حکومت سازی کیلیے ن لیگ کے مشورے فرشتے نہیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں نواز شریف

ڈرون حملوں پر عوام کو تشویش ہے،امریکا سے تصفیہ ہوجائیگا،مشرف کے اقدام کا الزام فوج کو نہیں دے سکتے...


Online/APP/Numainda Express May 13, 2013
لاہور میں مسلم لیگ ن کے کارکن انتخابات میں پارٹی کی کامیابی پر جشن منارہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

عام انتخابات میں کامیابی ملنے کے بعد وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی پر غور کیلیے ن لیگ کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس اتوار کو پارٹی سربراہ نواز شریف کی صدارت میں جاتی عمرہ رائیونڈ میں ہوا ۔

اجلاس میں آزاد امیدواروں سے رابطوں سمیت حکومت سازی کیلیے حکمت عملی پر غورکیا گیا۔ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے وفاق یا صوبے میں کردار کے حوالے سے بھی رہنمائوں نے تجویزدی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف، سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر پرویز رشید، مریم نوازشریف ' خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اگرچہ حتمی نتائج کے بعد (ن) لیگ کو سادہ اکثریت مل رہی ہے تاہم آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے امیدواروں سے بھی رابطوں پر غور کیاگیا اور فیصلہ کیا گیا کہ صاف ستھرے لوگوں کو ساتھ آنے کی دعوت دی جائیگی ۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ جس بھی جماعت کو جتنا مینڈیٹ ملا ہے ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور خواہش ہے کہ ملک و قوم کی خاطر سب ملکر چلیں تاکہ ملک کو مسائل کے بھنور سے نکالا جاسکے او رحکومت سازی کیلیے فوری پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

اجلاس میں پنجاب میں حکومت سازی پر بھی غور کیا گیا جس میں شہباز شریف کے وفاق یا پنجاب میں کردار اہم موضوع تھا ۔ شہباز شریف نے وفاق میں جانے کی خواہش کا اظہارکیا تاہم اجلاس کے شرکا نے اْنھیں ایک مرتبہ پھر وزارت اعلیٰ دینے اور سینیٹر اسحق ڈار کو وفاقی وزیرخزانہ بنانے کی تجویز دیدی۔ رہنمائوں نے تجویز دی ہے کہ شہباز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہی سنبھالنی چاہیے کیونکہ ان کی پنجاب میں بہترین کارکردگی رہی ہے اور آئندہ 5 سال میں صوبے کی ترقی کیلیے شہبازشریف سے بہتر کوئی شخصیت نہیں تاہم بعض رہنمائوں نے کہا کہ شہبازشریف کو پانی وبجلی کی وزارت دیکر بجلی کا بحران ختم کرنا چاہیے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ انکی پارٹی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی، ابھی سے کام شروع کردیا ۔ ا نکا کہنا تھا کہ وہ کسی کو سونامی خان نہیں کہیں گے، ہم نے انھیں معاف کیا ، وہ ہمیں معاف کردیں۔



حکومت بنانا ان کی پارٹی کی خواہش ہے اور حق بھی۔دریں اثنا امریکی اخبار ''وال اسٹریٹ جرنل'' کو انٹرویو میں متوقع وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت امریکا، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلیے کام کریگی، ڈرون حملوں پر پاکستانی عوام کو تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب اس سے قبل وہ وزیراعظم تھے تو اس وقت پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلیے کام کریں گے۔ ایک سوال پر نوازشریف نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں اور دیگر متنازعہ ایشوز پر وہ امریکہاکے ساتھ کسی تصفیہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے، ڈرون حملوں پر پاکستانی عوام کو تشویش ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے ہوں گے، ہم افغانستان کی مکمل حمایت کریں گے اور ہمارا وہاں پر کوئی فریق بننے کا ارادہ نہیں۔

میں نے اپنی گزشتہ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلیے کام کیا تھا، کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلیے بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا سلسلہ وہاں سے دوبارہ جوڑیں گے جہاں سے یہ ٹوٹا تھا۔ آن لائن کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، اہم بات یہ ہے کہ ان غلطیوں سے سبق حاصل کیا جائے، ہم فرشتے نہیں، ملک کو1999میں جہاں چھوڑا تھا وہاں سے لیکر آگے بڑھیں گے، معیشت کی تعمیرنو کیلئے کام کرنا ہوگا اور ہم 5سالہ مدت کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے بھی کام کریں گے۔ آئی این پی کے مطابق برطانوی اخبار ٹیلی گراف اور ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں متوقع وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کام کا تجربہ ہے، مستقبل میں بھی روابط پر خوشی ہوگی ، پاکستانی سر زمین کو کسی ایسے شخص یا گروہ کو استعمال نہیں کرنے دیں گے جو دنیا کے کسی بھی ملک کیلیے خطرہ ہو، پرویز مشرف کے اقدام کا الزام پوری فوج کو نہیں دے سکتے، پاکستانی عوام کو ڈرون حملوں پر گہری تشویش ہے، بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے۔

مقبول خبریں