بہ زبانِ یوسفی

’’آخر تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟‘‘


June 21, 2018
’’آخر تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟‘‘ فوٹو : فائل

LONDON: (مشتاق احمد یوسفی کی کتاب زرگزشت سے کچھ اقتباسات)

٭ہمارے فلرٹیشن کا آغاز

کراچی میں براہ کھوکھراپار وارد ہوئے ہمیں 20 گھنٹے ہوئے تھے۔ وہ صبح نہیں بھولے گی جب ریلوے لائن کے کنارے ایک چھوٹی سی سفید چمکتی تختی پر پہلے پہل ''پاکستان'' لکھا نظر آیا تو اسے ہاتھ سے چھو چھو کر دیکھا تھا۔ پھر مٹی اٹھاکر دیکھی۔ السلام علیکم کہتے ہوئے سندھی ساربان دیکھے۔ ہندوستان کے نوٹ پر پہلی دفعہ حکومت پاکستان چھپا ہوا دیکھا اور پھر ریگزار راجستھان میں پرکھوں کی قبریں، وہ بولی جو ماں کے دودھ کے ساتھ وجود میں رچی بسی تھی اور اپنے پیاروں کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے، خیرگیٔ امروز میں دھند لاتے چلے گئے۔

٭مری بارکیوں دیر اتنی کری

مناباؤ کے اجاڑ اسٹیشن پر دو راتیں تاروں بھرے آسمان کے نیچے گزارنے سے گلا خراب ہوگیا تھا اور محسوس ہوتا تھا گویا حلق میں کوئی بدچلن مینڈک پھنس گیا ہے۔ ذرا منہ کھولتے تو ٹَرّانے لگتا۔ میکلوڈروڈ پر بینک کا ہیڈ آفس تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی، ہم نے ایک چَھپی ہوئی پرچی پر اپنا نام لکھ کر جنرل منیجر مسٹر ڈبلو۔ جی۔ ایم اینڈرسن کو بھجوایا۔ تقریب بہر ملاقات کے خانے میں باریک حروف میں ''سرکاری'' لکھ دیا، جس سے ہماری مراد نجی یعنی بسلسلہ ملازمت تھی۔ اور آخر میں، جلی حروف میں : ''فرستادہ... مسٹر ایم۔ اے۔ اصفہانی، چیئرمین بینک ہٰذا'' سفارش میں لپٹی ہوئی یہ دھمکی ہمارے کام نہ آئی، اس لیے کہ ہمارے بعد آنے والے ملاقاتی جو ہمارے حسابوں ہم سے زیادہ خوش پوش اور حیثیت دار نہ تھے، باری باری شرف باریابی حاصل کرکے رخصت ہوگئے اور ہم سر جھکائے سوچتے ہی رہ گئے کہ مری بارکیوں دیر اتنی کری؟

ڈیڑھ دو گھنٹے بینچ پر انتظار ساغر کھینچنے کے بعد جی میں آئی کہ لعنت بھیجو۔ ایسی ذلت کی نوکری سے بے روزگاری بھلی۔ دیر ہے، اندھیر بھی ہوگا۔ چل خسرو گھر اپنے سانج بھئی چوندیس۔ مرزا غالب بھی تو فارسی مدرس کی سو روپے ماہوار اسامی کے لیے پالکی میں بیٹھ کر مسٹر ٹامسن کے پاس انٹرویو کے لیے گئے تھے، لیکن الٹے پھر آئے۔ اس لیے کہ وہ ان کی پیشوائی کو باہر نہیں آیا۔ کہاروں سے کہا بس ہوچکی ملاقات، پالکی اٹھاؤ۔ ہم بھی استاد کے تتبع میں واپس پالکی میں سوار ہورہے تھے کہ اندر والا بولا، ہوش میں آؤ۔ تم کہاں کے دانا ہو، کس ہنر میں یکتا ہو؟ مرزا تو شاعر آدمی ٹھہرے۔ بندۂ ناخدا! مزے سے بیٹھے کشکول بجاتے رہو۔ تین برس تم ڈپٹی کمشنر رہے۔ سچ کہو کبھی کسی اہل غرض سے سیدھے منہ بات کی؟

