بلوچستان میں ووٹ نہ ڈالنے کی مہم چلائی جا رہی ہے بزنجو

صوبے کے حقوق کی بات نہ کی تو لوگ کہیں گے یہ الیکشن بے معنی ہیں،مظہرعباس.


Monitoring Desk April 29, 2013
خوفزدہ ووٹرز کو باہر لانے والاامیدوارجیتے گا،رضارحمن، ٹودی پوائنٹ میں گفتگو. فوٹو: فائل

بلوچ رہنما میرحاصل بزنجو نے کہا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال بہت خراب ہے،دوسرے صوبوں کی نسبت بلوچستان میں انتخابی عمل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ووٹ نہ ڈالنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

یہی صورتحال رہی توٹرن آؤٹ بہت کم رہے گا،کچھ جگہ پر یہ اتنا کم ہوسکتا ہے کہ شاید انتخابات ہی دوبارہ کرانا پڑیں۔ اتوار کو ایکسپریس نیوز کے پروگرام '' ٹودی پوائنٹ'' الیکشن اسپیشل کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگومیں انھوں نے کہا کہ صوبے میں سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور انتخابی عمل میں شریک دوسرے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ اگر سیکیورٹی دی گئی اور لوگوں نے ووٹ ڈالے تو الیکشن کے بعد حالات بدل سکتے ہیں، کم از کم پچھلی حکومتوں نے جو گند ڈالا ہے اسے صاف کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ بھی درست ہے صوبے کو اضافی فنڈ ملے مگرحکومت نے انھیں برباد کیا۔

حاصل بزنجو نے کہا کہ اگر اس بار قوم پرست جماعتیں کامیاب ہوتی ہیں تو پھر ہم لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، مسائل بھی حل کرینگے۔ یہ اسمبلی مختلف دکھائی دے گی،جس میں بلوچستان کے حقوق کیلیے آواز بھی اٹھے گی۔ ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز مظہر عباس نے کہا کہ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں تمام جماعتیں حکومت میں ہوتی ہیں،جہاں سب حکومت میں ہوں گے وہاں حقوق کی آواز کون بلند کرے گا۔ کرپشن کے حوالے سے سب سے زیادہ سوالات بلوچستان کی حکومت اوراسمبلی پر اٹھتے ہیں۔

قوم پرست جماعتیں بھی ماضی میں کامیاب ہوئی ہیں مگر کیاصوبے کے حالات ٹھیک ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن ہو بھی جائیں اور صوبے کے حقوق کی بات نہ کی گئی تو لوگ آواز اٹھائیں گے کہ یہ الیکشن بے معنی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کوئٹہ کے بیورو چیف رضا رحمن نے کہا کہ صوبے میں اس بار بھی مخلوط حکومت بنے گی۔ دھماکوں کے باعث انتخابی جوش و خروش مدھم پڑ گیا ہے۔

امیدوار اورووٹرزخوفزدہ ہیں تاہم جو بھی امیدوار ووٹروں کو باہر لانے میں کامیاب ہو گیا جیت اس کی ہو گی۔ووٹر باہر نہ نکلا تو ٹرن آؤٹ 2008 ء کے انتخابات سے بھی کم ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مخلص ہوتی توصوبے کے مسائل حل ہو سکتے تھے اور خامیاں دور ہو سکتی تھیں۔ صدر زرداری نے ایک بار بھی بلوچستان آ کر سیاستدانوں اورعوام سے رابطے کی کوشش نہیں کی،عوام کو سوچنا ہو گاوہ کن لوگوں کو ووٹ دے رہے ہیں۔