صرف تین جماعتوں کی جنگ نہیں
تین جماعتوں کے خلاف جہاد کا اصل مقصد پنجاب کے چند عاقبت نااندیش سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو اقتدار میں لانا ہے۔
دہشت گردوں کے حامی ایک عرصے سے عوام میں فکری انتشار پیدا کرنے اور دہشت گردوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری نہیں امریکا کی ہے۔ اس عیارانہ پروپیگنڈے کے ساتھ یہ سیاسی بددیانت گروہ عوام میں یہ تاثر بھی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی مخالف قوتیں امریکا کی حامی ہیں، اس بدترین پروپیگنڈے کا ایک اثر یہ ہوا کہ دہشت گردوں کے حوصلے بڑھ گئے اور دوسرا منفی اثر یہ ہوا کہ عوام مسلسل ایک ایسے ذہنی انتشار میں مبتلا ہے کہ آخر یہ جنگ کس کی ہے؟ ہماری مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل کیانی نے دو ٹوک انداز میں کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دوسروں کی جنگ کہنے والے کان کھول کر سن لیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے۔
پاکستان کا ایک سادہ لوح ناخواندہ شہری بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی عوام کو خاک و خون میں نہلانے والے دہشت گردوں کے خلاف جنگ امریکا یا اس کے کسی اتحادی کی نہیں رہی بلکہ یہ جنگ پاکستان کے جغرافیائی حدود کے اندر صرف اور صرف پاکستان کی جنگ ہے کیونکہ خیبر سے کراچی تک ہر روز دہشت گردوں کے ہاتھوں جو لوگ مارے جارہے ہیں وہ سب کے سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، البتہ ان بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں کو مارنے والے پاکستانی بھی ہیں، افغانی بھی، ازبک بھی، تاجک بھی اور دوسرے ممالک کے مذہبی انتہا پسند بھی ہیں،
جب کہ یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکا کی جنگ کہتے ہیں تو ذہن میں از خود یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا مہران بیس واشنگٹن میں ہے، کیا کامرہ بیس نیو یارک میں ہے، کیا پشاور ایئرپورٹ بوسٹن میں ہے؟ کیا ہمارا جی ایچ کیو پینٹاگون میں ہے، کیا خیبر سے کراچی تک ہر روز مارے جانے والے امریکی ہیں؟دہشت گرد بار بار یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ اے این پی، متحدہ اور پی پی پی کو نشانہ بناتے رہیں گے، کیونکہ یہ دہشت گردی جہاد ہے ، یہ زبانی جمع خرچ کی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ جہاد ان تین چھوٹے صوبوں میں جاری ہے۔
جہاں ان تینوں جماعتوں کا ووٹ بینک مضبوط ہے۔ اس جہاد کا ذرا گہری نظر سے جائزہ لیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سیاسی جہاد کا اصل مقصد اپنی ہم خیال جماعتوں کے لیے انتخابی کامیابیوں کی راہ ہموار کرنا اور اپنی ہم خیال جماعتوں کی مخالف جماعتوں کے لیے انتخابات جیتنا ناممکن بنانا ہے، ہم بذات خود بھی ملک میں موجود اور جاری اس انتخابی نظام کے سخت خلاف ہیں لیکن ہماری مخالفت میں نہ جانبداری ہے نہ امتیاز، ہم پنجاب میں انتخاب کے حامی اور سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے خلاف نہیں، پھر ہماری مخالفت کی وجہ یہ نہیں کہ ہم اس انتخابی نظام کو کفر کا نظام سمجھتے ہیں بلکہ ہماری مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام میں غریب اور متوسط طبقے کا اہل مخلص اور ایماندار لوگوں کے لیے انتخابات میں حصہ لینا ہی ممکن نہیں، صرف ایلیٹ کلاس کے بد دیانت رہنما ہی ان انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
جن تین جماعتوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ان کا قصور یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ لبرل یا روشن خیال ہونے کے مجرم ہیں، یوں ان تین جماعتوں کو قومی دھارے سے الگ کرکے انھیں تنہا کرنے کی سازش کی جارہی ہے، لیکن اس سازش کے کامیاب ہونے کے امکانات اس لیے کم بلکہ عنقا ہیں کہ ملک میں کروڑوں لوگ ان جماعتوں کے حامی ہیں اور وہ تمام اہل عقل دہشت گردوں کے مخالف ہیں، جو امن بھائی چارے اور قومی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں، یوں یہ جنگ صرف تین جماعتوں کے خلاف جنگ نہیں بلکہ اس ملک کے ان اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف جہاد ہے جو اس ملک میں امن، بھائی چارے، قومی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں اور مذہبی انتہا پسندی دہشت گردی ٹارگٹ کلنگ جیسی قبیح حرکتوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تین جماعتوں کے ساتھ وہ تمام قوتیں جڑ جائیں جو اس ملک سے مذہبی انتہا پسندی وحشیانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کو بدترین جرم سمجھتے اور ملک وقوم کے مستقبل پر منڈلانے والے انتہا پسندی کے ان سایوں سے نجات چاہتے ہیں۔
