عرفان بھارت بولنگ اٹیک کی ذمہ داری نبھانے کو تیار

آئندہ چند برس میرے لیے بہترین ہوں گے، چیمپئنز ٹرافی کیلیے منتخب پیسر کا عزم


Sports Desk May 06, 2013
آئندہ چند برس میرے لیے بہترین ہوں گے، چیمپئنز ٹرافی کیلیے منتخب پیسر کا عزم۔ فوٹو: فائل

آل راؤنڈر عرفان پٹھان کا کہنا ہے کہ میں بھارت کا بہترین بولر بننا چاہتا ہوں۔

چیمپئنز ٹرافی کیلیے بھارتی اسکواڈ میں شامل آل راؤنڈر عرفان پٹھان کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ میری ٹیم میں واپسی سے متعلق باتیں کررہے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ بھول گئے کہ انجری کی وجہ سے کھیل سے جدائی سے قبل میں آخری ایک روزہ میچ میں مین آف دی میچ نامزد ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم میں مزید ذمہ داری لینے کے خواہشمند ہیں، رنجی ٹرافی میں ہیمسٹرنگ کا شکار ہونے سے قبل عرفان بھارت کی جانب سے آخری مرتبہ سری لنکا میں ہونیوالی ٹوئنٹی20 میں کھیلے تھے۔ انجری نے انھیں ہوم سیریز سے باہر رکھا تھا۔

عرفان کا کہنا ہے کہ 2012 میں سری لنکا کیخلاف انھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کرکے بھارت کو فتح سے ہمکنار کیا تھا، لوگ بہت جلد کارکردگی کو بھول جاتے ہیں، لیکن میں ہمیشہ پراعتماد تھا کہ میں بھارت کے ایک روزہ میچز کے اسکواڈ میں ضرور شامل ہونگا، اب میں زیادہ سے زیادہ ذمہ داری لینا چاہتا ہوں، میں مشکل حالات میں زیادہ بولنگ کرنا اور اپنے آپ کو کپتان کا بہترین بولر بنانا چاہتا ہوں۔



بھارت نے سری لنکا میں جولائی ، انگلینڈ میں مددگار کنڈیشنز کے متلاشی عرفان کا کہنا ہے کہ وہ درستی پر نظر رکھیں گے، ہر بولر انگلینڈ میں بولنگ کرنا پسند کرے گا کیونکہ وہاں وکٹ تیز بولرز کیلیے مفید ہیں، لیکن ایسا کہنا آسان ہے، صحیح جگہ بال کرنا اہمیت رکھتا ہے، اگر آپ مسلسل صحیح جگہ گیندیں کرتے رہیں تو اکثر آپ کو کوئی وکٹ نہیں ملتی، کوئی بات نہیں کہ بولر کتنا اچھا ہے۔

بولر کتنا تیز ہے یا وہ سوئنگ کے ساتھ کتنا خطرناک ہے، صحیح جگہ بولنگ کرنا اصل مقصد ہے، آئندہ گیم میں میری توجہ اسی پر ہوگی۔ امیش یادیو، ایشانت شرما، بھونیشور کمار اور ونے کمار کیساتھ عرفان اسکواڈ کے دیگر 5 پیس بولرز میں سے ایک ہیں۔ اس طرح پلیئنگ الیون میں شمولیت کے لیے ان سیمرز میں سخت مقابلہ ہے۔ اس صورتحال پر عرفان کو کسی قسم کی پریشانی نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ اس کا انحصار ٹیم کمبی نیشن پر ہوگا، میں انگلینڈ پہنچتے ہی اس پر کام شروع کردوںگا ، حقیقتاً میں نے اپنی فٹنس اور گیم پر بہت محنت کی ہے، مجھے یقین ہے کہ میں یہاں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکوں گا، میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ چند سال کرکٹ میں میرے بہترین سال ہوں گے۔