٭کچھ نے کہا چہرہ ترا

کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہم نے اپنی دائیں ہتھیلی کا پسینہ پونچھ کر ہاتھ مصافحہ کے لیے تیار کیا۔ سامنے کرسی پر ایک نہایت با رعب انگریز نظر آیا۔ سر بیضوی اور ویسا ہی صاف اور چکنا، جس پر پنکھے کا عکس اتنا صاف تھا کہ اس کے بلیڈگنے جاسکتے تھے۔ بھرے بھرے چہرے پر سیاہ فریم کی عینک۔ کچھ پڑھنا یا پاس کی چیز دیکھنی ہو تو ماتھے پر چڑھاکر اس کے نیچے سے دیکھتا تھا، دور کی چیز دیکھنی ہو تو ناک کی پھننگ پر رکھ کر اس کے اوپر سے دیکھتا تھا۔ البتہ آنکھ بند کرکے کچھ دیر سوچنا ہو تو ٹھیک سے عینک لگالیتا تھا۔ بعد میں دیکھا کہ دھوپ کی عینک بھی ناک کی نوک پر ٹکائے، اس کے اوپر سے دھوپ کا معائنہ کرتا ہوا بینک آتا جاتا ہے۔ آنکھیں ہلکی نیلی جو یقیناً کبھی روشن روشن رہی ہوں گی۔ ناک ستواں ترشی ترشائی۔ نچلا ہونٹ تحکمانہ انداز سے ذرا آگے کو نکلا ہوا۔

٭ہمارا سن پیدائش

اس نے چھنگلیا کے اشارے سے ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ ہم تعمیلاً بیٹھنے والے ہی تھے کہ ناگاہ اسی کرسی کی گہرائیوں سے ایک کتا اٹھ کھڑا ہوا اور ہمارے شانوں پر دونوں پنجے رکھ کر ہمارا گرد آلود منہ اپنی زبان سے صاف کیا۔ ''مائی ڈاگ ازویری فرینڈلی'' کتے سے تعارف کرانے کے بعد اس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا۔ کیسے ہو؟ کون ہو؟ کیا ہو؟ اور کیوں ہو؟

سوائے آخری سوال کے ہم نے تمام سوالات کے نہایت تسلی بخش جواب دیے۔

''تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس بینک کو میں چلا رہا ہوں، مسٹر اصفہانی نہیں۔ خیر۔ تم نے معاشیات پڑھی ہے؟'' اس نے کہا۔

''نو سر!''

''حساب میں بہت اچھے تھے؟''

''نو سر! حساب میں ہمیشہ رعایتی نمبروں سے پاس ہوا، حالانکہ انٹرمیڈیٹ سے لے کر ایم اے تک فرسٹ ڈویژن فرسٹ آیا۔''

''حساب میں فیل ہونے کے علاوہ تمہارے پاس اس پیشے کے لیے اور کیا کوالی فیکیشن ہے؟''

''میں نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے۔''

''ہا ہا ہا! تمہارا سوشل بینک گراؤنڈ کیا ہے؟ کس خاندان سے تعلق ہے؟''

''میرا تعلق اپنے ہی خاندان سے ہے۔''

''سچ بولنے کا شکریہ''

اس نے ہماری درخواست میں سن پیدائش دیکھ کر اندوہ گیں لہجے میں کہا کہ ''بائی دی وے، جس سال تم پیدا ہوئے اسی سال میرے باپ کا انتقال ہوا۔ بڑا منحوس تھا وہ سال!''

٭ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

''رہنے والے کہاں کے ہو؟''

ایک دفعہ تو جی میں آئی کہ میرِ بے دماغ کی طرح کہہ دیں

کیا بودوباش پوچھو ہو یورپ کے ساکنو!

لیکن یہ لکھنؤ کا مشاعرہ نہیں، ملازمت کا انٹرویو تھا۔

''جے پور... اجمیر کے پاس ہے۔'' ہم نے معذرتی لہجے میں اس شہر کا نام لیا جو کبھی عالم میں انتخاب تھا۔

OH! YES! THE PINK CITY! کیا بات ہے! برٹش ریزیڈنٹ نے ہاتھیوں کی لڑائی دکھائی تھی۔ برما میں ہم دونوں کا ایک ساتھ کورٹ مارشل ہوا تھا۔ میں نے دیکھا ہے تمہارا جے پور۔ سارے شہر میں سڑک کے دونوں طرف ہر عمارت کا یک ساں زعفرانی رنگ، اونچے طُرّے والے راجپوتی صافے اور ان سے بھی اونچی مونچھیں اور ہر دو کو سونڈ سے سلام کرتے ہوئے ہاتھی۔

