جنون کے شاخسانے
ان دنوں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ بعض رہنمائوں کے بیانات پڑھ کر بے ساختہ غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ...
KARACHI:
ان دنوں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ بعض رہنمائوں کے بیانات پڑھ کر بے ساختہ غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی...!
غالب کا یہ شعر کیسا سادہ و معصوم ہے لیکن غور کیجیے تو یہ ہمارے رہنمائوں کی آج کی تقریروں پر ہی نہیں ہماری گزشتہ ڈیڑھ دو صدی کی سیاسی اور سماجی زندگی پر صادق آتا ہے۔ ہندوستان میں انگریز تجارت کی غرض سے داخل ہوئے تھے لیکن بہت جلد انھیں احساس ہوا کہ روایتی اعتبار سے ہندوستان ایک عظیم الشان سلطنت سہی لیکن یہ اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ چنانچہ انھوں نے رفتہ رفتہ تجارت کے ساتھ اس نکتے پر بھی توجہ مرکوز کی کہ کس طرح اس عظیم الشان مملکت کے وسائل پر قبضہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں انھوں نے جو حکمت عملی بنائی، وہ کامیاب رہی، پہلے انھوں نے سراج الدولہ سے بنگال چھینا اور پھر 100 برس بعد 1857 میں دلی پر براہ راست قابض ہوگئے۔
اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ہندوستانی پرجوش نعروں اور اپنی کثیر تعداد کے سبب اس فریب نفس میں گرفتار تھے کہ وہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کے وارث ہیں اور انھیں مشرک کسی قیمت پر شکست نہیں دے سکتے۔ ان کے درمیان کوئی ایسا مستعد اور تجربہ کار رہنما موجود نہیں تھا جو انھیں یکجا کرتا اور ایک منظم اور مثبت انداز میں انگریزی فوجوں سے لڑواتا۔ وہ مسلمان سپاہی ہوں یا ہندو، دونوں کارتوس کی چربی کے معاملے پر اپنا توازن کھو بیٹھے۔ ایک کے نزدیک سور حرام تھا، دوسرے کے نزدیک گائے محترم اور مقدس تھی۔ دونوں طرف کے سپاہیوں نے کسی تیاری اور جنگی حکمت عملی کے بغیر انگریز فوجوں کے خلاف جنونی کیفیت میں علمِ بغاوت بلند کیا اور ناکام ہوئے۔
1857 اور 58 کے دوران نیویارک ہیرلڈ ٹریبیون میں چھپنے والے مارکس اور اینگلز کے مراسلوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف لڑنے والے ہندوستانیوں کی تعداد انگریز سپاہ سے کہیں زیادہ تھی اور اس کے اندر مذہبی جنون بھی اپنے عروج پر تھا لیکن نظم و ضبط کی کمی اور کسی مرکزی رہنما کی قیادت کے بغیر تمام جوش و جذبے اور جنون کے باوجود غیر ملکی تسلط کے خلاف ہندوستانیوں کی ایک شاندار بغاوت بری طرح ناکام ہوئی اور ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کا زیرنگیں ہوگیا۔
اس شکست سے پہلے ہندوستان کے ہندو جدید انگریزی تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں شریک ہوکر زندگی کے مرکزی دھارے میں شریک ہوچکے تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد نے گائے کی چربی کے معاملے کو طاق نسیاں کی زینت بنا دیا تھا۔ ان کے دانشوروں کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ ایک طویل مدت کی غلامی کے بعد انگریزوں کی شکل میں انھیں بہتر زندگی اور اقتدار میں شراکت کے کچھ نہ کچھ مواقع مل سکتے ہیں۔
دوسری طرف مسلمان تھے جنھوں نے بادشاہت کی شکست کو اسلام کی شکست سے تعبیر کیا اور اپنے خول میں سمٹ گئے۔ بجائے اس کے کہ وہ نئے حالات سے سمجھوتہ کرتے اور اپنے ہندو ہم وطنوں سے کچھ سیکھتے۔ انھوں نے اپنے تمام مسائل اور مشکلوں کا ذمے دار ہندوئوں اور انگریزوں کو ٹھہرا کر ایک ایسی راہ اختیار کی جس نے انھیں صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ اسی دوران ایک طرف سرسید احمد خان جدید تعلیم کا نقارہ بجاتے ہوئے اٹھے اور انھوں نے مسلمان اشرافیہ کے ایک طبقے کو حالات سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ کیا۔ دوسری طرف شبلی نعمانی تھے جو ماضی کی سنہری یادوں میں گم ہوئے اور ''ہیروز آف اسلام'' کے عنوان سے وہ کتابیں لکھیں جنھوں نے مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کو جوش اور مذہبی جنون سے بھر دیا۔ ان ہی کی پیروی میں مولوی عبدالحلیم شرر اور صادق حسین سردھنوی نے ماضی کے مسلمان بادشاہوں کی حقیقی فتوحات پر سنہرے رنگ کی وہ حاشیہ آرائی کی جس نے شکست خوردہ ہندوستانی مسلمانوں کو اس فریب نفس میں مبتلا کیا کہ وہ قرونِ اولیٰ کے عظیم مسلمان فاتحوں کے وارث ہیں اور ماضی کے کارناموں کی بنیاد پر وہ حال اور مستقبل میں بھی فتح مند ہوں گے۔
