بجلی کے شدید بحران کے انتباہ پر فیڈریشن کا اظہار تشویش

توانائی بحران ختم کیے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں، زبیر ملک


Business Reporter May 02, 2013
حکومت پنجاب میں بجلی گیس فراہمی یقینی بنائے، ایس ایم منیر، گلزار فیروز ودیگر۔ فوٹو: فائل

وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان(ایف پی سی سی آئی) نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے بجلی کے شدید بحران کی نوید سنانے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی صنعتوں، فیکٹریوں، کارخانوں کی سرگرمیوں کو مفلوج جبکہ عوام کو ایک بارپھر ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کی بھرپورمذمت کرتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہیں لیکن توانائی بحران ختم کیے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںکمی کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ بات ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک،سابق صدرایس ایم منیر،نائب صدور گلزار فیروز، شاہین الیاس سروانہ، سابق نائب صدر زبیر طفیل، زکریاعثمان نے ایک بیان میں کہی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیراحمدملک نے کہا کہ ملک میں بجلی اورگیس کے بحران کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسری جانب صنعتوں،کارخانوں اور فیکٹریوں پر اضافی بوجھ، امن وامان کی بدترین صورتحال نے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ ملک توانائی بحران کی شدت اختیارکرنے کے باعث پنجاب میں صنعتیں تباہی کی جانب گامزن ہیں لہٰذا نگراں حکومت ہنگامی بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی طرز پر پورے ملک سے بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے ساتھ پنجاب میں بجلی اور گیس کی فراہمی کویقین بنائے۔

ایس ایم منیر نے کہا کہ نگراں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تجارتی وکاروباری سرگرمیوں پر مثبت اثرات بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث زائل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے 71 ارب روپے کے حکومتی واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کی سزا کراچی کے تجارتی وکاروباری اداروں اور عوام کوملے گی جو سراسر زیادتی ہے کیونکہ کراچی کی عوام اور صنعتیں، فیکٹریاں، کارخانے اپنے بجلی کے اضافی بلوں کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے ادا کررہے ہیں، اس کے باوجود بجلی کی عدم دستیابی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