راشد لطیف کیسسماعت کیلیے29 مئی کی تاریخ مقرر

سابق کپتان نے پٹیشن میں چیئرمین پی سی بی کے انتخاب وطریقہ کارکوچیلنج کردیا.


Sports Desk May 14, 2013
نئے آئین کے تمام نکات کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا،بورڈ وکیل۔ فوٹو: فائل

راشد لطیف کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کے لیے29 مئی کی تاریخ مقرر کر دی۔

سابق کپتان نے وکیل عمیر اے قاضی کے توسط سے پٹیشن میں چیئرمین پی سی بی کی حیثیت سے ذکا اشرف کے انتخاب اور طریقہ کار کو چیلنج کیا،انھوں نے گورننگ بورڈ کو بھی غیرقانونی قرار دینے کی استدعا کردی ہے، گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں راشد لطیف نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی فردواحد کے خلاف نہیں البتہ نظام میں موجود خامیوں کو درست کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ نئے آئین کے تحت ذکااشرف8 مئی کو4 سال کے لیے چیئرمین پی سی بی منتخب ہوئے تھے،ان پر یہ اعتراض سامنے آیا کہ خود کو منتخب کرانے کے لیے جمہوری تقاضے پورے نہیں کیے،ذکا اشرف نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ انھیں بورڈ آئین کے بارے میں آئی سی سی کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کے بعد منتخب کیا گیا۔



چیئرمین کی نامزدگی10رکنی گورننگ بورڈ نے کی، اس میں ریجنز اور ڈپارٹمنٹس کے5،5نمائندے شامل ہیں، پنجاب ریجن کو شامل نہ کرنے پر بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس نے اپنے انتخابات ہی نہیں کرائے لہذا نمائندگی نہیں مل سکی۔ دریں اثنا پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا ہے کہ جب بھی نوٹس ملا پیش ہو کر نئے پی سی بی آئین کے تمام نکات کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا، لاہور سے فون پر نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو میں انھوں نے مزید کہا کہ عدالت جانا ہرکسی کا حق اسی طرح ہمیں بھی اپنے دفاع کا اختیار حاصل ہے، بورڈ کا آئین منظور شدہ اور حالیہ تمام فیصلے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