گائے پہچانئے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ۔ اور ایسی حالت میں جب پورا ملک اور اس کا بچہ بچہ گروی رکھا پڑا ہے۔
مسٔلہ بڑا ہی گھمبیر ہے ،اگر چہ اس پر تحقیقی کام بھی بہت ہوا ہے مثلاً سب سے پہلے مرشد نے یہ سوال اٹھا یا تھا کہ
سبزہ و گل کہاں سے آتے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ابر اور ہوا سے تو ہمیں کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ دونوں ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں، لیڈروں کی طرح لیکن سبزہ و گل کی تحقیق تو ہمیں کرنا ہی ہوگی کیونکہ ایک تو ہمارے ہاں '' سبزہ ہی سبزہ '' ہے، جھنڈا سبز ، ملک سر سبز ، اور وہ بھی سبز جس کے سبز قدم کی سبز قدمی ابھی تک جوں کی توں ہے اور گل تو گل ہے کہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے مطلب یہ کہ '' سبزہ و گل '' سے ہمیں لینا دینا ضرور ہے۔ جب اس سبزے پر سب سے محترم شخصیت کی '' تصویر '' چھپی ہو پھر تو '' سبزہ '' مقدس بھی ہوجاتا ہے اور گل تو آپ جانتے ہیں کہ جب '' سبزہ '' میچور ہو جاتا ہے تو گل کھلتا ہے جو سارے سبزے کے اوپر ہوتا ہے ۔
صحرا میں گل کھلتے ہیں
جب '' چپکے سے '' ملتے ہیں میں اور تو
ظاہر ہے جب بہت سارے '' میں اور تو '' تنہائیوں میں ملتے ہیں تو پھر وہ گل کھلتے ہیں جو نارنجی رنگ کے ہوتے ہیں اور بڑے ہی دل افروز دل کش اور دلکشا و دل ربا ہوتے ہیں اور اگر بہت سارے بھی ہوں تو کون ہے جو غالب نہ بنے۔ خیر اصل مسٔلہ تحقیق طلب تو یہ ہے کہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ '' سبزہ و گل '' جاتے '' کہاں '' ہیں ۔کرتوں، شلواروں، پتلونوں اور ،،،،،،،،،،،،،،پناموں میں جاتے ہوئے سب نے دیکھا ہے لیکن آج تک یہ کوئی معلوم نہیں کر پایا کہ یہ '' سبزہ و گل '' آتے کہاں سے ہیں ۔ مرزا غالب سے سے لے کر ہم جیسے '' مغلوب '' تک اس کا جواب حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ سو آج کا ہمارا تحقیقی پراجیکٹ یہی ہے یا '' آپریشن سبزہ و گل '' بھی کہہ سکتے ہیں ۔
پہلے تو ہم نے اس '' سبزہ و گل '' کا حساب لگایا جو صدر مملکت سے لے کر وزرائے مملکت ، پھر ممبرائے مملکت سے لے کر سفرا مملکت تک حتیٰ کہ گدائے مملکت تک جو '' سبزہ و گل '' ٹھکانے لگایا جاتا ہے، وہ کتنا ہے تو آپ یقین کریں کہ ہم یہ سن کر سن ہو گئے، دماغ سننانے لگا ، سارے جسم میں سنسی دوڑ گئی، چاروں طرف سناٹا چھا گیا جس میں ہم صرف اپنی سانس کی آواز سن رہے تھے ۔
باقی سب کچھ '' سن '' تھا۔ '' اتنا سبزہ و گل '' آپ کو یہ سن کر سنسائی ہو جائے گا کہ ایک ممبر کونسلر وغیرہ پر جو خرچ ہوتا ہے اس کا حساب اعداد و شمار میں تو ممکن نہیں ، یوں کہئے کہ ان لوگوں کی ایک سانس ہزار روپے کی ، قدم دو ہزار روپے کا، بات بھی دو ہزار روپے کی، بیٹھنا پانچ ہزار روپے کا ، اٹھنا بھی پانچ ہزار روپے کا اور لیٹنا بھی پانچ ہزار روپے میں پڑتا ہے، اس کا نصف ان کے عزیز ترین چمچوں کا بھی لگا لیجیے ۔ اور اس سے '' اوپر '' کے جو ہیں، ان کا ہلکا سا اندازہ اس سے لگائیے کہ ابھی صدر مملکت کی تنخواہ میں ساڑھے نو سو فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ،ساڑھے نو سو فیصد کا مطلب ہے کہ ایک روپے کے ساتھ ساڑھے نو سو روپے اور ،
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
قاتل کومگر وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
