متبادل۔۔۔۔
جب تک ہمارے ملک میں اشرافیائی جمہوریت جاری رہے گی یہ جمہوریت عوام کو کچھ نہیں دے گی۔
انتخابات سر پرکھڑے ہیں اور ناگزیر بھی نظر آرہے ہیں لیکن عوام سر پر ہاتھ رکھے حیرت سے سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنا ووٹ کس کو دیں، ان کے سامنے کچھ تو بار بار آزمائے ہوئے وہ چہرے ہیں جو قوم کی اربوں روپوں کی رقم کھاکر مسیحائی اور مفاہمت کا نقاب اوڑھے کھڑے ہیں۔ کچھ وہ نئے کھلاڑی ہیں جن کے دائیں بائیں وہی چہریکھڑے ہیں جو ڈوبتی کشتیوں سے چھلانگ لگاکر نئی کشتی کے مسافر ہی نہیں بلکہ ملاح بنے بیٹھے ہیں۔
اس بدترین اور مایوس کن صورت حال سے نکلنے کے لیلے 63-62 کی طرف عوام امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ شاید اس چھلنی سے کچھ پاک صاف لوگ چھن کر باہر آئیں لیکن جن لوگوں کے ہاتھوں میں یہ چھلنیاں تھمائی گئی تھیں، ان کی کرامات کا یہ عالم ہے کہ اس چھلنی سے کرپشن، جھوٹ، بدنیتی، بدعنوانی، فریب اور عدالتوں کے ملزم تو چھن کر باہر آگئے ہیں اور بے چارے وہ لوگ اس چھلنی میں اٹک گئے ہیں جو اول کلمہ نہ سنا سکے جو دوسرا اور تیسرا کلمہ نہ سنا سکے جو یہ نہ بتا سکے کہ وہ کس بیوی کے پاس کتنا وقت گزارتے ہیں؟ سارا ملک فخر الدین جی ابراہیم کو فیئر اینڈ فری الیکشن کی ضمانت سمجھ رہا تھا لیکن فخرالدین نے جن لوگوں کے ہاتھوں میں آئین کی شق 63-62 کی چھلنی تھمائی تھی، انھوں نے اس کا درست استعمال نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن نے انتخابات پر سو فیصد منافع کی سرمایہ کاری کرنے والوں کو لگام ڈالنے کے لیے 20 لاکھ سے زیادہ سرمایہ کاری نہ کرنے کی پابندی لگائی تھی اور حکم دیا تھا کہ وہ ہر روز الیکشن پر اٹھنے والے اخراجات سے الیکشن کمیشن کو باخبر رکھیں لیکن اس باخبری کا عالم یہ ہے کہ 20 لاکھ سے زیادہ کی رقم ایک دن میں خرچ ہوتی دیکھی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پارٹیوں کے جھنڈے پارٹی رہنماؤں کی تصویر کی نمائش پر پابندی لگائی تھی کہ اس طرح ذاتی اور جماعتی پبلسٹی کے ذریعے ووٹروں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں سے افراد اور جماعتوں کو روکا جائے لیکن سارا شہر بینروں، جھنڈوں اور رہنماؤں کی تصویروں سے جگمگا رہا ہے۔ جعلی ڈگریوں بینک کے اربوں کے قرضوں کے ملزم دھڑا دھڑ دھل دھلا کر عوام کے سامنے آرہے ہیں اور بے چارے عوام ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔
الیکشن کی ناگزیریت کا عالم یہ تھا کہ بڑے بڑے ''عالم و فاضل'' الیکشن کی ناگزیریت پر ایسے مدلل مقالے لکھ رہے تھے کہ اگر 11 مئی کو الیکشن نہ ہوئے تو قیامت آجائے گی اور ان مقالہ نگاروں کے علم میں یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس قرب قیامت کے جلو میں جو کانے دجال کھڑے ہیں وہ سب وہی ہیں جو اپنی اپنی باریوں پر اس ملک کے اٹھارہ کروڑ سیاسی ہاریوں کے جسموں سے کپڑے نوچتے رہے ہیں۔ اس ملک کا ایک ایک شہری انتخابات چاہتا ہے لیکن وہ اب 65 سال سے پھیلے ہوئے اس انتخابی جال سے باہر نکل کر انتخابات چاہتا ہے جن کا نتیجہ ہمیشہ قذاقوں اور چہروں کی تبدیلی کے علاوہ کچھ نہ نکل سکا۔ یہ ایک آخری امید تھی کہ شاید 63-62 کی چھلنی سے چھن کر کچھ عوام دوست مخلص اور ایماندار لوگ باہر آئیں لیکن اس چھلنی ہی کو اس طرح تار تار کیا گیا کہ وہ کرپشن کے ہاتھیوں کو تو نہ روک سکی البتہ غریب طبقات کے کچھ لوگ اپنے آپ کو امین اور صادق ثابت نہ کرسکے۔
رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے یا عوام کو اپنی مصنوعی مقبولیت دکھانے کے لیے بڑے بڑے جلسے کیے جارہے ہیں جن پر کروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور دیہاڑی دار عوام ہاریوں، کسانوں اور مریدوں کو ہانک کر ان جلسوں جلوسوں میں لایا جارہا ہے۔ لیکن اس حقیقت کو نظرانداز کیا جارہا ہے کہ اصل فیصلہ کرنے والے وہ آٹھ کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں جو ان جماعتوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی آپشن، کوئی متبادل نہیں جس کو وہ اپنا کہہ سکیں جس پر انھیں اعتماد ہو، جس سے وہ یہ امید کرسکیں کہ ان کا ووٹ ضایع نہیں جائے گا۔
ہمارے محترم الیکشن کمیشن کی جانب سے 63-62کے حشر نشر کے بعد چینلوں پر یہ تنبیہہ دکھائی جارہی ہے کہ جعلی ووٹ ڈالنا جرم ہے ووٹروں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنا جرم ہے ووٹروں سے مذہب یا فرقوں کے نام پر ووٹ مانگنا جرم ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں حیرت ہے کہ 63-62 کی دھجیاں اڑانے والے بھلا ان چھوٹے موٹے جرائم کو کس طرح خاطر میں لائیں گے اور کس طرح ہمارے فخرالدین جی ابراہیم ان عادی مجرموں کو ان جرائم سے روک سکیں گے؟
جمہوریت کو سیاسی ارتقاء کی تاریخ کا ایک بہتر پڑاؤ تو کہا جاسکتا ہے اسے آخری منزل نہیں کہا جاسکتا۔ اس تاویل کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جمہوریت کا مقصد کیا ہے؟ بلاشبہ جمہوریت کا واحد مقصد یا سب سے بڑا مقصد عوام کی زندگی کو اس مقام پر لانا ہے جہاں پہنچ کر وہ غربت، بھوک، بیماری، جہالت، بے روزگاری جیسی لعنتوں سے چھٹکارا پالیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جیسے پسماندہ ملکوں ہی کی اشرافیائی جمہوریت ہی نہیں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی جمہوریت نے اس سب سے بڑے مقصد کو حاصل کرلیا ہے؟ کیا دنیا بھوک، بیماری، غربت و افلاس اور بیکاری کی لعنتوں سے آزاد ہوگئی ہے؟ اگر ہوگئی ہے تو پھر میڈیا گلا پھاڑ پھاڑ کر کیوں چیخ رہا ہے کہ ہماری آبادی کا چالیس فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔
ہماری قومی دولت کا 80 فیصد حصہ 2فیصد سیاسی قذاقوں کے ہاتھوں میں جمع ہوگیا ہے۔ ہمارا میڈیا چیخ رہا ہے کہ بھوک سے تنگ آئے ہوئے لوگ انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں، ہمارا میڈیا چلا رہا ہے کہ غریب لوگ بھوک سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے بچے بیچ رہے ہیں، ہمارا میڈیا بتا رہا ہے کہ بھارت جیسے جمہوری ملک میں لاکھوں کسان قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہوکر خودکشیاں کر رہے ہیں ، ہمارا میڈیا انکشاف کر رہا ہے کہ بھارت میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے 36 لاکھ سے زیادہ لڑکیاں اپنا جسم بیچ رہی ہیں، ہمارا میڈیا بتا رہا ہے کہ ہر سال کتنے لاکھ انسان بھوک کی وجہ سے موت کا شکار ہورہے ہیں، ہمارا میڈیا بتا رہا ہے کہ ہر سال کتنے لاکھ شیرخوار دودھ نہ ملنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ہمارا میڈیا انکشاف کر رہا ہے کہ ہر سال کتنے لاکھ عورتیں زچگی کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہیں، ہمارا میڈیا چیخ رہا ہے کہ ہر روز 7 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، ہمارا میڈیا سوئس بینکوں اور بینک نادہندگان کے کھربوں روپے ڈکار جانے کی خبریں سنا رہا ہے پھر بھی جمہوریت زندہ باد ہے، جمہوریت بلاشبہ سیاسی ارتقاء کی تاریخ کا ایک بہتر پڑاؤ ہے لیکن ہماری جمہوریت تو سرے سے جمہوریت ہی نہیں بلکہ بادشاہانہ نظام کا ایک نیا ایڈیشن ہے جہاں انتخابات عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک کروڑ کے سو کروڑ بنانے کے لیے لڑے جاتے ہیں ؟
جب تک ہمارے ملک میں اشرافیائی جمہوریت جاری رہے گی یہ جمہوریت عوام کو کچھ نہیں دے گی۔ اس اشرافیائی جمہوریت کے حامی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کو چلنے ہی نہیں دیا گیا اگر جمہوریت تسلسل سے جاری رہے تو پھر عوام کے مسائل حل ہوں گے اور جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہوں گی ہم ان اہل علم، اہل قلم کی ان نیک تمناؤں کے مخالف نہیں لیکن جب ہم پڑوسی ملک بھارت کی 65 سالہ جمہوریت کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے غربت، بھوک، افلاس، بے کاری، بیماری کے وہ اندوہناک مناظر آتے ہیں۔
جو ہماری جمہوریت کا لازمہ ہیں اور جس کا مختصر ذکر ہم نے اس کالم میں کردیا ہے۔ مسئلہ صرف یہی نہیں کہ ہماری اشرافیائی جمہوریت ہی میں وہ تمام بیماریاں ہیں جن کے مناظر ہم روز دیکھتے ہیں بلکہ جمہوریت کا وہ چہرہ بھی ہمارے سامنے ہے جو ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے ان ملکوں میں ہونے والے سروے میں غربت بے روزگاری قسطوں پر گزاری جانے والی زندگی اور 90/10 کی تقسیم کے جو مناظر سامنے آتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ اور پسماندہ جمہوریت کا چہرہ کم و بیش ایک جیسا ہی ہے۔
ہمارے عوام جمہوریت اور انتخابات سے صرف ڈیڑھ ہفتے کے فاصلے پر کھڑے ہیں ان کے ذہنوں میں اس اشرافیائی جمہوریت کے لیے نفرت کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں، ہمارے عوام اس لیے دل برداشتہ ہیں کہ انتخابات لڑنے والی ایلیٹ کے علاوہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں وہ اس لیے دکھی ہیں کہ اپنے ووٹ اپنے اختیار سے وہ اپنے معاشی قاتلوں ہی کو چن سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس دو فیصد سے بھی کم اشرافیہ کے علاوہ ملک میں کوئی متبادل کوئی مثبت طاقت نہیں؟ اگر ایسی کوئی مثبت طاقت اور متبادل ہے تو پھر اہل علم اہل قلم اس طاقت کو آگے لاکر جمہوریت کو بامعنی بنانے سے گریزاں کیوں ہیں؟ کیوں اشرافیائی جمہوریت کی قصیدہ خوانی میں لگے ہوئے ہیں؟