الیکشن 2018 اور سخت گیر مؤقف کی حامی مذہبی جماعتیں

آصف محمود  بدھ 18 جولائ 2018
مذہبی جماعتوں کا مقابلہ روایتی سیاسی جماعتوں سے تو ہوگا ہی لیکن یہی مذہبی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل بھی ہوں گی۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

مذہبی جماعتوں کا مقابلہ روایتی سیاسی جماعتوں سے تو ہوگا ہی لیکن یہی مذہبی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل بھی ہوں گی۔ (فوٹو: سوشل میڈیا)

25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں جہاں کئی سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں وہیں سخت گیرمؤقف رکھنے والی نوزائیدہ مذہبی جماعتیں بھی بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلارہی ہیں جن میں تحریک اللہ اکبر، تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک اسلام شامل ہیں۔ یہ تینوں مذہبی جماعتیں پہلی بارعام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل کے نام سے دینی جماعتوں کا ایک اتحاد میدان میں ہے تاہم نئی مذہبی جماعتیں اس پرانے اتحاد کا حصہ نہیں بنی ہیں جس میں زیادہ تر دیوبندی مکتب فکر کی حامل دینی سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری ہے۔ ایم ایم اے میں بظاہر تحریک اسلامی، مرکزی جمعیت اہلحدیث اور جمعیت علما پاکستان بھی شامل ہیں تاہم ان کی نمائندگی صرف نام کی حد تک ہے۔ بڑی جماعتیں جمعیت علما اسلام (ف) اور جماعت اسلامی ہی ہیں۔ ایم ایم اے میں سب سے زیادہ امیدوار جے یوآئی (ف) کی طرف سے کھڑے کیے گئے جبکہ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہے۔

اس بارایم ایم اے کو جہاں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اوراے این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا مقابلہ ہے وہیں یہ نوزائیدہ مذہبی جماعتیں بھی اس کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک اللہ اکبر، تحریک لبیک پاکستان اورتحریک لبیک اسلام نمایاں کامیابی توشاید حاصل نہ کرسکیں لیکن اچھی خاصی تعداد میں ووٹ لے کر مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے کو کمزور ضرور کرسکتی ہیں۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کا نام جنوری 2011 میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی اپنے سیکیورٹی گارڈر ممتاز قادری کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سامنے آیا اور پھر یہ تحریک دن بدن مضبوط ہوتی گئی؛ اور بالآخر قومی سیاسی دھارے کا حصہ بن گئی۔ 2017 میں لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ نے پہلی بارحصہ لیا اور حیران کن طور پر 8 ہزار سے زائد ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد پشاور کے حلقہ 4 سے بھی تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے امیدوار نے 10 ہزار ووٹ حاصل کیے حالانکہ یہ وہ حلقہ ہے جہاں بریلوی مکتب فکرکا ووٹ بینک نہ ہونے کے برابر ہے اور 2013 میں جماعت اسلامی کے امیدوار نے اس حلقے سے 16 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔

تاہم اس وقت تحریک لبیک کی پوزیشن تھوڑی کمزور ہوچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریک دوحصوں میں تقسیم ہوگئی ہے: ایک حصے کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی ہیں جنہوں نے تحریک لبیک پاکستان کے نام سے جماعت رجسٹرڈ کروائی ہے اور ملک بھر سے سیکڑوں امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی ہیں جنہوں نے تحریک لبیک اسلام کے نام سے جماعت رجسٹرڈ کروائی ہے۔ تاہم یہ دھڑا مولانا خادم حسین رضوی کے مقابلے میں کمزور نظر آتا ہے۔

تحریک لبیک کے دونوں دھڑوں نے ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی اور ناموس رسالتﷺ کو اپنی انتخابی مہم اور منشورکا حصہ بنایا ہے اور اس نعرے کے ساتھ انتخابی مہم چلارہی ہیں کہ ووٹ دو، جنت میں گھر لو۔ تحریک لبیک نے ممتاز قادری اور ناموس رسالتﷺ کے بیانیے پر ایسی کامیابی حاصل کی جو ماضی میں بریلوی جماعتوں کو کبھی نہیں ملی تھی۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ مجموعی طور پر بریلوی جماعتیں ان حالات کا فائدہ اٹھا سکیں گی یا نہیں، کیونکہ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بٹی ہوئی رہتی ہیں اور دیوبندی جماعتوں کے برعکس ان کی تنظیمی صلاحیتیں اتنی اچھی بھی نہیں۔

