چیمپئنز ٹرافی قومی کرکٹ ٹیم اور مینجمنٹ کے لیے سخت امتحان

کھلاڑیوں کو انگلینڈ میں پھونک پھونک کرقدم رکھنا ہوں گے۔


Saleem Khaliq April 27, 2013
کھلاڑیوں کو انگلینڈ میں پھونک پھونک کرقدم رکھنا ہوں گے۔ فوٹو : راشد اجمیری / ایکسپریس

''اگر کوچز کسی کی قسمت تبدیل کر سکتے تو بنگلہ دیشی ٹیم آج ورلڈنمبر ون ہوتی،گورڈن گرینج، اسٹورٹ لا اور ڈیوواٹمور بھی اس کی کارکردگی بہتر نہ بنا سکے، یہ اب بھی زمبابوے تک سے ہار جاتی ہے،اچھا کوچ ہونے کے ساتھ باصلاحیت پلیئرز کا ساتھ بھی ضروری ہے''۔

پاکستان کے 90 فیصد عوام کی طرح خود کو کرکٹ کا ماہر سمجھنے والے میرے ایک دوست نے جب ایک روز بحث کے دوران یہ بات کہی تو مجھے بھی اس میں وزن نظر آیا،ایسے میں یہ سوچا کہ ہمارے ساتھ معاملہ الٹ کیوں ہے ، پاکستان میں تو ہر دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، یہ اور بات ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیتا، ایسے میں تو ہم ایک اچھا کوچ رکھ کر کارکردگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔

مگر ہمارے ہاں ایسے کوچ کو ڈھونڈ کر لایا جاتا ہے جس کا نام اس کے ملک میں بھی زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا،محمد اکرم کو بولنگ کوچ بنا دیا گیا،9ٹیسٹ کھیلنے والے سابق بولر نے ماضی یا حال میں ایسے کیا کارنامے انجام دیے کہ ان پر یہ مہربانی ہوئی؟پی سی بی نے جو اشتہار دیا تھا اس پر تو گنتی کے چند افراد ہی پورا اتر پاتے،یقینا اکرم میں بھی مطلوبہ اہلیت کی کمی تھی،ان کے کوچ بننے سے بولرز کی کارکردگی میں کیا بہتری آئی وہ سب کے سامنے ہے، دورہ جنوبی افریقہ میں جہاں میزبان پیسرز نے وکٹوں کے ڈھیر لگا دیے وہیں پاکستانی فاسٹ بولرز سازگار کنڈیشنزمیں کچھ نہ کر سکے۔

وسیم اکرم یا وقار یونس جیسے بولرز کو تو کسی کوچ کی ضرورت نہیں ہوتی، اکرم کا کمال تو یہ ہوتا کہ وہ احسان عادل، راحت علی اور تنویر احمد کو بھی میچ ونرز کے روپ میں ڈھالتے مگر ایسا نہ ہو سکا، پاکستان میں ہر کام نرالے انداز میں ہوتے ہیں، ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد جیسے کوالیفائیڈ کوچز کو دنیا کی بہترین ٹیموں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے، دنیا بھر میں ان کی مانگ ہے مگر یہاں کوئی لفٹ نہیں کرائی جا رہی، آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں مگر مشتاق کوچنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں، ثقلین نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں پلیئرز کی رہنمائی کے بعد اب زمبابوین ٹیم کے ساتھ منسلک ہیں۔

کئی بار میری خود ان سے بات ہوئی اور دونوں ہی اپنے ملک کی خدمت کے لیے بے چین نظر آئے مگر یہاں ہر جگہ ''نولفٹ '' کا بورڈ لگا ہے، شائد اب انھیں بھی وسیم اکرم کی طرح کسی موبائل فون کمپنی کو اسپانسر بنا کر کوچنگ کا شوق پورا کرنا پڑے، یہ درست ہے کہ یہ دونوں اسپنرز ہیں مگر کرکٹ طویل عرصے تک کھیلنے کی وجہ سے کرکٹ کے تمام پہلوؤں سے واقف ہو چکے، مشتاق انتہائی اوسط درجے کے ٹیل اینڈر تھے مگر بطور انگلش ٹیم بولنگ کنسلٹنٹ کیون پیٹرسن جیسے بیٹسمین کی فارم بحال کرا دی تھی۔

