صارف اخراجات میں 2000 سے 2012 تک 67 فیصد اضافہ

جون 2000 میں صارف اخراجات کا حجم 2884 ارب تھا، 2012 میں 4823 ارب ہوگیا


APP May 07, 2013
مہنگائی پر قابو اور فی کس آمدنی بڑھا کر اخراجات میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے، ماہرین فوٹو: فائل

ملک میں سال 2000 تا 2012 کے دوران صارفین کے اخراجات اوسطاً 3739 ارب روپے سالانہ رہے ہیں جبکہ 12 سال کے دوران صارف اخراجات میں 67 فیصد کا اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2000 کے اختتام پر ملک میں صارفین کے اخراجات کا مجموعی حجم 2884 ارب روپے تھا جو جون 2012 تک بڑھ کر 4823 ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔



اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد غیر ضروری اشیا کی خریداری میں دلچسپی نہیں لیتے جبکہ وہ اپنی آمدنی سے انتہائی ضروری اشیا خریدنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فی کس سالانہ آمدنی میں اضافے اور افراط زرکی شرح پر قابو پا کر صارفین کے اخراجات میں مزید اضافے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ملک میں کاروباری وتجارتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