹاگان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکی فوج کے متعدد فضائی حملوں میں 50 سے زائد طالبان جنگجوئوں کی ہلاکت کے باوجود کابل حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں اور طالبان کے سرکردہ نمائندوں کے مابین صیغہ راز میں رکھی گئی۔ اس مکالمت میں مرکزی موضوع یہی ہے کہ آیا جنگ زدہ افغانستان میں کوئی جنگ بندی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

امریکی فوج کے جنرل جان نکلسن نے پینٹاگان میں مدعو کیے گئے صحافیوں کو کابل سے ایک ٹیلی کانفرنس میں بتایا، ''(افغانستان میں) اس وقت ظاہری منظر نامے کے پیچھے مکالمت اور کافی زیادہ سفارت کاری جاری ہے، یہ کوششیں بیک وقت کئی مختلف سطحوں پر کی جا رہی ہیں۔''

جنرل نکلسن نے کھل کر یہ تو نہیں بتایا کہ کابل حکومت کی طالبان سے اس درپردہ بات چیت میں کون کون شامل ہے۔ تاہم انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ اس مکالمت میں طالبان کی طرف سے درمیانے درجے سے لے کر اعلیٰ سطح تک کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں، ''ان مذاکرات کی ممکنہ کامیابی کا کافی زیادہ انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس پورے عمل کو کس حد تک خفیہ رکھا جاتا ہے''، اس امریکی جنرل کے بقول اس مذاکراتی عمل کے آغاز سے قبل اطراف کے مابین ایک ابتدائی خفیہ ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد ہی یہ موقع مل سکا کہ اس بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔

جنرل نکلسن نے کہا کہ طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں، ساتھ ہی جان نکلسن نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین اس مذاکراتی عمل کی ممکنہ کامیابی کا انحصار کافی حد تک اس بات پر بھی ہو گا کہ اس 'پورے عمل کو کس حد تک خفیہ' رکھا جاتا ہے، پینٹاگان کی طرف سے اس تصدیق سے قبل اسی سال فروری میں افغان صدر اشرف غنی نے خود بھی طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کر دی تھی۔

مقبول خبریں