ن لیگ اور پی ٹی آئی میں انیس بیس کا فرق چل رہا ہےشیخ رشید

الیکشن کے بعد معلق پارلیمنٹ دیکھ رہا ہوں،آزاد امیدواروں کا بہت اہم کردارہوگا.


Monitoring Desk May 02, 2013
ایسا لیڈر آنا چاہیے جو سب کو شٹ اپ کہے،ٹودی پوائنٹ میں شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں انیس بیس کا فرق چل رہا ہے۔

میں نوجوانوں کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھ رہا ہوں جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی تھی، میں نے عمران خان سے کہا ہے کہ سارے بیروزگار نوجوان تمہاری طرف آچکے ہیں اب ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوگا جس پر انھوں نے کہاکہ ہم ضرور کریں گے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا بہت برا وقت ہے، کسی جماعت کی کوئی تیاری نہیں، الیکشن کے بعد زیادہ انتشار اور خلفشار دیکھ رہا ہوں، بلاول بھٹو زرداری کی سیاست میں دلچسپی نہیں، ان کی جگہ فاطمہ بھٹو کوساتھ لینا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد میں پہلے روز سے ایک ہنگ پارلیمنٹ دیکھ رہا ہوں، میں کوئی چمگادڑ نہیں ہوں کہ آنکھیں نہ کھولوں آزاد امیدواروں کا ایک بڑا رول دیکھ رہا ہوں، جو لو گ تجربہ کار سیاستدانوںکی بات کرتے ہیں انھوں نے کونسا قلعہ کا فتح کرلیا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اس مرتبہ تمام مذہبی جماعتوں نے اپنے عقیدے کے مطابق امیدوار کھڑے کردیے ہیں اگر اپنے عقیدے کے مطابق امیدوار کھڑے کیے جائیںگے تو بہت زیادہ تباہی ہوگی، ساری مذہبی جماعتوں کی کوشش تھی کہ ان کا نوازشریف سے معاملہ طے ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا، موجودہ نگراں حکومت اندھی لولی اورلنگڑی ہے نجم سیٹھی نے کچھ بھی نہیں بدلا ان کے پاس ٹائم ہی نہیں، اس قوم کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ اپنے لیے بہتر قیادت کا انتخاب کرلیں، جتنا فوج نے سیاستدانوں اور جمہوریت کا ساتھ دیا ہے سیاستدانوں نے فوج کا اتنا ساتھ نہیں دیا، پاکستان میں ایک ایسا لیڈر آنا چاہیے جو سب کو شٹ اپ کہے انشاء اللہ قلم دوات جیتے گی اور انقلابی کردار ادا کریگی۔