شعیب اختر کا فاسٹ بولرز کو چیلنج 11 برس سے برقرار

2002میں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ100میل کی رفتار سے گیند کااعزاز پایا.


Sports Desk April 28, 2013
2002میں کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ100میل کی رفتار سے گیند کااعزاز پایا۔ فوٹو: فائل

سابق اسپیڈ مرچنٹ شعیب اختر کا فاسٹ بولرز کو چیلنج 11 برس سے برقرار ہے،27 اپریل2002 میں انھوں نے کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق 11برس قبل 27 اپریل کو شعیب اختر 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرانے والے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کی پہلے فاسٹ بولر بنے، انھوں نے یہ کارنامہ لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں انجام دیا تھا، اس روز وہ اپنی رفتار کے عروج پر تھے، گیند ان کے ہاتھوں سے گولی کی طرح بیٹسمین کی جانب لپک رہی تھی، انھوں نے نمبر تین بیٹسمین کریگ میکملن کو 99.3 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی، اسٹیڈیم میں نصب اسپیڈ گن نے شعیب اختر کی اگلی گیند کی رفتار 100.04 ایم پی ایچ ( 161 کلومیٹر فی گھنٹہ) کا اعلان کیا۔

اس وقت کے پی سی بی میڈیا منیجر خالد بٹ نے اس حوالے سے خصوصی طور پر پریس ریلیز جاری کی مگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس ریکارڈ کو تسلیم نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بولنگ اسپیڈ سے متعلق کوئی ریکارڈ مرتب ہی نہیں کیا،اسپیڈ گن کے معیار پر بھی سوال اٹھایا گیا تاہم اسپانسر ادارے سائبر نیٹ نے رفتار ناپنے والے اپنے اس آلے کو بالکل درست قرار دیا، بعد میں ریکارڈ کو آفیشل تسلیم کر لیا گیا تھا۔



اس سے قبل سب سے تیز رفتار گیند کرنے کا اعزاز جیف تھامسن کے پاس تھا، اپنی کتاب'آرٹ آف فاسٹ بولنگ' میں ڈینس للی نے کہا کہ 1975 میں جیف تھامسن نے 99.7 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی مگر یہ کسی انٹرنیشنل یا ڈومیسٹک میچ میں نہیں کی گئی تھی۔

شعیب اختر نے ایک برس بعد ایک بار پھر یہ کارنامہ ورلڈ کپ 2003 میں 22 فروری کو انگلینڈ کے خلاف کیپ ٹائون میں کھیلے گئے میچ میں انجام دیا، انہوں نے اس بار 161.3 کے پی ایچ (100.23 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے گیند کی تھی۔ اس بارے میں انھوں نے اپنی کتاب' کنٹرورشلی یورز' میں کہا کہ 'میں وہ پہلا بولر ہوں جس نے 100 میل فی گھنٹہ کی حد ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ پار کی، میں 100.2 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے کا آفیشل ریکارڈ بھی اپنے نام کے آگے درج کراچکا ہوں'۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں پی سی بی کی جانب سے 'کنگ آف اسپیڈ' کے نام سے تیز رفتار فاسٹ بولرز کی تلاش شروع کی گئی، ہزاروں نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا مگر کوئی 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک بھی نہیں پہنچ پایا۔