افغان حکومت سے خفیہ امن مذاکرات نہیں ہو رہے طالبان

جنرل جان نکلسن افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلیے ایسے بے بنیاد بیانات دے رہے ہیں، طالبان ترجمان


News Agencies June 02, 2018
جنرل جان نکلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ زدہ ملک میںممکنہ فائر بندی کے موضوع پرکابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ فوٹو:فائل

افغان طالبان نے خفیہ امن مذاکرات کے حوالے سے اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار کے بیان کی تردید کی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے اداروں کوایک تحریری بیان بھیجا گیا ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے رواں ہفتے کابل سے جو بیان دیا وہ بے بنیاد ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام ایسے بیانات افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دے رہے ہیں۔

جنرل جان نکلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین ایسے خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں جن میں اس جنگ زدہ ملک میں ممکنہ فائر بندی کے موضوع پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کے اس کمانڈر نے یہ بھی کہا تھاکہ ظاہری منظر نامے کے پیچھے جو مکالمت ہورہی ہے وہ بھرپور سفارت کاری کے ساتھ کئی سطح پر جاری ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نکلنے کا انحصار زیادہ تر اس بات پر بھی ہوگا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین اس درپردہ بات چیت کی تفصیلات کب تک خفیہ رہتی ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کو افغان میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہاکہ جنرل جان نکلسن نے کابل میں اپنے دفتر سے پینٹاگان میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جو دعویٰ کیا ہے وہ قطعی طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔

مقبول خبریں