دوسری جماعت ملی مسلم لیگ ہے جسے جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے لیکن یہ جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے یہ جماعت اب تحریک اللہ اکبرکے نام سے الیکشن لڑ رہی ہے اورملک بھر میں بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلارہی ہے۔ تحریک اللہ اکبر ان جماعتوں میں شامل ہے جس نے سب سے زیادہ پڑھے لکھے امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور الیکشن کمیشن کے طے شدہ قواعد کے مطابق خواتین کو بھی ٹکٹ دیئے ہیں۔ اس جماعت کی انتخابی مہم حافظ محمد سعید چلا رہے ہیں جو نوازشریف کے حامی رہے ہیں اوران کی جماعت کو مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے لیکن اب وہ اپنی الگ شناخت پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور یہ بھی ن لیگ کے ووٹر کو تقسیم کرسکتے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان اور تحریک اللہ اکبر نے اپنے آپ کو ایم ایم اے کا حصہ بنانے کے بجائے اپنی اپنی شناخت پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اس طرح تین بڑی مذہبی سیاسی قوتیں یعنی ایم ایم اے، تحریک لبیک اور تحریک للہ اکبر سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ تینوں جماعتوں یا اتحاد نے پورے ملک میں بیشتر قومی اور صوبائی حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرف مذہبی جماعتوں کا مقابلہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے ہوگا تو دوسری طرف یہی مذہبی جماعتیں خود بھی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی جو مذہبی ووٹ کی تقسیم کا سبب بنے گا۔

ایم ایم اے شاید پنجاب اور سندھ میں تو کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے تاہم خیبرپختونخواہ میں سیٹیں حاصل کرسکے گی جہاں اس کا مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھتے جاتے ہیں۔ خود ایم ایم اے باہمی اختلافات کا شکار ہے، ٹکٹوں کی تقسیم میں جماعت اسلامی کے مقابلے میں جے یو آئی کو برتری حاصل ہے۔ جماعت اسلامی کو ٹکٹوں کی تقسیم میں نظرانداز کیے جانے پر شدید تحفظات ہیں۔ اسی طرح مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر ساجد میر بھی ایم ایم اے کا حصہ ہونے کے باوجود لاہور سمیت کئی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی نے عملی طور پر ان مذہبی جماعتوں کی سیاست سے فاصلے رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں جس طرح ان مذہبی جماعتوں کو پذیرائی حاصل ہوئی تھی، اب حالات خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ ان چند مذہبی لوگوں کا کردار عوام کے سامنے بہتر نہیں رہا جو مذہب کا نام لے کر دوسرے لوگوں کی طرح اپنے مفادات حاصل کرتے رہے، ماضی میں ملنے والے ووٹوں کے مقابلے میں اب مذہبی جماعتوں کا ووٹ بینک مزید کم ہوا ہے۔ قومی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا رویہ بھی عوام کے سامنے کچھ بہتر نہیں رہا۔ جیسے ہماری جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور شفاف حکمرانی جیسے نعروں کو اپنے سیاسی مفادات میں بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں، ویسے ہی مذہبی جماعتیں بھی اسلام اور دین کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں اور جائز و ناجائز مفادات حاصل کرتی رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان نوزائیدہ مذہبی جماعتوں کے پیچھے کوئی اور قوت ہے جس نے بہت مختصر عرصے میں ان جماعتوں کومضبوط بنانے میں خفیہ طور پر کردار ادا کیا ہے۔ وہ قوت جانتی ہے کہ ان کے یہ نئے مہرے انتخابات میں شاید بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکیں لیکن یہ مذہبی ووٹ بینک خفیہ طاقتوں کے حریفوں کو کمزورکرسکتا ہے؛ اور ایسا ہوتا نظر بھی آرہا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک اسلام کے پاس بظاہر وسائل کی کمی ہے اور ان کی انتخابی مہم دوسری جماعتوں کے مقابلے میں کم نظرآتی ہے تاہم ملی مسلم لیگ یا تحریک اللہ اکبر انتخابی مہم میں کسی طور بھی بڑی سیاسی جماعتوں سے پیچھے نہیں اور لاہور سمیت کئی شہروں میں ان کے امیدواروں کی تشہیری مہم نظر آتی ہے۔

تحریک اللہ اکبر کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ جماعت تمام دینی جماعتوں سے کہیں آگے ہے۔ حالانکہ فیس بک نے اس جماعت کے کئی پیجز بلاک کردیئے ہیں، اس کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ جماعت چھائی نظر آتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

آصف محمود

آصف محمود

بلاگر کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ 2000 سے شعبہ صحافت جبکہ 2009 سے ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاک بھارت تعلقات، بین المذاہب ہم آہنگی اورسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں۔ بلاگر سے اِس ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