غربت و بیروزگاری کی عالمی رپورٹ

مشرق وسطیٰ میں 2018 تک نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔


Editorial May 09, 2013
ترقی یافتہ معیشتوں اور یورپی یونین میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ 5 سال میں 25 فیصد بڑھی اور اب وہاں مجموعی طور پر 18.1 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی طرح دنیا بھر میں بے روزگاری و غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ محنت(آئی ایل او) نے گزشتہ روز ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں 7 کروڑ 30لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں اور صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

آئی ایل او کے مطابق عالمی اقتصادی بحالی کی رفتار سست پڑنے کے باعث نوجوانوں میں ملازمتوں کا بحران سنگین ہوا ہے۔ سال کے اختتام پر 15 سے 24 سال کے7کروڑ 34 لاکھ نوجوان بے روزگار تھے، یہ تعداد 2007 سے 35 لاکھ زائد ہے، اس طرح نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.6 فیصد ہے جو 2018 تک بڑھ کر 12.8 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت تک مزید 20 لاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہوچکے ہوں گے۔ رپورٹ میں یورپی یونین، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

جہاں 2008 کے بعد سے بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے، ترقی یافتہ معیشتوں اور یورپی یونین میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ 5 سال میں 25 فیصد بڑھی اور اب وہاں مجموعی طور پر 18.1 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں تاہم یورپ میں 2018 تک صورت حال بہتر ہونے سے بے روزگاری کی شرح 16 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک میں بھی یوتھ ایمپلائمنٹ چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں 2018 تک نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

جو 2012 میں 28.3 فیصد تھی جب کہ شمالی افریقہ میں یہ شرح 23.7 سے بڑھ کر 23.9 تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں معاشی ایجنڈے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہوئے معاشی ترقی کے لیے راہ ہموارکریں، ملک میں بجلی، گیس بحران کوختم کرنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے واجبات ادا کیے جائیں، ملک میں ہنگامہ آرائی، ہڑتالوں کے باعث تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں لہٰذا تجارتی وکاورباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت صنعتی وکاروباری علاقوں کو ہڑتالوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بے روزگاری و غربت جرائم کو جنم دیتی ہے اور ملک میں جاری دہشت گردی و جرائم کے بڑھتے ہوئے گراف کے تناظر میں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر بے روزگاری ختم کرنے کے لیے راست اقدامات کیے جائیں تو ملک میں پھیلتی ہوئی اس انارکی سے کسی حد تک چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ بے روزگار نوجوان باآسانی شرپسندوں اور منفی ایجنڈا رکھنے والی طاقتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

امید کی جاسکتی ہے کہ آیندہ انتخابات کے بعد ملک کے معاشی حالات میں بہتری رونما ہوگی، تمام سیاسی جماعتیں آیندہ انتخابات کے بعد امن وامان کے قیام سمیت معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کو ہنگامی طور پربروئے کار لائیں۔ سیاسی جماعتوں کو ملک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری اور صنعتکاری کے ماحول کو فروغ دینا ہوگا، دور رس نتائج کے حامل اقدامات کرکے غریب عوام کو روزگار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی و افلاس سے نجات دلائی جائے تو ملک کے حالات بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