آپشن نہیں مجبوری
مفاداتی دوستی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے لیکن نظریاتی دوستی کی جڑیں گہری ہوتی ہیں
ہم اگر ملک کے انتخابی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو انتخابات لڑنے والی بڑی طاقتیں دو حصوں میں بٹی نظر آتی ہیں ایک حصہ وہ جو بے خوف و خطر بڑے بڑے جلسے کر رہا ہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جو مارے خوف کے اپنی انتخابی مہم نہیں چلا پا رہا ہے۔ کیا ہم اسے اتفاق کہیں یا کسی بڑی سازش پر عملدرآمد کا حصہ یا ابتداء کہیں؟ خیبر پختونخوا اور کراچی میں اب تک اے این پی کے کئی ایسے امیدواروں کو قتل کردیا گیا جو اپنی الیکشن مہم میں مصروف تھے، کراچی میں بھی اے این پی کے رہنماؤں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے۔
دہشت گردی کا شکار ہونے والی دوسری جماعت متحدہ ہے۔ اب تک اس کے کئی کارکنوں کو قتل کیا گیا ہے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنھیں متحدہ نے انتخابی ٹکٹ دیا تھا اور وہ اپنی انتخابی مہم میں مصروف تھے۔تیسری جماعت پیپلز پارٹی ہے جس کے کارکنوں کو دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ان تینوں جماعتوں سے بہت سارے لوگوں کو بہت ساری شکایتیں ہوسکتی ہیں اور خود ان تینوں جماعتوں کو بھی ایک دوسرے سے شکایتیں ہیں اور ہوسکتی ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نہ صرف انتخابات کے موقع پر جب کہ اس سے بہت پہلے سے ان جماعتوں کو وارننگ کے ساتھ دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے اور بعض مخصوص جماعتوں کو دہشت گردی سے کیوں تحفظ حاصل ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا بڑی گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
جن تین جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اتفاق سے یہ تینوں جماعتیں باوجود اپنی بے شمار مبینہ کمزوریوں کے اپنی سیاسی نظریات میں لبرل اور سیکولر ہیں ۔
غالباً اسی وجہ سے یہ جماعتیں معتوب بھی رہی ہیں۔ اس حقیقت کی نشان دہی کے بعد یہ صورت حال سامنے آتی ہے کہ ''کچھ طاقتیں'' انتخابات میں لبرل اور سیکولر جماعتوں کا راستہ روکنا چاہتی ہیں اور ایسی جماعتوں کو برسر اقتدار لانا چاہتی ہیں جو ان کی نظریاتی لائن کو فالو کرنے پر آمادہ ہیں۔
ہمارے بعض دوست خلوص نیت کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کا مقصد انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے۔ لیکن لگتا یہی ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہیں بلکہ ترقی پسند طاقتوں کا راستہ روکنا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی طبقہ فکر کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں ۔ ہمارے پیش نظر ہمیشہ ملک و قوم کو ترقی کی سمت آگے لے جانے کی ترغیب فراہم کرنا رہا ہے اور جو بھی قوتیں ہماری ان کوششوں کی معاون رہی ہیں ہم نے ان کی حمایت کی اور جو بھی قوتیں ان کوششوں کی مخالف رہیں ہم ان کے مخالف رہے ہم نے عملی سیاست اور صحافت ہر دو جگہ اسی اصول کو پیش نظر رکھا۔
ہم جس نظام میں زندہ ہیں اس کی شاخیں بہت پھیلی ہوئی ہیں اور اس نظام کو چلانے والے اپنی ضرورتوں کے حساب سے کسی بھی شاخ سے کوئی بھی کام لے سکتے ہیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شاخ سانپ بن کر خود شاخوں کی جڑ کے آگے پھن پھیلائے کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس نظام کی پراسراریت کا عالم یہ ہے کہ آج کا دوست کل کا دشمن اور آج کا دشمن کل کا دوست بن جاتا ہے لیکن اس نظام کی نبض کو سمجھنے والے دوستی اور دشمنی کا تعین بڑی احتیاط سے کرتے ہیں۔ دوستی اور دشمنی مفاداتی بھی ہوتی ہے نظریاتی بھی۔
