کراچی چیمبر کا ایس ایم ایز کو مساوی کاروباری سہولتوں پر زور

نوجوان روزگار کی تلاش کے بجائے ذاتی کاروبار کو ترجیح دیں، تعاون کرینگے، ہارون اگر


Business Reporter May 07, 2013
’کاروباری منصوبہ بندی‘ پر ورکشاپ سے عاصم فیض چشتی، ارسلان خواجہ کا بھی خطاب فوٹو فائل

COLOMBO: کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ہارون اگر نے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز( ایم ایس ایم ای)کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا حامل قرار دیتے ہوئے برابری کی سطح پر کاروباری سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ بنیادی انفرااسٹرکچر کی بہتری، کاروباری ماحول اور کم شرح پر درمیانی اور طویل مدت کے قرضوں کی فراہمی سے ما ئیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو ترقی کی شاہراہ پر باآسانی گامزن کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری اورپاکستان انسٹیٹیوٹ آ ف مینجمنٹ، وزارت تجارت کے ایس ایم ای بزنس سپورٹ فنڈ اور انٹر نیشنل فنانس کارپوریشن کے اشتراک سے ''کاروباری منصوبہ بندی''کے موضوع پرمنعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر وزارت تجارت کے ایس ایم ای بزنس سپورٹ فنڈ کے پروجیکٹ منیجر ارسلان توقیر خواجہ، آئی ایف سی کے پاکستان میں بزنس ڈیولپمنٹ کو آرڈینیٹر عاصم علی فیض، نیشنل پراڈکٹیویٹی کے جنرل منیجر سیف الرحمان، کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شمیم احمد فرپو، نائب صدر ناصر محمود اور منیجنگ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

ہارون اگر نے کہا کہ کراچی میں 16 ہزار سے زیادہ صنعتیں کام کر رہی ہیںجن میں زیادہ تر ایس ایم ایز ہیں، ان صنعتوں سے تقریباً 15 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں، کراچی کی بڑی صنعتیں اور ایس ایم ایز سیکٹر 80 لاکھ لوگوں اور ان کے خاندانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور صنعتی فروغ کیلیے چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کا قیام بہت ضروری ہے۔



ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے باوجود اس سیکٹر کو کئی مشکلات کا سامنا ہے جس میں سرمائے اور پیشہ وارانہ مہارت کی کمی، توانائی کے بحران سمیت درست سمت میں رہنمائی اور تربیت کے فقدان سرِفہرست ہیں جبکہ حکومت اور سمیڈا کا اس حوالے سے کردار بھی کچھ خاص نہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزگار کی تلاش کے بجائے سیلف ایمپلائمنٹ کو ترجیح دیں، اس حوالے سے کراچی چیمبر ان کی رہنمائی اور تربیت کیلیے ہر ممکن تعاون کریگا۔ آئی ایف سی کے پاکستان میں بزنس ڈیولپمنٹ کو آرڈینیٹرعاصم علی فیض چشتی نے اس موقع پر کہا کہ آئی ایف سی پاکستان میں مستحکم کاروباری رہنمائی، کارپوریٹ گورننس اور ایس ایم ایزکی استعدادبڑھا نے کیلیے مختلف کورسزکے انعقاد کے علاوہ بینکوںکو ایس ایم ایزکیلیے سہولتوں کے حوالے سے بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔

ایس ایم ای بزنس سپورٹ فنڈ منسٹری آف فنانس کے پراجیکٹس ڈائریکٹر ارسلان توقیر خواجہ نے ایس ایم ای بزنس سپورٹ فند کے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا۔