پولیس رپورٹس مسترد لاپتہ بچوں کی بازیابی کا حکم

پولیس دلچسپی لے کر کوشش اور معصوم بچوں کو بازیاب کرانے کے لیے اقدامات کرے، سندھ ہائی کورٹ


Staff Reporter June 09, 2018
شہر سے 20 بچے گم ہوئے تھے، 12 کو بازیاب نہیں کیا گیا، درخواست گزار۔ فوٹو : فائل

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں 22 بچوں کے اغوا اور گمشدگی سے متعلق کیس میں پولیس کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے بچوں کو 12جون تک بازیاب کرانے کاحکم دیاہے.

سندھ ہائیکورٹ میں روشنی ہیلپ لائن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایس ایس پی، اے وی سی سی کو ہر صورت پیش ہونے کاحکم دیتے ہوئے پولیس کی رپورٹس لینے سے بھی انکارکردیا.

درخواست گزار این جی او کا کہنا تھا کہ پولیس شہرسے گم ہونے والے بچوںکی بازیابی میںکوئی دلچسپی نہیں لے رہی، 20 بچے گم تھے جن میں سے 8 کوبازیاب کیاگیا، 12 بچے اب بھی لاپتہ ہیں، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ پولیس کی رپورٹس تب تک نہیں لیں گے جب تک کسی پیش رفت کے ساتھ جمع نہیں کرائی جاسکتی ہے.

عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس دلچسپی سے کوشش کرے اور معصوم بچوں کو بازیاب کرائے، گمشدہ بچی صائمہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ پولیس ہم سے کچھ بھی تعاون نہیں کررہی،پولیس کوبتایابھی ہے کہ میری بچی کہاں ہے مگرپھر بھی پولیس اس کی بازیابی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ہے ۔

گمشدہ بچی رابعہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی، در در کی ٹھوکریںکھا رہے ہیں، بچوں کو بازیاب کرکے ہمیں انصاف فراہم کیاجائے.

این جی او کے وکیل کا کہنا تھا کہ تھانوں میں بچوں کے اغوا کے مقدمات درج کرنے کا کوئی طریقہ موجودنہیں،ہر تھانے میں بچوں کے اغوا و گمشدہ ہونے سے متعلق الگ ڈیسک بنائی جائے، جب تک موثراقدامات نہیں کیے جائیں بچوں کے اغوا کے واقعات نہیں رکیں گے،گم شدہ بچوں منزہ، نور فاطمہ، صائمہ، عبدالواحد، محمد حنیف، ثانیہ، سہیل خان و دیگر شامل ہیں جن کی عمریں ڈھائی سے 14سال ہیں،عدالت نے 12 جون تک سماعت ملتوی کردی۔

مقبول خبریں