خیرپور نوابشاہریلوےٹریک پر دھماکے کوٹری میں ٹرین پر فائرنگ 2 ہلاک

دہشتگردوں نے عوام ایکسپریس اور گاڑیوں پر گولیاں برسائیں، پولیس اہلکار اور فوجی زخمیوں میں شامل


دہشتگردوں نے عوام ایکسپریس اور گاڑیوں پر گولیاں برسائیں، پولیس اہلکار اور فوجی زخمیوں میں شامل،حیدرآباد میں ہوٹل پر فائرنگ سے نوجوان ہلاک فوٹو: فائل

نوابشاہ اور گمبٹ کے قریب اتوار کو ریلوے ٹریک کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا، ان واقعات میں ٹریک کو تو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب کوٹری میں عوام ایکسپریس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر 2 افراد ہلاک ہوگئے۔ نواب شاہ سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق نواب شاہ میں خوفناک تخریب کاری کی کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس تباہی سے بال بال بچ گئی۔ نامعلوم تخریب کاروں نے نواز ڈاہری ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک اڑا دیا، بم میں سی فور اور آرڈی ایکس بارود استعمال کیا گیا۔

واقعہ اتوار کی صبح ساڑھے 11 بجے پیش آیا جب نواب شاہ کے قریب نواز ڈاہری ریلوے اسٹیشن کے قریب اپ ریلوے ٹریک کو بم دھماکے سے تباہ کردیا گیا، دھماکا شالیمار ایکسپریس ٹرین کے گذر جانے کے تھوڑی دیر بعد ہوا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، ریلوے پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیاں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج انسپکٹر راجا آصف نے بتایا کہ بم 3 کلو وزنی تھا اور ریلوے ٹریک کے نیچے رکھا گیا تھا، بم دھماکے کی وجہ سے ریلوے ٹریک کا ساڑھے 4 فٹ ٹریک کا ٹکڑا تباہ ہوگیا، دھماکے کی وجہ سے ڈھائی فٹ گہرا اور ساڑھے 4 فٹ چوڑا پڑ گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ریلوے ٹریک پر جتنے بھی بم دھماکے ہوئے تھے ان میں سی فور اور آرڈی ایکس کبھی بھی استعمال نہیں ہوا۔



 

ایکسپریس نیوز کے مطابق گمبٹ کے قریب بھی ریلوے ٹریک پر دھماکے سے ٹریک کا ایک فٹ حصہ اڑا دیا گیا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکے کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو گئی اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ کوٹری سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق واقعات کے مطابق اتوار کی شام پشاور سے کراچی جانے والی عوام ایکسپریس پر کوٹری ریلوے اسٹیشن کے قریب موٹر سائیکل سوار 3 نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ٹرین میں سوار حاتم علی اورمحمد نواز زخمی ہوگئے۔ چلتی ٹرین پر فائرنگ کے بعد مسلح موٹرسائیکل سواروں نے سڑک پر موجود افراد پر بھی اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سوزوکی پک اپ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا نوجوان محمد امجد اور برابر والی سیٹ پر بیٹھا ہوا گلریز گجر بھی زخمی ہوگیا۔

چاروں زخمیوں کو پہلے طبی امداد کے لیے تعلقہ اسپتال کوٹری پہنچایا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاکر امجد جاں بحق ہوگیا جبکہ شدید زخمیوںحاتم علی اورگلریز گجر کو سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ زخمی حاتم علی کاتعلق لاڑکانہ سے ہے اور وہ لاڑکانہ پولیس میں کانسٹیبل ہے،ان دنوں وہ رزاق آباد پولیس ٹریننگ کالج کراچی میں کمانڈو کورس کررہا ہے۔ دوسرے زخمی محمد نوازکا تعلق پاک فوج سے بتایا جارہا ہے جوکہ تعلقہ اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ متوفی محمدامجد کا تعلق سرفراز کالونی گلی نمبر7سے ہے جوکہ بیکری کی سپلائی گاڑی کا ڈرائیور ہے۔ دوسری جانب لطیف چوک پر فائرنگ میں عبدالغنی قریشی جاں بحق ہوگیا۔ نامعلوم افراد نے قومی شاہراہ پر ایک شہزور ٹرک اور کوٹری پل کے قریب ایک بس بھی نذر آتش کر دی شہر میں پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔

ایس ایس پی جامشورو خرم وارث کا کہنا ہے کہ یہ واقعات خیر پور ناتھن شاہ میں 2 قوم پرستوں کی لاشیں ملنے کے بعد رد عمل کے طور پر رونما ہوئے ہیں۔ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد کے پکوڑا اسٹاپ کے قریب مسلح افراد نے ماشااللہ آئس کریم شاپ پرفائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دکان مالک کا بیٹا رحمن اللہ اور دکان ملازم امتیاز ولد حیدر شیر شدید زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر سول اسپتال حیدرآباد لے جایا گیا تاہم، رحمن اللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دم توڑ گیا جبکہ زخمی امتیاز کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ عینی شاہد عرفان کے مطابق 2 موٹرسائیکلوں پر سوار 6 مسلح افراد آئے اور انھوں نے دکان ملازم کو بلا کر ان کی قوم پوچھی جس کے بعد فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