ایوان صدر کا جو روز کا خرچہ ہے وہ ہم آپ کو بالکل بھی نہیں بتائیں گے۔ کہ خلق خدا کا خون ہم اپنے ذمے نہیں لے سکتے، ہاں یہ بتا سکتے ہیں کہ ہر شہر میں ان کے لیے جو گیسٹ ہائوس مخصوص ہیں، ان کا خرچہ ایک عام آدمی کی پوری زندگی کی آمدن اور خرچہ ہو سکتا ہے۔ آپ بولیں گے کہ وہ ہستی تو ایک ہوتی ہے جس کی قیام گاہیں ہر شہر میں ہر پر فضا مقام پر ہوتی ہیں، وہ تو خالی رہتی ہوں گی اس لیے یہ ہم پہلے سے بتا دیں کہ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی، ان قیام گاہوں میں متعلقہ لوگوں کے رشتے دار اور دوست یا حاشیہ برداروں کے '' اپنے '' مستقل رہائش پذیر ہوتے ہیں اورمسلسل سبزہ و گل '' نکلتے '' رہتے ہیں ۔
مثلا نتھیا گلی میں ہمارے گورنرصاحبان، وزرائے اعلیٰ صاحبان اورمختلف شہروں میں '' صوبائی ہائوسز '' خالی کیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ خانہ خالی را دیو می گیرد ، یہ تو پھر بھی کسی حد تک ذاتی اور مخصوص ہوتے ہیں ، محکموں اداروں اور یونیورسٹیوں کے جو گرمائی سرمائی کیمپس ہوتے ہیں، ان میں بھی '' دیو '' ہی براجمان رہتے ہیں ۔ یہ تفصیل بڑی جانکاہ ہے جس کے اندر نہ تو ہم جا سکتے ہیں اور نہ ہی ہمارا '' ٹٹوئے تحقیق'' آمادہ ہوگا لیکن اگر حساب کتاب لگایا جائے تو ہر بجٹ میں ہر محکمے یا مدد کا جو حصہ ہوتا ہے اس کا 3/4یہی نامعلوم '' سبزہ و گل '' خور ہڑپ کر لیتے ہیں۔ یوں یہ اندازہ تو ہو جاتا ہے کہ کتنا '' سبزہ و گل '' کس کس راستے سے کہاں کہاں جاتا ہے لیکن اس کے بعد وہی بنیادی اور قدیم ترین سوال کہ یہ اتنا ڈھیر سارا سبزہ و گل آتا کہاں سے ہے۔
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ۔ اور ایسی حالت میں جب پورا ملک اور اس کا بچہ بچہ گروی رکھا پڑا ہے، ہر کھوپڑی کے اوپر ڈیڑھ لاکھ کا قرضہ دھرا ہوا ہے، پھر بھی '' سبزہ و گل '' کی بے تحاشا '' رفت '' پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ ہر روز اس میں اضافہ دیکھ اور سن کر ایک عام آدمی جسے اس وطن کی ذرا بھی فکر ہو دھک سے رہ جاتا ہے۔ ہاتھوں پیروں اور انگلیوں تک کے طوطے بٹیر اور چیل کوئے اڑ جاتے ہیں کہ اللہ جانے کیا ہوگا مولا جانے کیا ہوگا بلکہ کوئی تعلق نہ ہونے کے وجود اس کا جی کھانے پینے تک سے اٹھ جاتا ہے، آخر یہ ہمارا وطن ہے، ماں ہے آبروہے ۔لیکن ان سبزہ و گل ہڑپنے بلکہ بے تحاشہ ہڑپنے اور دوسروں سے بھی ہڑپوانے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور بڑی بے شرمی بلکہ بے دردی سے مزید پڑپنے لگتے ہیں، ٹھیک ہے فی الحال تو قرض کی '' مے '' پر کام چل رہا ہے لیکن کسی نہ کسی دن تو یہ '' فاقہ مستی '' رنگ لائے گی ۔ جو ہم سب کچھ جان کر بھی نہایت اطمینان سے مزید فاقہ مستیاں کر رہے ہیں، کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسا اطمینان تو موجود ہے کہ ان کو ذرا بھی فکر نہیں ہے ۔
اور یہی ہمارے سامنے تحقیق طلب مسٔلہ پڑا ہوا تھا کہ سبزہ و گل جاتا ہے لیکن یہ اتنا سبزہ و گل آتا کہاں سے بلکہ مسلسل اور مزید کہاں سے آئے گا یا آرہا ہے ؟
لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے اورہمارے'' ٹٹوئے تحقیق'' کا لاکھ لاکھ دھنے واد کہ اس قدیم گھمبیر اور تشویشناک سوال کا جواب مل گیا اور وہ بھی بڑا تسلی بخش بلکہ باثبوت۔ اچانک ہمیں وہ مکالمہ یاد آگیا جو ایک برہمن رشی و '' سیشٹ'' اور کھشتری راجہ کے درمیان ہوا تھا اور ہم نے یہ قصہ آپ کو انھی کالموں میں سنایا بھی تھا ۔ لیکن اس کا آخری مکالمہ جو رشی و سیشٹ کے منہ نکلا تھا، آپ کو یاد نہیں ہوگا جو اس سوال کی کنجی ہے ۔ اس نے کہا تھا ک، دیوتائوں نے مجھے ایک ''گائے '' دی ہے جس سے میں جو کچھ بھی چاہوں طلب کر لیتا ہوں اور وہ حاضر کر دیتی ہے ۔ سارا مسٔلہ ہم نے حل کر دیا ہے، آپ کو صرف گائے پہچاننا ہے ۔