افغان حکومت کے طالبان جنگجوؤں سے خفیہ مذاکرات

یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔


Editorial June 02, 2018
یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

افغانستان حکومت کی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کی اطلاعات ملی ہیں جس کی تصدیق امریکا نے بھی کردی ہے۔ پینٹاگان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکی فوج کے متعدد فضائی حملوں میں 50 سے زائد طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کے باوجود کابل حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں اور طالبان کے سرکردہ نمائندوں کے مابین صیغہ راز میں رکھی گئی اس مکالمت میں مرکزی موضوع یہی ہے کہ آیا جنگ زدہ افغانستان میں کوئی جنگ بندی معاہدہ طے پاسکتا ہے۔

امریکی فوج کے جنرل جان نکلسن نے پینٹاگان میں مدعو کیے گئے صحافیوں کو کابل سے ایک ٹیلی کانفرنس میں بتایا ''افغانستان میں اس وقت ظاہری منظرنامے کے پیچھے مکالمت اور کافی زیادہ سفارت کاری جاری ہے، یہ کوششیں بیک وقت کئی مختلف سطحوں پر کی جا رہی ہیں''۔

جنرل نکلسن نے کھل کر یہ تو نہیں بتایا کہ کابل حکومت کی طالبان سے اس درپردہ بات چیت میں کون کون شامل ہے تاہم انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ اس مکالمت میں طالبان کی طرف سے درمیانے درجے سے لے کر اعلیٰ سطح تک کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ طالبان کے کچھ عناصر امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس مذاکرات عمل کے آغاز سے قبل فریقین کے مابین ایک ابتدائی خفیہ ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ہی یہ موقع مل سکا کہ اس بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔ واضح رہے کہ پینٹاگان کی طرف سے اس تصدیق سے قبل اسی سال فروری میں افغان صدر اشرف غنی نے خود بھی طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کردی تھی۔

صدر اشرف غنی نے ''کابل پراسیس'' نامی بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کے وقت افغان طالبان کو مذاکرات کی غیر مشروط دعوت دیتے ہوئے جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی۔ طالبان نے اس وقت اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، طالبان کا موقف ہے کہ اگر وہ مذاکرات کریں گے تو صرف امریکا سے۔ امن کے حصول کے حوالے سے یہ افغان قیادت کی ایک قابل ستائش کاوش ہے جس کے نتیجے میں امن کے قیام میں مدد ملے گی۔

افغان عوام نے طویل مدت سے متعدد مہلک حملوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قوت برداشت اور ناقابل شکست عزم کا اظہار کیا ہے، طالبان جنگجوؤں سے کامیاب امن مذاکرات افغان عوام کے لیے ایک تحفہ ہوگا۔ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان مسئلے کا حل عسکری نہیں اور اس تنازع کا حل سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے۔

پاکستان، افغانستان اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان امن مذاکرات اور مصالحتی عمل کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی کی مخلصانہ کوششیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ پاکستان، افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات اور قیام امن کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