جس کا خود انھوں نے سنچری بنانے کے بعد اعتراف بھی کیا،اسی طرح کا معاملہ بیٹنگ کوچ کا بھی ہے، ہنٹ کمیٹی کسی غیرمعروف کے تقرر کی سفارش کر چکی، یہ درست ہے کہ باہر سے بلائے گئے کوچ کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں مگر ان کا کچھ نام تو ہونا چاہیے، اگر صرف کسی گورے کو بلانا ہے تو انگلش کاؤنٹی کرکٹ سرکٹ میں کئی لوگ گھوم رہے ہوں گے وہ خوشی سے عہدہ سنبھال بھی لیں گے، کسی عام سے کوچ کو ذمہ داری سونپنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ کیسے مصباح الحق اور محمد حفیظ کو خامیاں دور کرنے کیلیے مشورے دے سکے گا ، پروفیسر تو ایک منٹ میں اسے ہی شاگرد بنا لیں گے۔

انتخاب عالم کی عمر71 سال ہو چکی، اب انھیں گھر پر آرام کرنا چاہیے مگر وہ اپنے کندھوں پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوئے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ دنیا میں ان سے اچھا کوئی کرکٹ منتظم موجود ہی نہیں، کوچ کی تلاش، سینٹرل کنٹریکٹ، انٹرنیشنل کرکٹ، اکیڈمی تمام معاملات انہی کو سونپ دیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ چار ماہ پورے ہونے والے ہیں تاحال پلیئرز کے معاہدوںکو حتمی شکل نہیں دی جا سکی،موجودہ چیئرمین ذکا اشرف نے عہدہ سنبھالنے پر اپنی ٹیم بنانے کا عندیہ دیا تھا مگر وہ بھی انتخاب عالم اور ذاکر خان جیسے لوگوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے جو ہر دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہتے ہیں، پاکستان میں بڑے بڑے کرکٹرز موجود ہیں انھیں کوئی لفٹ نہیں کراتاالبتہ بعض مخصوص لوگ راج کرتے رہتے ہیں، اس کا راز کیا ہے کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔

پاکستان کرکٹ ان دنوں ایک بار پھر منفی خبروں کی زد میں ہے، سلمان بٹ اور محمد آصف کی سزا کیخلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل مسترد ہوئی، پھر امپائرز ندیم غوری اور انیس صدیقی اسٹنگ آپریشن میں کرپشن کی جانب مائل دکھائی دینے پر پابندی کا شکار ہوئے، اب انگلینڈ میں ساتھی کاؤنٹی کرکٹر کو اسپاٹ فکسنگ پر اکسانے والے دانش کنیریا کی پابندی کیخلاف دہائی بھی ججز کو متاثر نہ کر پائی، انگلینڈ میں جب سلمان، آصف اور عامر کو سزا ہوئی تو میں کمرہ عدالت میں موجود تھا۔

فیصلے سے قبل سلمان کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، میں نے جب ان سے بات کی تو وہ بے گناہی پر اصرار کرتے رہے، اسی طرح آصف تو مکمل مطمئن نظر آ رہے تھے، انھوں نے بھی کچھ غلط نہ کرنے کا یقین دلانے کی کوشش کی، اس کے بعد دونوں جیل سے واپس آئے تب بھی بے گناہ ہونے کا راگ الاپتے رہے، ایسے میں تنگ آ کر آئی سی سی چیف کو بھی کہنا پڑا کہ اب تو دنیا کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے غلطی تسلیم کر لو، سلمان تو اس پر آمادہ ہو گئے اور آصف بھی نیم رضامند نظر آتے ہیں، یہ ایک اچھا فیصلہ ہو گا اور دونوں کو کافی پہلے ہی ایسا کر لینا چاہیے تھا۔



تینوں کرکٹرز کی وجہ سے ملک کی جو بدنامی ہوئی انھیں اس کا احساس کرنا چاہیے، اب کرکٹ کا پیچھا چھوڑ کر کچھ اور کام کریں تو ہی مناسب ہو گا، ورنہ یہ جس بھی سرگرمی میں شریک ہوئے لوگ شکوک کا شکار ہی رہیں گے، اسی طرح ندیم غوری سینئر امپائر تھے، اسکائپ پر آکر سلطان راہی کی طرح انھوں نے جو بڑکیں ماریں اس کے بعد بچنے کا کوئی چانس نہیں تھا، انھوں نے کئی بار مجھ سے اس کیس پر بات کی اور ہمیشہ اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اسے بھارتی سازش قرار دیا ، میں ان کی آدھی بات سے متفق ہوں ، واقعی یہ بھارت کی ہی کارستانی تھی جس کے ٹی وی چینل نے اپنے کسی امپائر کو اسٹنگ آپریشن میں شامل نہ کیا بلکہ صرف پاکستانی، سری لنکنز اور بنگلہ دیشی آفیشلز کو پھنسایا، مگر مچھلی خود ہی کھانے کی چیز دیکھ کر لالچ میں جال میں جا پھنستی ہے۔

