بدی کی تین طاقتیں

شام بدی کی تیسری طاقت ہے اور بدی کی طاقت ہونے کا اعزاز شام کو اس لیے بخشا گیا ہے کہ شام کے اس ایران سےانتہائی گہرے۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari May 05, 2013
[email protected]

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے شام کے باغیوں کی امداد میں سو فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، یہ امداد شامی باغیوں کی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے دی جارہی ہے۔ یہ امداد اس بھاری امداد کے علاوہ ہے جو بعض عرب ممالک شامی باغیوں کو پہلے ہی سے فراہم کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد بشارالاسد کو حکومت سے ہٹانا ہے۔ امریکا اور اس کے عرب حلیف بشارالاسد کو اقتدار سے کیوں الگ کرنا چاہتے ہیں اس کا جائزہ ہم بعد میں لیں گے اس سے پہلے مغربی میڈیا کی پالیسی پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں۔ مغربی میڈیا کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ بڑی شدت سے کیا جاتا ہے کہ مغربی میڈیا دنیا کا سب سے بڑا آزاد اور غیرجانبدار میڈیا ہے۔ مغرب کے انگریزی اخبارات میں جو فاضل لوگ بین الاقوامی مسائل پر لکھتے ہیں ان کے مطالعے سے یہ اندازہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ ان کے تجزیے ان کی حکومتوں کی پالیسیوں کے عین مطابق ہوتے ہیں۔

آج کل شام، شمالی کوریا اور ایران کے بارے میں جو مغربی تجزیہ کار اپنے تجزیے پیش کر رہے ہیں وہ امریکی حکومت کے اس موقف کے عین مطابق ہیں کہ شمالی کوریا، ایران اور شام بدی کی طاقتیں ہیں۔ یہ تجزیہ کار مغربی ملکوں پر سخت تنقید کر رہے ہیں کہ ان کی پالیسیاں ان تینوں ملکوں کے حوالے سے انتہائی نرم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے حلیف ان تینوں ملکوں کی باغیانہ سرگرمیوں کے خطرناک مضمرات سے چشم پوشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے مستقبل میں بہت سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ امریکا اور اس کے حلیفوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ان ملکوں کے خلاف سخت رویہ اپنائیں۔ امریکی میڈیا خاص طور پر اس حوالے سے بہت فعال ہے اور شام میں ہونے والی قتل و غارت کی ساری ذمے داری بشار الاسد حکومت پر ڈال رہا ہے بلکہ ان نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ ہمارے دیسی تجزیہ کار مغربی حکومتوں اور مغربی میڈیا کی پالیسیوں کو ٹوہ کرتے ہوئے شام کی انارکی کو بشارالاسد کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے بشارالاسد کو شامی عوام کا قاتل قرار دے رہے ہیں۔ اور یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ شام میں لڑی جانے والی جنگ کے فریق کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟

دنیا کی سب سے بڑی بدی کی طاقتیں امریکا اور اس کے مغربی حلیف ان تینوں ملکوں کو بدی کی طاقتیں کیوں کہتے ہیں؟ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہ تینوں ملک امریکا اور اس کے حلیفوں کی مرضی پر چلنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا یہ موقف کسی ہٹ دھرمی پر منحصر نہیں بلکہ امریکا کی بلیک میلنگ کے خلاف ایک منصفانہ موقف ہے جسے مغربی حکمران طبقہ جارحانہ اور باغیانہ موقف کہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا اور ایران اگر ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کر رہے ہیں جیساکہ مغربی ملک ان پر الزام لگا رہے ہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟ ایران کے خمینی انقلاب کے بعد اگرچہ اس انقلاب کی داخلی سمت کا تعین آج کی جدید دنیا کے تقاضوں کے برعکس انتہائی دقیانوسی پالیسیوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے، اگر اس کے برخلاف ایران اپنا رخ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترقی پسندانہ صنعتی پالیسیوں کی طرف موڑتا تو آج وہ اس خطے کا سب سے بڑا ترقی یافتہ ملک بن جاتا اور اس خصوص میں اس کی قومی یکجہتی اہم کردار ادا کرتی لیکن اس کے رہبران کرام نے اس انتہائی پوٹینشل ملک کو جبہ و دستار کی ایسی راہ پر ڈال دیا ہے کہ اس کی ساری توانائیاں جبہ و دستار کی حفاظت ہی میں خرچ ہورہی ہیں۔ لیکن اس ملک کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ انقلاب کے ساتھ ہی اس کی خارجہ پالیسی اینٹی سامراج، اینٹی امریکا رہی ہے۔ یہی پالیسی امریکا اور اس کے حلیفوں کی نظر میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔

امریکا مشرق وسطیٰ کی تیل کی دولت پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل کو اس خطے کا چوہدری بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ عرب ملکوں نے تو اس کی چوہدراہٹ کو قبول کرلیا ہے لیکن ایران، اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکا کی چوہدراہٹ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اسرائیل اور امریکا کو تشویش ہے کہ اگر ایسے باغی ملک کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار آجائیں تو مشرق وسطیٰ میں نہ صرف ان کی برتری خطرے میں پڑجائے گی بلکہ اسرائیل کی بقا کا مسئلہ بھی پیدا ہوجائے گا۔ اس کا ایک منطقی حل تو یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کو فلسطین کا مسئلہ حل کرنے پر مجبور کردے جو وہ کرسکتا ہے لیکن امریکا سوائے زبانی اور بیانی جمع خرچ کے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہا ہے اور محض اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو ایٹمی پیش رفت سے روکنے کی غیر منطقی پالیسیوں پر چل رہا ہے، یہی پالیسی ایران سے محاذ آرائی کا بڑا سبب بنی ہوئی ہے اور امریکی میڈیا بھی اسی پالیسی پر کاربند ہے۔

