سینیٹ کمیٹی برائے دفاع اسد درانی کی کتاب پر شدید تحفظات مصنف کی طلبی کا عندیہ

پیپلز پارٹی کی تجویز پر ان کیمرا اجلاس، متنازع کتاب پر فوج کے موقف سے آگاہ کیا گیا


Numainda Express June 27, 2018
امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن یہ تعلقات یکطرفہ نہیں ہو سکتے، فوٹو: فائل

سینیٹ قائمہ کمیٹی دفاع کے اجلاس کی کارروائی کے دوران اراکین میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو بھارتی ہم منصب کے ساتھ متنازع کتاب لکھنے کے معاملے پر کمیٹی میں طلبی کا عندیہ دے دیا۔

اراکین کی اکثریت نے کتاب پر تحفظات ظاہر کردیے جبکہ قائمہ کمیٹی میں پاک فوج کے تحت اس متنازع کتاب کی تحقیقات کیلیے اپنی تجاویز سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے اچانک اجلاس ان کیمرا کرنے کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے کارروائی کو بند کمرے کے اجلاس میں منعقدکیا گیا اور میڈیا نمائندگان کو باہر جانے کا کہہ دیا گیا، اجلاس کمیٹی کے نئے چیئرمین سینیٹر اعظم سواتی کی صدارت میں ہوا، پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی تجویز پر اجلاس کو ان کیمرا کر دیا گیا اور میڈیا نمائندگان باہر چلے گئے اور بند کمرے کے اجلاس کے دوران وزارت دفاع کے متعلقہ اعلیٰ حکام نے متنازع کتاب لکھنے کے معاملے پر پاک فوج کے واضح اور دو ٹوک موقف سے کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا، ذرائع کے مطابق اراکین کی اکثریت نے متنازع کتاب پر اپنی اپنی تجویز وزارت دفاع کے حکام کو دیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے حال ہی میں امریکا میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا معاملہ قائمہ کمیٹی امور خارجہ کو ارسال کر دیا۔

ان کیمرا اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے چیئرمین اعظم سواتی نے کہا کہ اجلاس کے ہنگامی طور پر ایجنڈا ایٹمز طے کیے گئے اور وزارت دفاع کو تیاری کا مکمل موقع فراہم کیا گیا، آئندہ اجلاس 11,12 جولائی کو ہوگا، انھوں نے بتایا کہ وزارت دفاع کو ہم نے اپنی تجاویز سے آگاہ کر دیا، ان تجاویز کو وزارت دفاع ٹرم آف ریفرنس کے طور پر اختیار کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگ 100 فیصد متفق ہیں کہ اسد درانی نے یہ کتاب لکھ کرغلط کیا، اے پی پی کے مطابق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات تاریخ کے اہم موڑ پر ہیں، ہم امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن یہ تعلقات یکطرفہ نہیں ہو سکتے، سفارت کاری کو اچھے انداز میں چلانے کیلیے ضروری ہے کہ تجربہ کار لوگوں کو موقع دیا جائے اور پیشہ ور سفارت کاروں کو تعینات کیا جائے، اعظم سواتی نے کہا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی امورخارجہ کومناسب کارروائی کیلیے بھیجا جائے گا، ذرائع کے مطابق اجلاس میں نیب کے چیئرمین کو دھمکی دینے کی شدید مذمت کی گئی۔

مقبول خبریں