9/11 کے بعد امریکا کے سابق صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا تھا وہ بلاشبہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگ تھی اور اس جنگ میں امریکا کے سابق صدر بش نے طاقت اور دھونس کے ذریعے پاکستان کو شامل کیا۔ پاکستان نے یہ جنگ اپنے ملک کے اندر ہی لڑی اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے لڑی نہ کہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کی فوج کی حفاظت کے لیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کو افغانستان سے اٹھاکر پاکستان میں کون لایا...؟
کیا دہشت گردوں کی اس جنگ کو پاکستان کی جغرافیائی حدود میں امریکا لے آیا؟ اس حوالے سے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ امریکا نے پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے کرکے اس جنگ کا دائرہ پاکستان تک بڑھادیا، بجا درست، لیکن پاکستان کے اپنے علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان پر قبضہ کرکے ان علاقوں کو دہشت گردوں کے اڈوں میں کس نے بدلا، سوات پر قبضہ کرکے اس کا بیڑہ کس نے غرق کیا، خیبر پختونخوا کے شہروں کو خون میں کیا امریکا نے نہلایا، کراچی جیسے روشنی کے شہر کو خون ناحق میں کس نے ڈبویا، کراچی میں ہر روز درجنوں بے گناہ انسانوں کو کیا امریکا اور اس کے اتحادی قتل کررہے ہیں؟ کوئٹہ کی علمدار اور کیرانی روڈ پر جو سیکڑوں جنازے رکھے گئے تھے کیا یہ لاشیں امریکی فوجوں کی سرپرستی کا نتیجہ تھیں...؟ کیا ہماری سیکیورٹی فورسز کے مورچوں اور قافلوں پر امریکا کی فوجیں حملے کرکے ہمارے بے گناہ فوجیوں کو قتل کررہی ہیں؟
جہاد مسلمانوں کے مذہب کا ایک اہم رکن ہے جس کا مقصد دین کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے! کیا خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں قتل کیے جانے والے دو سال کے بچوں، عورتوں سے لے کر 80 سال کے بوڑھوں تک یہ سب دین کے دشمن ہیں؟ کیا یہ بھارت میں رہنے والے کافر ہیں یا فوجی ملکوں میں رہنے والے فرنگی ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب محب وطن پاکستانی اور مسلمان ہیں تو ان کی لاشوں کے ٹکڑے کرنے والے کیا مسلمان ہوسکتے ہیں؟ اصل میں اس وحشیانہ جنگ کا آغاز ضیاء الحق نے امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے کیا تھا، آج جو مجاہدین اپنے ہم وطنوں، ہم مذہبوں کو قتل کررہے ہیں وہ امریکی ڈالروں کے پروردہ ہیں جنھیں امریکا نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے جہاد کے نام پر استعمال کیا اب یہ جہاد پاکستانیوں کے خلاف لڑا جارہا ہے۔
تین جماعتوں کے خلاف جہاد کا اصل مقصد پنجاب کے چند عاقبت نااندیش سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو اقتدار میں لانا ہے۔ اس حقیقت اور سازش سے پنجاب کے کروڑوں غریب عوام کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ سازش اس لیے کی جارہی ہے کہ جو لوگ دہشت گردوں کی حمایت اور مہربانی سے اقتدار میں آئیںگے وہ اخلاقاً ان قوتوں کی مخالف نہیں ہوسکتیں، نہ ان سے دہشت گردوں کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ دہشت گرد اس موقع سے فائدہ اٹھاکر پاکستان کے چپے چپے پر اپنے قدم مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور جب یہ کام ہوجائے گا تو ان کی مہربانی سے اقتدار میں آنے والے بھی ان کے زیر عتاب آجائیں گے اور ان کے لیے میدان صاف ہوجائے گا۔
مذکورہ تین جماعتوں سے عوام کو سخت اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جو عذاب اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اور ان کے مستقبل پر منڈلا رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ اس جنگ کو تین جماعتوں کی جنگ نہ رہنے دیا جائے بلکہ اس جنگ کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی جنگ بنایا جائے، اسی طرح یہ تین جماعتیں اپنے حصار میں قید ہوکر یہ جنگ نہ لڑیں بلکہ اس میں ان تمام جماعتوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں جو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہیں، ان میں ٹریڈ یونین بھی آسکتی ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی، سول سوسائٹی بھی، وکیلوں، ڈاکٹروں، طلبا کی تنظیمیں بھی، جب تک دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کو قومی جنگ بناکر منظم مربوط اور منصوبہ بندطریقے سے ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ نہ لڑا جائے گا، کامیابی ممکن نہیں۔