دوسری عالمی جنگ نے اتحادیوں کو ہٹلری فاشزم سے تو نجات دلا دی لیکن جب اس فتح کے مال غنیمت سمیٹنے کا وقت آیا تو فاشزم کے خلاف جنگ لڑنے والوں نے جرمنی اور کوریا کو مال غنیمت کا حصہ سمجھ کر بانٹ لیا۔ اس بندر بانٹ میں انھیں اس بات کی شرم تک محسوس نہ ہوئی کہ وہ ہزاروں سال سے اکٹھی رہنے والی دو قوموں کو بانٹ رہے ہیں۔ جرمنوں نے تو اپنی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوار برلن کو مسمار کرکے ایک قوم بن گئے لیکن کوریا میں امریکی مفادات اتنے گہرے ہیں کہ دنیا کی سب سے مہذب قوم امریکا دونوں کوریاؤں کو متحد ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ اس کے برخلاف جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کے خلاف ایسی نفسیات کو پروان چڑھا رہا ہے کہ اس ایک قوم کے دو حصوں کے درمیان قربت کے بجائے دوری کا کلچر فروغ پارہا ہے اور ''شمالی کوریا کی دست برد'' سے جنوبی کوریا کو بچانے کی ضمانت کے طور پر وہاں اپنی فوجیں اور ایٹمی ہتھیار رکھے ہوئے ہے، جس سے شمال کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرنا ایک فطری اور منطقی بات ہے۔ یہی وہ خوف ہے جو شمالی کوریا کے رہنما کم ال سنگ سے ان کے پوتے تک منتقل ہوتا آرہا ہے اور یہی خوف شمالی کوریا کو ایٹمی طاقت بننے کی طرف لے جارہا ہے۔ کیا اس حقیقت کے پیش نظر شمالی کوریا کی ایٹمی طاقت بننے کی کوششوں کو غیر منطقی کہا جاسکتا ہے؟

شام بدی کی تیسری طاقت ہے اور بدی کی طاقت ہونے کا اعزاز شام کو اس لیے بخشا گیا ہے کہ شام کے اس ایران سے انتہائی گہرے تعلقات ہیں جسے امریکا اور اس کے غیر جانبدار لکھاری مہذب دنیا کے لیے خطرہ کہہ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جس ''عرب بہار'' کا ظہور ہوا اس کا اصل مقصد یہاں کے ملکوں کے عوام کی اپنے ملکوں کے آمروں سے بیزاری تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے آمروں کے خلاف جمہوریت کی اس لڑائی میں تیونس، مصر اور لیبیا کی مدد کی، حتیٰ کہ لیبیا کے عوام کو فضائی حملوں کے ذریعے مدد بھی فراہم کی لیکن چونکہ عرب بہار خود رو تحریکیں تھیں نہ ان کی کوئی نظریاتی قیادت تھی نہ کوئی منصوبہ بندی لہٰذا یہ تحریکیں انتشار کا شکار ہوگئیں اور یہاں قیادت کا ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ مذہبی انتہا پسند طاقتیں چونکہ منظم تھیں سو انھوں نے اس خلا کو پر کیا۔ چونکہ یہ طاقتیں انتہا پسندی کا حشر دیکھ کر اعتدال پسند بن گئی ہیں لہٰذا یہ امریکا کی دوست بن گئی ہیں۔

شام کا مسئلہ مختلف ہے، شام دو فقہی دھڑوں میں بٹا ہوا ہے جس میں شیعہ اور سنی شامل ہیں، چونکہ شام کی ایران سے دوستی ہے لہٰذا امریکا کو سخت تشویش لاحق ہے۔ بشارالاسد اس دوستی کی علامت ہے، اس لیے اس فقہی تضاد کو امریکا اور اس کے بعض عرب حلیفوں نے بشارالاسد کے خلاف جمہوری لڑائی کا نام دے دیا اور اس کی مفاداتی دوغلی سیاست کا عالم یہ ہے کہ مذہبی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں سے جنگ کرنے والا یہ مہذب ملک شام میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ان ہی دہشت گردوں کو استعمال کر رہا ہے اور جان کیری ان کی امداد میں دگنے اضافے کا اعلان کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی جمہوری جنگوں کی سرپرستی کرنے والے امریکا کے شام کے خلاف جنگ میں وہ بادشاہ اور شیوخ شامل ہیں جو جمہوریت کے سب سے بڑے شاہکار ہیں، بلاشبہ شام میں ہزاروں شامی اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بے گناہ شامیوں کے قتل کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ شامی عوام تقسیم ہوگئے ہیں اور یہ لڑائی اس تقسیم کے پس منظر میں لڑی جارہی ہے، اگر شامی تقسیم نہ ہوتے یا انھیں تقسیم نہ کیا جاتا تو اس بڑے پیمانے پر خون خرابہ نہ ہوتا۔ امریکا اس تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے ان دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے جو شیعہ کمیونٹی کے سخت دشمن ہیں۔ یہ ہے بدی کی ان تین طاقتوں کا احوال، دنیا بہتر فیصلہ کرسکتی ہے کہ ان تینوں ملکوں کے حالات کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

مقبول خبریں