’’لیڈر کوئی بھی ہوجنوبی پنجاب میں ووٹ برادری کو ملتا ہے‘‘

یہ کلچر بن چکا، جب تک مخدوموں اور ہاشمیوں سے جان نہیں چھوٹے گی تقدیر نہیں بدلے گی.


Monitoring Desk April 27, 2013
اب میڈیا اور عدلیہ نے عوام کو بہت باشعور کر دیا ہے،شہریوں کی لائیوودطلعت میں گفتگو فوٹو : فائل

جنوبی پنجاب کے عوام ووٹ ڈالنے کیلیے پرجوش ہیں اور اس مرتبہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کیلیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں میزبان طلعت حسین نے ''ووٹ کیوں اور کس بنیاد پر ڈالنا چاہیے ''کے سوال کا جواب لینے کیلیے عام شہریوں سے گفتگو کی۔ ملتان میں شہریوں نے طلعت حسین سے گفتگو میں کہا کہ جنوبی پنجاب میں برادری سسٹم بہت چلتا ہے اور عرصہ دراز سے منشور چاہے کیسا بھی ہو، لیڈر چاہے کوئی بھی ووٹ برادری کو ہی دیا جاتا ہے۔

کیونکہ برادری کے ذریعے ہی الیکشن میں کامیابی ہوتی ہے اور برادری کے ذریعے ہی عوام کے مسائل کو حل کرنے کا کلچر بن چکا ہے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ میں نے آج تک کسی کو ووٹ ہی نہیں دیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے۔ایک نوجوان نے کہا کہ میں نے اس سے قبل ووٹ نہیں ڈالا تاہم ملکی حالات کیوجہ سے احساس ہوتا ہے کہ ووٹ ڈالنا چاہیے۔ایک شخص نے کہا کہ میڈیا اور عدلیہ نے عوام کو بہت باشعور کر دیا ہے، اب عوام پاکستان کے مستقبل میں ووٹ کے ذریعے اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔



ایک خاتون کا کہنا تھا کہ عورتیں نظرئیے کی بجائے اپنے بھائی، شوہر یا بیٹوں کے کہنے پر ووٹ ڈال دیتی ہیں۔ ایک اور خاتون نے کہا کہ اب ہم اپنی مرضی سے ووٹ دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ایک شخص نے کہا کہ جب تک مخدوموں اور ہاشمیوں سے جان نہیں چھوٹے گی ہماری تقدیر نہیں بدلے گی، مخدوم جاوید ہاشمی اتنی دیر رہے ہیں، آخر چلے گئے ہمارا مستقبل کہاں گیا، ہمیں ایک پارٹی کے جھنڈے تلے جمع ہونا ہوگا۔ چکوال تحصیل کمال کے عوام نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے منشور کو سٹڈی کرنے کے بعد ووٹ ڈالنا چاہئے۔

ایک طالبعلم نے کہاکہ پڑھے لکھے لوگ ووٹ نہیں ڈالتے جبکہ برادریاں اپنے لوگوں کو سپورٹ کرتی ہیں اور پھر انکے ذریعے کرپشن کرتے ہیں۔ایک نوجوان نے کہا کہ یہاں برادری ازم سے ہی امیدوار کو کامیابی ملتی ہے۔ایک طالبہ نے کہا کہ ملکی حالات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے تاہم اب بچے بھی بات کرتے ہیں کہ ملک کی بہتری کیلئے فلاں جماعت کو ووٹ ڈالنا ہے اس سے خوشی ہوتی ہے۔