یونان اور لاؤس میں الم ناک سانحات

ڈیم کا ٹوٹنا کسی قیامت صغری سے کم نہیں اور اس میں انسانی اور ادارہ جاتی غفلت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔


Editorial July 26, 2018
ڈیم کا ٹوٹنا کسی قیامت صغری سے کم نہیں اور اس میں انسانی اور ادارہ جاتی غفلت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ایک جانب تو رواں صدی میں سائنس وٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے انسان کی دسترس میں وہ کچھ آچکا ہے جس کا تصور خواب وخیال میں بھی نہیں کیا جاسکتا ، دریاؤں کا رخ موڑنے اور ان کا راستہ روک کر ان پر ڈیم بنانے تک ، شعبہ طب میں محیرالعقول کامیابیوں سے لے کر خلاؤں کو سرکرنے تک ایک طویل اورکامیاب داستان ہے جس پر انسان فخر کرسکتا ہے ۔ دوسری طرف اس کی بے بسی اور بے چارگی ہے جس پر ترس آتا ہے۔

دو افسوس ناک سانحات کی خبریں عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔ پہلی کا تعلق جنوب مشرقی ایشیائی ملک لاؤس سے ہے جہاں زیر تعمیر ڈیم ٹوٹنے سے13 سو سے زائد افراد لاپتہ اور درجنوں جاں بحق جب کہ اربوں کیوبک ٹن پانی قریب کے چھ دیہات میں پھیل چکا ہے ،ایک وسیع علاقہ زیر آب آچکا ہے، ساڑھے چھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ لاؤس کے وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ ڈیم کے قریبی علاقے میں تمام کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ڈیم کا ٹوٹنا کسی قیامت صغری سے کم نہیں اور اس میں انسانی اور ادارہ جاتی غفلت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے ، یہ بات تو شفاف تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی کہ اس سانحے کا ذمے دار کون ہے ، بہرحال ڈیم کی تعمیر کے دوران حفاظتی اقدامات کے فقدان اس کا بنیادی سبب نظرآتا ہے ۔

دوسری افسوسناک خبر کے مطابق یونان کے جنگل میں خوفناک آتشزدگی سے خواتین اور بچوں سمیت 74 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد لوگوں کو جان بچانے کا موقع ہی نہ مل سکا ، بہت سی ہلاکتیں دم گھٹنے سے بھی ہوئیں، ایک ہزار سے زائد مکان ، عمارتیں اور تین سوکاریں تباہ ہوگئیں، متاثرہ علاقوں سے سات سو سے زائد افراد کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے، سیکڑوں فائر فائٹرزکے علاوہ طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی آگ بجھانے میں مصروف ہیں،حکومت کے مطابق اب زیادہ تر علاقے میں آگ پر قابو پایا جا چکا ہے۔

دونوں واقعات میں انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے ۔ ناگہانی آفات کا تسلسل دراصل انسانی وسائل اور ذہن کے لیے مزید چیلنجز کو سامنے لاتا ہے۔ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک ایسا مربوط حفاظتی اور فول پروف نظام وضع کیا جانا چاہیے جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روک سکے ۔