اس میں اسی کا قصور ہوتا ہے،مذکورہ چینل نے مزید امپائرز سے بھی رابطہ کیا ہو گا مگر انھوں نے بات نہ مانی لہذا ان کا کہیں ذکر تک نہیں ہو رہا، بچپن میں ایک بات سکھائی جاتی ہے کہ ''لالچ بُری بلا ہے'' کاش سب اسے بڑی عمر تک یاد رکھا کریں تو ایسے مسائل سامنے نہ آئیں۔ لالچ نے ہی دانش کنیریا کا بھی روشن کیریئر ختم کرا دیا، انگلش کاؤنٹی سرکٹ میں انھیں ہیرو کا درجہ حاصل تھا مگر انھوں نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر کرکٹرز کو کرپشن کی جانب راغب کیا، وہ بھی ہمیشہ خود کو دودھ کا دھلا قرار دیتے رہے۔

کیس کی کوریج کے دوران ایک بار مجھے بھی لیگل نوٹس تک بھیجنے کی دھمکی دیدی مگر اب خود منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، ویسٹ فیلڈ واحد کرکٹر تھا جو ان کی باتوں میں آگیا اور جیل کی ہوا کھانا پڑی، دیگر کئی کرکٹرز نے بھی انگلینڈ میں ڈسپلنری سماعت کے دوران کنیریا کی جانب سے ''آفرز '' کا تذکرہ کیا تھا، سابق اسپنر کو شکر کرنا چاہیے کہ جیل جانے سے بچ گئے، وہ بھی اب باقی عمر کرکٹ سے دور رہیں تو مناسب رہے گا۔

2010 ء کے مشہور زمانہ اسپاٹ فکسنگ کیس کے بعد اب پاکستانی ٹیم آئندہ ماہ دوبارہ برطانیہ جا رہی ہے، سیکیورٹی کے ساتھ ویجیلنس آفیسر کو بھی بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا، وہ پلیئرزکی ہر حرکت پر نظر رکھے گا، آئی سی سی کے اینٹی کرپشن نمائندے بھی چیمپئنز ٹرافی کے دوران موجود ہوں گے، ہر انٹرنیشنل ایونٹ کی طرح یہ بھی سٹے بازوں کی توجہ کا مرکز ہو گا، برطانوی سرزمین پر بھارتی سٹے باز ویسے ہی خاصے فعال ہوتے ہیں، ایسے میں ہر ٹیم کے لیے اپنے پلیئرز کو پاؤنڈز کی کشش سے بچانا سخت چیلنج ہوگا، مذکورہ ٹور کے ون ڈے میچز کی کوریج کے لیے میں بھی انگلینڈ گیا تھا، وہاں کے عوام، میڈیا اور آفیشلز تمام ہی پاکستانیوں سے ناراض تھے۔

انھیں ہم سب سلمان، آصف اور عامر جیسے نظر آتے، وہ لارڈز جیسے گراؤنڈ کو کرپشن سے آلودہ کرنے پر سخت نالاں تھے، مالی نقصان کا ڈر نہ ہوتا تو سیریز ہی ختم کر دی جاتی، وہاں مقیم پاکستانیوں سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی رنجیدہ نظر آئے، ان کا کہنا تھا کہ تینوں کرکٹرز خود تو چلے گئے ہمارے لیے بدنامی چھوڑ دی، یہاں کے لوگوں نے ہمارا جینا حرام کردیا، ہر جگہ کرپٹ کہا جاتا ہے، مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ تین کرکٹرز کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا، گذشتہ دنوں چیئرمین بورڈ ذکا اشرف سے ملاقات کا اتفاق ہوا، ان کی بات سے متفق ہوں کہ ''اس ٹور میں پلیئرز کو کھلی چھوٹ دیدی گئی تھی، وہ مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومتے، کمروں میں انجان لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا مگر کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔

اب صورتحال ایسی نہ ہو گی، پلیئرز پر کڑی نظر رکھی جائے گی''۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ویسے اب کرکٹرز بھی ذہین اور نئی ٹیکنالوجی سے واقف ہیں، منیجر کی فراہم کردہ سم کو تو کم ہی استعمال کیا جاتا ہے، اسکائپ، وائبر اور واٹس ایپ سب کے موبائل فونز میں موجود اور انہی کے ذریعے دوستوں و اہل خانہ سے رابطہ رہتا ہے، اب کون کس سے رابطے میں ہے اس کا ریکارڈ رکھنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہو گا، ٹیم انتظامیہ کیلیے یہ ٹور ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، انگلش اور بھارتی میڈیا کی پلیئرز کی ہر حرکت پر نظر ہو گی، وہ جہاں جائیں گے چٹ پٹی رپورٹس کے متلاشی انڈرکور رپورٹرز تعاقب میں ہوں گے، ایسے میں کھلاڑیوں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا، پرستاروں سے ملنے میں بھی احتیاط برتنی ہو گی کیونکہ کیا پتا کون کس ارادے سے ملنے آیا ہو، اسی صورت ایک کلین دورہ انگلینڈ ممکن ہو سکے گا۔

