سربجیت اور ثناء اللہ

اگر سربجیت کو پھانسی دی جاتی تو یہ پھانسی قانون انصاف اور عوامی جذبات کے عین مطابق ہوتی.


Zaheer Akhter Bedari May 12, 2013
[email protected]

سربجیت سنگھ پر جیل میں قیدیوں نے اس قدر تشدد کیا کہ وہ کوما میں چلا گیا، اسے لاہور کے جناح اسپتال میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا جہاں وہ دو دن مصنوعی سانس لیتا رہا پھر اس کی سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی۔ بھارت سے سربجیت سنگھ کی بیوی، بہن اور بیٹیاں لاہور آئیں جناح اسپتال میں سربجیت سنگھ کو وینٹی لیٹر پر نیم مردہ حالت میں دیکھا انھیں اندازہ ہوا کہ سربجیت سنگھ یا تو مرچکا ہے یا کچھ دیر کا مہمان ہے۔

ڈاکٹروں نے اعلان کردیا تھا کہ سربجیت سنگھ کی دماغی موت ہوچکی ہے۔ عموماً وینٹی لیٹر پر مریض کو دماغی موت کے بعد رکھنا لاش کو رکھنے کے برابر ہے۔ سربجیت سنگھ کے بیوی بچوں کو سربجیت کی زندگی کی دو فیصد بھی آس ہوتی تو وہ اس کی تیمارداری کے لیے لاہور میں رک جاتے ان کا سربجیت کو وینٹی لیٹر پر چھوڑ کر بھارت واپس جانا سربجیت سنگھ کی زندگی سے مایوسی کا ثبوت تھا۔

بہرحال سربجیت سنگھ کی موت کا باضابطہ اعلان ہوا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اس کی لاش کو اس کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا لاش بھارت پہنچی انڈین میڈیا نے سربجیت سنگھ کی موت کو فرقہ وارانہ تشدد کا نتیجہ قرار دیا۔ سربجیت کو ایک محب وطن ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا اور بالواسطہ طور پر یہ ثابت کیا گیا کہ پاکستانی معاشرہ مذہبی انتہاپسندی کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ سربجیت کے انتم سنسکار میں بھارت کے چوٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی جن میں راہول گاندھی بھی شامل تھے۔ اس کے بچوں کو ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان ہوا۔

بات یہیں پر ختم ہوجاتی تو صرف پاکستان پر مذہبی انتہاپسندی کا الزام ثابت ہوجاتا لیکن ہوا یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی جیل میں عمر قید کاٹنے والے ایک عمر رسیدہ باریش قیدی ثناء اللہ پر ہندو قیدیوں نے ویسے ہی تشدد کیا جیسے لاہور کی جیل میں پاکستان کے مسلمان قیدیوں نے سربجیت پر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس تشدد کے نتیجے میں ثناء اللہ کا بھیجہ باہر نکل آیا اور ثناء اللہ کوما میں چلا گیا اسے بھی سربجیت کی طرح وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور اس کا حشر بھی سربجیت جیسا ہی ہوا۔

اسی اثناء میں دہلی کے تہاڑ جیل میں بھی فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑے جن میں دہلی ہی کے رہنے والے ایک قیدی سلیم کو ہندو قیدیوں نے جان سے مار دیا، لگ رہا ہے کہ یہ سلسلہ دونوں ملکوں کی جیلوں میں طول پکڑے گا۔ سربجیت پر حملے کے بعد اس بات کا پورا امکان تھا کہ اس کے ردعمل میں بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں پر حملے ہوں گے اور بھارتی حکومت کی ذمے داری تھی کہ وہ مسلمان اور پاکستانی قیدیوں کی حفاظت کا فول پروف انتظام کرتی لیکن ایسا نہ ہوا اور وہ المیے پیش آئے جن کے مزید آفٹر شاک کے اندیشے موجود ہیں۔

جیلوں میں خواہ وہ ہندوستان کی ہوں یا پاکستان کی قیدیوں کے درمیان خونریز فسادات ہوتے رہتے ہیں جن میں عموماً جانی نقصان بھی ہوتا رہتا ہے لیکن سربجیت اور ثناء اللہ پر حملوں کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ سربجیت پر 14 پاکستانیوں کے قتل کا الزام تھا جو اس نے لاہور اور فیصل آباد میں کیے تھے اس پر بھارت کے لیے جاسوسی کا الزام بھی تھا وہ 14 قتل کے بعد جب بھارت فرار ہورہا تھا تو اسے سرحد پر گرفتار کر لیا گیا یہ گرفتاری 1990 میں ہوئی اور 1991 میں اسے عدالت نے سزائے موت سنائی اس وقت سے وہ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کے سیل میں قید تھا اس کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کے متعلقین نے بے انتہا کوششیں کیں بلکہ بھارتی حکومت بھی سربجیت کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت سے رابطے کرتی رہی لیکن سربجیت کو رہائی نہ ملی۔

بمبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد تو سربجیت کی رہائی کی رہی سہی امید بھی ختم ہوگئی۔ سربجیت نے اگر 14 پاکستانیوں کو قتل کیا تھا تو خواہ اس نے یہ قتل بھارتی جاسوس کی حیثیت سے کیے ہوں یا ایک بھارتی فرقہ پرست جنونی کی حیثیت سے اسے اس گھناؤنے جرم کی سزا ملی تھی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ سزائے موت سنانے کے بعد اسے 22 سال تک جیل میں کیوں بند رکھا گیا۔

