کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا

11ماہ میں4.82ارب ڈالراضافہ،جی ڈی پی کا5.5فیصد، اسٹیٹ بینک نے پورے سال میں 5 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا


Business Reporter June 21, 2018
درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی عدم توازن بڑی وجہ،مئی میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کو 1ارب 93کروڑ ڈالر کاخسارہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان کا رواں مالی سالی کے ابتدائی 11ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16ارب ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15ارب 96کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 11ارب 14کروڑ ڈالر تھا، اس طرح زیرتبصرہ مدت میں جاری کھاتے کا خسارہ 4ارب 82کروڑ ڈالر بڑھ گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے مئی 2018 میں برآمدات 13 فیصد نمو کے ساتھ 22 ارب 78کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 16.4فیصد اضافے سے 50ارب 72 کروڑ ڈالر رہیں۔ اس طرح 11ماہ کی تجارت میں 27ارب 93کروڑ 50لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا، اشیاو خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 32ارب 66کروڑ 70لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، ترسیلات کی مالیت 17ارب 51کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 18ارب ڈالر رہی۔

اعدادوشمار کے مطابق مئی 2018کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ 1ارب 93 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پورے مالی سال 2017-18میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر رہنے کی توقع ظاہر کی تھی تاہم درآمدات میں نمایاں اضافہ کی وجہ سے درپیش تجارتی خسارہ کے سبب 11 ماہ کے دوران ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے 11ماہ کا خسارہ جی ڈی پی کا 4 فیصد تھا۔

مقبول خبریں