مفاداتی دوستی وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے لیکن نظریاتی دوستی کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور اس کے مضمرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کے عوام کو جس نظریاتی تصادم کا سامنا ہے اس کے مضمرات بہت گہرے اور دوررس ہیں اس لیے انھیں بڑی احتیاط سے دوستوں اور دشمنوں کا تعین کرنا ہوگا۔ مشکل یہ ہے کہ نظریاتی لڑائیوں میں ہر فریق مخلص اور ایماندار نظر آتا ہے اس لیے اس صورت حال میں خاص طور پر دوستوں اور دشمنوں کا تعین بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
11 مئی کے انتخابات اس حوالے سے بہت اہم ہیں کہ غالباً پہلی بار دو نظریاتی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی نظر آرہی ہیں۔ جن کا ذکر ہم نے ابتداء میں کردیا ہے۔ پاکستان پچھلے 65 سالوں سے غیر نظریاتی مفاداتی جنگل میں بھٹک رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ترقی کی سمت پیش رفت کرنے سے معذور رہا ہے۔ اس 65 سالہ لوٹ مار سے متنفر عوام اب صدق دل سے ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جو انھیں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرے۔ ہرچند کہ ایسی قوتیں ابھی پاکستان میں بہت کمزور ہیں جو عوام کی لاٹھی بن سکیں اور اسی حقیقت کے پیش نظر وہ قوتیں بالواسطہ یا براہ راست رائے عامہ کو فریب دے کر اقتدار کے مراکز پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندیاں کرتی نظر آرہی ہیں اور ایک بار پھر مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے وقت میں عوام کو بہت چوکنا رہنا ہوگا۔
جب انسانوں کے سامنے ناپسندیدہ آپشن کے علاوہ کوئی آپشن باقی ہی نہیں رہتا تو اسے اسی ناپسندیدہ آپشن میں کوئی ایسا آپشن تلاش کرنا پڑتا ہے جو کم سے کم نقصان رساں ہو۔ ہم آج جس نظام میں جی رہے ہیں وہ سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے جو سب سے بڑا چور ہے وہی سب سے زیادہ چوری کے خلاف چیخ پکار کر رہا ہے اس جدید تکنیک کو سمجھنا ہوگا۔ ہماری 65 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ بدتر دور ضیاء الحق کا دور اس لیے تھا کہ اسی مرد حق نے اس ملک میں انتہا پسندی کو متعارف بھی کروایا، فروغ بھی دیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے گزر جانے کے بعد اس کے نظریاتی جانشین کون ہیں اور وہ حصول اقتدار کے لیے کیا کیا سازشیں کر رہے ہیں اور کس کس طرح عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں ایک بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک 1789 جیسی لیکن منصوبہ بندی سرجری کے بغیر ہم اس Status Que سے نجات حاصل نہیں کرسکتے جو 65 سال سے ہم پر مسلط ہے لہٰذا تبدیلی اور انقلاب کی باتیں تو بکواس کے علاوہ کچھ نہیں اس صورت حال میں عوام کے پاس ایک ہی آپشن باقی رہ جاتا ہے کہ وہ کم ازکم اس مرد حق ضیاء الحق کی باقیات کو اقتدار کی طرف بڑھنے نہ دیں جس نے دہشت گردی کے جہنم میں پاکستان کو دھکیل دیا ہے۔ یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح کی ضرورت نہیں کیونکہ دوسری بیماریوں سے تو ہم کبھی نہ کبھی نکل سکتے ہیں لیکن ضیاء الحق کی باقیات ہمیں اس قدر پیچھے دھکیل دے گی کہ آگے کا راستہ ہی نہیں رہے گا۔
متحدہ کے انتخابی کیمپ کے قریب دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 13 افراد زخمی ہوگئے۔ متحدہ نے 24 اپریل کو یوم سوگ منایا جو پورے سندھ میں کامیاب رہا اب دہشت گردی کی مخالفت تمام قوتوں کو اور آگے بڑھنا چاہیے اور عوام کو ساتھ رکھنا چاہیے۔