سربجیت اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل کا قانونی حق استعمال کرتا رہا اور اس کی یہ تمام اپیلیں مسترد ہوتی رہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپیلوں کے مسترد ہونے کے بعد اسے سزائے موت دے دی جاتی لیکن ایسا بوجوہ نہ ہوسکا پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سربجیت سنگھ نے اپنی زندگی کے جو 22 سال جیل میں گزارے وہ کس کھاتے میں جائیں گے اور اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوگی؟

پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر جو تاریخ کی بدترین خونریزی ہوئی اس نے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت کی ایسی آگ بھڑکائی کہ 65 سال گزر جانے کے بعد بھی یہ دبی ہوئی آگ کہیں سربجیت پر حملے کی شکل میں باہر آرہی ہے تو کہیں اس کے ردعمل میں ثناء اللہ پر قاتلانہ حملے اور دہلی کے تہاڑ جیل میں فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں اپنا سر باہر نکال رہی ہے۔

لاہور کی جیل میں سربجیت کو جن لوگوں نے قتل کیا ان کا سربجیت سے کوئی ذاتی جھگڑا یا عناد نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے وہ عصبیت انتقام کا وہ جذبہ تھا جسے پاکستان میں بڑھتی پھیلتی مذہبی انتہاپسندی نے پروان چڑھایا۔ مذہبی انتہا پسندی پاکستان میں جس مقام پر پہنچادی گئی ہے وہاں من وتو کا امتیاز ختم ہوگیا ہے ۔

سربجیت کے قتل کے جواب میں مقبوضہ کشمیر کی ایک جیل میں پاکستانی قیدی ثناء اللہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ثناء اللہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ہندو تھے اور سربجیت پر حملہ کرنے والے مسلمان تھے لیکن یہ انسان نہ تھے اور جب کسی مذہب کا ماننے والا انسان کے درجے سے گرجاتا ہے تو پھر اس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ ہمارا میڈیا ہمارے بعض مخصوص حلقے اس بات پر معترض ہیں کہ ہندوستان میں سربجیت کو ہیرو کا درجہ دیا گیا اور اسے قومی پرچم میں لپیٹ کر سپردآگ کیا گیا۔

ہماری نظر میں سربجیت 14 پاکستانیوں کا قاتل تھا اور اس کو اس جرم میں جو سزا دی گئی وہ قانون اور انصاف کے عین مطابق تھی اگر سربجیت کو پھانسی دی جاتی تو یہ پھانسی قانون انصاف اور عوامی جذبات کے عین مطابق ہوتی اور سربجیت کی موت سے کسی کو حیرت ہوتی نہ دکھ ہوتا۔ لیکن جب اسے قتل کردیا گیا تو یہ قتل قانون اور انصاف کی حدود سے نکل کر مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی حدود میں داخل ہوگیا ۔ اور مشتعل لوگوں کے لیے یہ قتل مذہب کی سربلندی کا ذریعہ بن گیا۔

ثناء اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غلطی سے سرحد پار کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اگر یہ بات درست ہے تو ہندوستان کی حکومت کا ثناء اللہ کو سترہ سال سے جیل میں رکھنا ایک متعصبانہ عمل ہے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہندوستانی حکومت سربجیت اور ثناء اللہ پر ظلم کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ اصل مسئلہ مذہبی تعصب، مذہبی منافرت کا ہے ۔بھارت ابھی تک اس بات کا دعویدار ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے اگر اس دعوے میں وزن ہوتا تو سربجیت کے قتل کے بعد بھارتی حکومت بلاتاخیر ہندوستانی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی حفاظت کا فول پروف انتظام کرتی لیکن ایسا نہ ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقبوضہ کشمیر کی جیل میں ثناء اللہ پرحملہ کرکے اس کا بھیجہ باہر نکال دیا گیا۔

کیا اسے ہم ہندوستانی حکومت کی نااہلی کہیں یا ہندوستانی حکومت کی تعصب پسندی؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سربجیت اور ہندوستانی جیلوں میں قاتلانہ حملوں کا شکار ہونے والوں کے قاتل کیا وہی مذہبی انتہاپسند ہیں جنھوں نے پاکستانی اور ہندوستانی قیدیوں کو قتل کیا؟ بہ ظاہر تو یہی جنونی ان قیدیوں کے قاتل نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ بے گناہ ہیں اصلی قاتل وہ مذہبی انتہاپسند ہیں جو سادہ لوح انسانوں کے ذہنوں کو مذہبی منافرت سے آلودہ کردیتے ہیں یہی طاقتیں معاشرے میں مذہبی انتہاپسندی مذہبی منافرت کو عوام تک پھیلا دیتی ہیں اور ان ہی اصل مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے حکام یہ فرما رہے ہیں کہ سربجیت کو ہم نے ایک مشن پر پاکستان بھیجا تھا اور وہ اپنا مشن کامیابی سے پورا کرنے کے بعد بھارت واپس آتے ہوئے سرحد پر پکڑا گیا۔ سربجیت نے بم بلاسٹ کے ذریعے 14 پاکستانیوں کو قتل کیا۔ کیا یہی اس کا کامیاب مشن تھا؟ اگر اسی مشن پر سربجیت کو پاکستان بھیجا گیا تھا تو کشمیر میں لڑنے والے پاکستانی مجاہدین کے خلاف بھارتی حکومت کا واویلا بددیانتی کے سوا اور کیا کہلاسکتا ہے؟

مقبول خبریں