پہلے جمہوری چیئرمین کا انتخاب موضوع بحث بن گیا

ذکااشرف آئین اور قانون کے مطابق سربراہ منتخب ہوئے، حمایتی سابق کرکٹرز.


Sports Reporter May 10, 2013
بورڈ کے سابق سربراہان نے چیئرمین کے چار سالہ انتخاب کو غیر آئینی قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ کے پہلے جمہوری چیئرمین کا انتخاب موضوع بحث بن گیا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور بورڈ عہدیداروں پر مشتمل حلقے الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔ حمایتی کرکٹرز کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف آئین اور قانون کے مطابق چیئرمین منتخب ہوئے،انھیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ پی سی بی کے سابق سربراہان کی رائے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک بھرمیں ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن کو ووٹ کا حق دیے بغیر الیکشن کمیشن کے کوئی چیئرمین منتخب ہوجائے۔ سابق قومی کپتان و چیف آپریٹنگ آفیسر وسیم باری کاکہنا ہے کہ ذکا اشرف کا پہلا جمہوری چیئرمین منتخب ہونا خوش آئند ہے جس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے، ان کی مخالفت کے بجائے مکمل سپورٹ کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی کرکٹ کی بہتری کیلیے انقلابی اقدامات کر سکیں۔



سابق چیف سلیکٹر محمد الیاس نے کہاکہ پہلا جمہوری چیئرمین منتخب ہونے پر میں ذکا اشرف کو مبارکباد دیتا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ذکا اشرف کے دور میں ملکی کرکٹ پھلے پھولے گی اور انٹرنیشنل کرکٹ جلد بحال ہوگی۔ محمد الیاس نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں خود عدالت سے رجوع کر کے بتائوں گا کہ ذکا اشرف کا انتخاب آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہان چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کے چار سالہ انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا نے کہا کہ چیئرمین کا چار سال کیلیے انتخاب بالکل غلط ہے،انھوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ملک بھرمیں ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشن کو ووٹ کا حق دیے بغیر الیکشن کمیشن کے بناکوئی چیئرمین منتخب ہوجائے۔ سابق چیئرمین خالد محمود نے کہاکہ تمام شہروں کی نمائندگی کے بغیرچیئرمین کا انتخاب کسی بھی طرح آئینی نہیں ہوسکتا۔