''تم راجپوت ہو؟''

''آدھا۔ نانا تھے، نو مسلم راٹھور۔ طوطے کی چونچ جیسی ناک والے راٹھور''

''بالکل لال؟''

''نہیں۔ خمدار۔''



٭مردانہ کھیلوں سے ہماری دل چسپی

''آخر تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟''

ہم کافی نروس ہوچکے تھے۔ دو تین دفعہ زور لگانے کے بعد جو آواز اچانک ہمارے منہ سے نکلی وہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنی تھی۔

شاید اسے بھی ترس آگیا۔ اب کے آسان سوال کیا۔ ''جوانی، میرا مطلب ہے طالب علمی کے زمانے میں کن کھیلوں سے دلچسپی رہی؟''

''کیرم اور لوڈو''

''میرا مطلب مردانہ کھیلوں سے تھا۔''

ہمارا یہ خانہ بالکل خالی تھا۔ پانچویں جماعت میں البتہ سالانہ اسپورٹس کی دوڑ میں ہمارا اکیسواں نمبر آیا تھا۔ دوڑ میں اتنے ہی لڑکے شریک ہوئے تھے۔ کچھ دن فٹ بال سے بھی سرمارا۔

ایک دن ہم نے تین فٹ اچھل کر ''ہیڈ'' کیا تو جس گول شے سے ہم نے آنکھ بند کرکے پوری قوت سے ٹکر لی وہ دیوقامت جسونت سنگھ چوہان کا مُنڈا ہوا سر نکلا۔ وہ شام کو ٹھنڈائی (بھنگ) پی کر فٹ بال کھیلتا تھا۔ ہماری ناک کا بانسہ اور دل ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔

ہم نے عینک اتار کر مردانہ کھیل سے اپنی دیرینہ وابستگی کا ثبوت اینڈرسن کو دکھایا۔ ناک کی خمیدہ ہڈی دیکھ کر بہت ہنسا۔ کہنے لگا تمہارا ایک کان بھی ٹیڑھا لگا ہوا ہے۔

''اور تم RIMLESS GLASSES کیوں لگاتے ہو؟ تمہاری صورت سراسٹیفرڈ کرپس سے ملتی ہے۔''

''ذرہ نوازی کا شکریہ!'' ہم نے خوش ہو کر کہا۔

''مجھے اس باسٹرڈ کی صورت سے نفرت ہے۔''

٭تو پھر اب کیا جگہ کی قید

ہم ابھی اس چوٹ کو ٹھیک سے سہلا بھی نہ پائے تھے کہ استفسار فرمایا ''کنوارے ہو؟''

''نو سر!''

''کتنی بیویاں ہیں؟'' اس نے سوال کرکے دونوں ہونٹ بھینچ لیے۔

''ایک ۔''

''مجھے تو چار پر بھی اعتراض نہیں۔ لیکن چار بیویوں میں قباحت یہ ہے کہ چار دفعہ طلاق دینی پڑتی ہے۔''

بھلا وا دے کر پھر وہی سوال دہرایا،''سفارش اپنی جگہ، لیکن بینک میں کیوں ملازمت کرنا چاہتے ہو؟ بینکر کے کیا فرائض اور ذمے داریاں ہوتی ہیں؟''

یہ سوال سنتے ہی ہمارے ہاتھوں کے روایتی طوطے دوبارہ اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ پھر نہ لوٹے۔

بینکاری کے اسرار و روموز تو کجا، ہم نے تو زندگی میں کسی مسلمان بینکر کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

مسٹر اینڈرسن نے آخری مرتبہ بڑی دھیرج سے سوال کیا، ''تم اس پیشے میں کیوں آنا چاہتے ہو؟ میں یہ سوال تمہیں انٹرویو میں فیل کرنے کے لیے نہیں پوچھ رہا ہوں۔ اگر یہی منشا ہوتا تو میں یہ بھی پوچھ سکتا تھا کہ بتاؤ اس کتے کے والد کا کیا نام ہے؟ ہو! ہو! ہو!''

''آج سے تم خود کو بینک کا COVENANTED OFFICERسمجھو''

اور یوں ہماری زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا، بل کہ بقول پروفیسر قاضی عبدالقدوس، صفحہ پلٹنے کی آواز بھی دور دور تک سنائی دی۔