ایک برخود غلط احساس برتری کے جنون نے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کو جو رنگ دیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد احساس برتری اور بڑائی کے جنون نے ہمیں معروضی حقائق کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی قومی ترجیحات کو طے کرنے کے بجائے ایک ایسے فریب نفس میں مبتلا کیا کہ ہم اپنے اہم پڑوسی ملکوں سے اپنے معاملات درست طور پر طے نہ کرسکے۔ اسلامی تاریخی ناولوں نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہمارا ایک آدمی، ہمارے 100 حریفوں پر بھاری ہے، تب ہی ہمارے وزیراعظم ہندوستانیوں کو مُکا دکھاتے رہے اور عوام برسوں تک اس یقین میں گرفتار رہے کہ کوئی دن جاتا ہے جب ہم لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے اور ہندوستان پر دوبارہ ہماری حکمرانی ہوگی۔ اپنے ہم قوم بنگالیوں کے بارے میں ہمارا رویہ نہایت توہین آمیز تھا۔ ان ہی کے اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ نام نہاد احساس برتری کے جنون کی وجہ سے ان کا احسان مند ہونے کے بجائے ہم نے انھیں پستہ قامت اور سیاہ فام کہا۔ ہمیں ان میں سے مچھلی کی بُو آتی تھی۔ تہمد باندھنے اور بنیان پہننے والا بنگالی ہم سے بھلا کیا مقابلہ کرسکتا تھا۔ وہ تو بزدل اور نکما تھا۔ اس خوش فہمی کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت برآمد ہوا۔ انھوں نے ہمیں ناکوں چنے چبوا دیے اور ہمارے 90 ہزار سے زیادہ فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
ہم ایک ایسے فریبِ نفس کے حصار میں تھے کہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد بھی ہم عرصے تک ان پر ترس کھاتے رہے۔ یہی کہتے رہے کہ یہ بنگالی تو ایک بوجھ تھے، اچھا ہے کہ ان سے ہماری جان چھوٹ گئی۔ ایک طرف یہ باتیں تھیں، دوسری طرف یہ حقیقت تھی کہ ان کے سکے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ ان کی برآمدات نے کئی شعبوں میں ہمیں پچھاڑ دیا اور اب تو یہ عالم ہے کہ ہمارے متعدد صنعت کار اپنی صنعتوں سمیت بنگلہ دیش منتقل ہورہے ہیں۔
ہم نے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی یہ فرض کرلیا کہ چونکہ ہم سب سے برتر ہیں۔ لہٰذا دنیا ہمارے خلاف ہے اس لیے ہمیں جدید اسلحے سے لیس ہونا چاہیے اور اب بہت دنوں سے ہمارے ہر پڑوسی ملک کو یہ شکایت ہے کہ اس کے یہاں در اندازی ہماری طرف سے ہوتی ہے۔
سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں بھیجیں تو جنرل ضیاء الحق کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا۔ امریکا نے ان کے سرپر دستِ شفقت رکھا اور دنیا بھر کے انتہا پسند جنگجوئوں کو اکٹھا کرکے ایک ایسی جنگ لڑی گئی جس میں سب سے زیادہ نقصان افغانستان کا ہوا لیکن ہماری بنیادوں میں بھی دیمک لگ گئی۔ منشیات اور اسلحے کی فراوانی ہوئی ۔ مذہبی انتہا پسندی اور عسکری رویوں نے جس طرح فروغ پایا وہ ہم میں سے کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ اسی زمانے میں ہمارے کئی جرنیلوں نے وہ کتابیں لکھیں جن میں سوویت یونین کی تحلیل کا سہرا اپنے سر باندھا اور دعویٰ کیا کہ عنقریب امریکا کے بھی ٹکڑے کردیے جائینگے۔ خبطِ عظمت نے ہمارے اندر جنون کی وہ کیفیت پیدا کی جو آج اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
اسی فریب نفس اور خبط عظمت نے ہمیں اس ذہنی کیفیت سے دوچار کردیا ہے کہ ہم ایک طرف دنیا کو للکارتے اور دوسری طرف اپنے مخالف مسلک والے کو کافر گردانتے ہیں اور انھیں قتل کرتے ہیں۔ اب جب کہ انتخابات کی گھڑی سر پر تلی کھڑی ہے، اس وقت کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما اسی جنون اور فریب نفس کی جھلکیاں دکھاتے ہیں۔ کسی کا اصرار ہے کہ اگر امریکی ڈرون ہماری طرف بھیجے گئے تو ہم ان کو فوراً مار گرائیں گے اور کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا۔ گزشتہ 65 برسوں تک ہماری اسٹیبلشمنٹ و حکمران اشرافیہ، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے عوام کو ''فریب نفس'' میں مبتلا رکھنے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی پر عمل کیا اورجب بھی کوئی بھیانک نتیجہ اور المیہ سامنے آیا ہم نے اسے دوسروں کی سازش قرار دیا۔ آج وہ وقت آگیا ہے کہ ہم پوری دنیا میں تن تنہا کھڑے ہیں۔
کتنی الم ناک بات ہے کہ خود کو قومی رہنما قرار دینے والے صبر، ضبط، تحمل، بردباری، تہذیب اور رواداری کے حوالے سے رول ماڈل بننے کے بجائے ''جنون'' کی علامت بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان خبط عظمت، احساس برتری، فریب نفس اور جنونی طرز فکر کی عذاب ناک کیفیت میں گرفتار ہے۔ ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ہم کو اس تباہ کن کیفیت سے باہر نکالے، نہ کہ ہمیں اس دلدل میں مزید دھکیل دے۔