بورڈ کو اس اہم ٹور کے لیے ایک تجربہ کار میڈیا منیجر کا تقرر بھی کرنا چاہیے، دنیا بھر کے صحافی انگلینڈ آئے ہوئے ہوں گے انھیں سنبھالنا منیجر نوید اکرم چیمہ کے بس کی بات نہیں ہو گی ، گوکہ ان کے پاس موجود ایک فائل میں غیرملکی میڈیا کی ستائشی رپورٹس موجود ہیں مگر وہ ملکی صحافیوں کو زیادہ لفٹ نہیں کراتے، وہاں ہر قدم پر پاکستانی میڈیا کو کسی رابطے کی ضرورت ہو گی،نوید چیمہ کم ہی لوگوں کے فون اٹینڈ کرتے ہیں، ایسے میں صحافیوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کسی ماہر شخص کا تقرر نہ کیا گیا تو رابطے کے فقدان کی وجہ سے مسائل سامنے آئیں گے، بورڈ کو اس جانب سوچنا چاہیے۔

دورہ برطانیہ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان پیر کو ہونے والا ہے، شاہدآفریدی کی جگہ خطرات کی زد میں آگئی، یہ درست ہے کہ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے بولنگ میں کامیاب ثابت نہیں ہو رہے مگر دورہ جنوبی افریقہ کے دوران بیٹنگ فارم میں واپسی کی جھلک دکھا دی تھی، انگلش سرزمین پر وہ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتوا چکے، سازگار کنڈیشنز میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں انھیں اتنے مواقع دیے گئے ایک اور دینے میں کیا حرج ہے، ورنہ پھر شعیب ملک نے بھی کون سے تیر مار لیے کہ ہر ٹور کیلیے منتخب ہو جاتے ہیں۔

آفریدی کے بارے میں ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایسے کپتان جن کے کیریئر سنوارنے میں بطور قائد انھوں نے اہم کردار ادا کیا، اب وہی انھیں دودھ میں مکھی کی طرح ٹیم سے باہر کرنا چاہتے ہیں،جنوبی افریقہ کیخلاف مختصر طرز کی سیریز کے لیے جب انھیں بھیجا جا رہا تھا تو منیجر نوید اکرم چیمہ نے فون کر کے سلیکٹرز تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ آفریدی کو نہ بھیجا جائے، اس کے باوجود سلیکشن کمیٹی اپنے فیصلے پر اڑ گئی تھی، اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، مصباح تو صاف کہہ چکے کہ آفریدی ٹیم میں نہیں چاہیے، اور تو اور بعض ناکامیوں کا ملبہ بھی تن تنہا آل راؤنڈر پر ڈال دیا گیا ہے۔

آفریدی کے ایک قریبی دوست نے ارباب اختیار کو دلائل کے ساتھ قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے انھیں ڈراپ کرنا نقصان دہ ثابت ہو گا دیکھیں وہ یہ بات سمجھ پاتے ہیں یا نہیں۔ مصباح اور نوید چیمہ یہ نہیں مانیں گے کہ انھوں نے آل راؤنڈر کے حوالے سے یہ بات کی ہے لیکن ان میں اتنا حوصلہ ہونا چاہیے کہ جو کہیں سینہ ٹھوک کر اس کا اعتراف بھی کریں، یہاں ہر بات کا ملبہ میڈیا پر گرا دیا جاتا ہے کہ اس نے غلط کر دیا، محمد حفیظ بھی ''ذرائع'' کے حوالے سے بعض رپورٹس شائع کرنے پر مجھ سے شکوہ کر چکے ، مگر قارئین یہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ میڈیا میںآنے والی ہر بات جھوٹ نہیں ہوتی، ورنہ آصف، سلمان اور عامر جیل نہ جاتے اور اب بھی پیسے کے لیے نو بالز کر رہے ہوتے۔ ہم سب کا ایک ہی مقصد پاکستانی کرکٹ کی بھلائی ہے، ایسے میں نظرآنے والی خامیوں کی نشاندہی پر بُرا نہیں ماننا چاہیے۔

[email protected]