بلوچستان کا مسئلہ میٹنگز یا کمیٹیوں سے حل نہیں ہوگا وزیر دفاع

کسی نتیجے پر پہنچنے تک بلوچستان کے دورے کرتے رہیں گے،سربراہ کمیٹی نوید قمرکی وفود اور میڈیا سے گفتگو


کسی نتیجے پر پہنچنے تک بلوچستان کے دورے کرتے رہیںگے،سربراہ کمیٹی نوید قمرکی وفود اور میڈیا سے گفتگو، نیشنل پارٹی کا بھی ملنے سے انکار۔ فائل فوٹو

بلوچستان کے مسائل کے حل کے حوالے سے قائم وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے صوبے کی مختلف سیاسی، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے ملاقاتیں کی ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے کمیٹی سے ملنے سے انکار کر دیا۔ خصوصی کمیٹی سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے وفود نے ملاقاتیں کیں۔

ملاقات سے انکار کرنے والی بی این پی کے مقامی صدر ڈاکٹر جہانزیب جمال دین نے نجی ٹی وی کو بتایاکہ جب تک بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ہوںگے وہ کسی مذاکرے کا حصہ نہیں بنیں گے۔انھوں نے کہا پارٹی کو کمیٹی کی جانب سے کوئی باقاعدہ دعوت نہیں ملی اور ہی انھیں اس کے ایجنڈے کاعلم ہے نیشنل پارٹی نے بھی کمیٹی سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا، پارٹی سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ کے مطابق ان کو دعوت ملی تھی لیکن انھوں نے کمیٹی سے ملاقات نہیں کی ۔

خصوصی کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر دفاع نوید قمر نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے معاملات ایک یا دومیٹنگز یاکمیٹیوں سے حل نہیں ہوںگے، بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ہم بلوچستان کے حقیقی اورغیر حقیقی نمائندوںکی بحث میں نہیں پڑے، ہر کسی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مسائل کے علاوہ ان کے حل پر بھی بات ہوئی۔ ملاقاتوں کے بعد پریس کانفرنس میں نوید قمر نے کہا بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلیے پیپلز پارٹی کی حکومت سنجیدہ ہے۔

تمام لوگوںسے بات کریںگے کمیٹی بے اختیار ہوتی تویہاں آنے کی بجائے آئندہ عام انتخابات کی تیاری کیلیے مہم چلاتے۔انھوں نے کہا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ چند چیزوں پر عملد آمد نہ کرسکے۔ جو لوگ پہاڑوں پر موجود ہیں صرف انھیں بلوچستان کے عوام کانمائندہ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہاں آباد ہرشخص کا بلوچستان پر پورا حق ہے۔ آج مختلف سیاسی جماعتوں، وکلا تنظیموں، ڈاکٹروں، تاجروں کے وفود سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بات ہوئی اور ہم نے ان سے تجاویز لیں، بہت سی باتوں پر اختلاف رائے، بہت سی باتوں پر اتفاق بھی پایا گیا۔

ہم کسی غلط فہمی کا شکار نہیں کہ ایک دورے یا ایک دو ملاقاتوں سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ہماری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی نظر ہے ان کی کارکردگی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ مسئلہ کے حل کیلیے فوج سمیت تمام اداروں کی مشاورت شامل ہے ہم کسی کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان کی کمیٹی ساڑھے چار سال بعد بلوچستان آئی ہے اور کہا اس سے قبل صدر وزیر اعظم سمیت وفاقی وزرا بلوچستان کا دورہ کرتے رہے ہیں اور وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی یہاں ہوچکا ہے۔

جب تک ہم خود کسی نتیجہ پر پہنچ کر مطئمن نہیں ہوجاتے بلوچستان کے دورے کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں کوئٹہ پہنچنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نوید قمر نے کہا کمیٹی صوبے کے مسائل کے حل کے حوالے سے متعلقہ صوبائی حکام، اداروں اور افراد سے بات چیت کے بعد اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کریگی۔ کمیٹی کے رکن اور وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمانکائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانوں پر بلوچستان کیلئے کچھ نہ کرنیکا الزام درست نہیں۔

امن و امان کے قیام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے تاہم وفاقی حکومت صوبے کو اس حوالے سے سپورٹ کررہی ہے، بلوچستان میں صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل ہوا ہے، چند لوگوں کی جانب سے بلوچستان کی آزادی کے حوالے سے نعرہ مقبول نہیں ہے۔ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کی کوئی زیادہ اکثریت نہیں ہے۔ بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں جتنے بتائے جاتے ہیں۔ ناراض لوگوں سمیت سب کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ صدر مملکت نے بے قصور ہونے کے باوجود بلوچ عوام سے معافی مانگی۔

بلوچستان کی ناراض قوم پرست جماعتوں کے رہنماوں سے رابطے ہو گئے ہیں ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) اور جمہوری وطن پارٹی بھی شامل ہے۔ شکایت دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ بات چیت کے لئے رضا مند رہنماؤں کے ذریعے بیرون ملک بیٹھے بلوچ رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے آمادہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں