معیشت اور نئی حکومت

ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی سے تمام اشیاء ضرورت کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لہٰذا اس طرف پوری طاقت لگا دینی چاہیے۔


Editorial July 30, 2018
ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی سے تمام اشیاء ضرورت کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لہٰذا اس طرف پوری طاقت لگا دینی چاہیے۔ فوٹو: فائل

ملک میں عام انتخابات ہو چکے ہیں' چند دنوں کے بعد نئی حکومت بھی تشکیل پا جائے گی' نئی حکومت کو سیاسی مسائل کا سامنا ہوتا ہے یا نہیں البتہ اسے معاشی و اقتصادی مسائل کا سامنا لازمی ہوگا۔

ملکی معیشت کی صورت حال اچھی نہیں ہے' تحریک انصاف کے اسلام آباد سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے بھی کہا ہے کہ حالیہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں ڈیڑھ ماہ میں چھ سات کروڑ ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ نہیں ملا جب کہ پاکستان کو ماہانہ2ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے لہٰذا ایمنسٹی سے ڈیڑھ دن کا خسارہ بھی پورا نہیں ہوتا ہے' ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس بیل آؤٹ پیکیج کے لیے جانا پڑے گا۔

معیشت پر جس چیز کے سب سے زیادہ صنعتی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ ہے غیریقینی کی صورتحال جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ معاملات پر اختیارات کس کا ہے۔ صاحب اختیار کے اہداف کیا ہیں اور وہ اپنی ترجیحات کیسے مرتب کریں گے۔ یہ وہ تمام سوالات ہیں جنہوں نے پاکستانی معیشت کا احاطہ کر رکھا ہے اور ان حالات کو اب پورا ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔

غیریقینی حالات گزشتہ جولائی میں شروع ہوئے جن کی وجہ سے روپے کی قدر میں غیرمعمولی کمی لانے کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں معاشی مشکلات بڑھنا شروع ہوئیں' پھر سابق وزیر خزانہ کی جگہ ایک نئی اقتصادی ٹیم متعین کر دی گئی جس نے معیشت میں مزید تبدیلیاں کیں اور دسمبر میں پاکستانی روپے پر ڈالر کا غلبہ اور زیادہ بڑھ گیا، اس دوران اگلے بجٹ کی تاریخ نزدیک آنے لگی لیکن دوسری طرف غیریقینی صورتحال کے باعث تمام کام ٹھپ ہوتا نظر آنے لگا۔

اس وقت پاکستانی معیشت کی جو صورتحال ہو گئی ہے، اس پر قابو پانے کے لیے یقیناً کسی ایسی ''کاری گری'' کی ضرورت ہے جس سے دھاگہ تلواروں کے ساتھ لڑ سکے اور یقیناً معیشت کے حقیقی ماہرین میں کچھ ایسے کلاکار بھی ہوںگے جو ممولے کو شہباز سے لڑا دیں ۔ اگر دنیا بھر کی معیشت پر قابض سرمایہ کاروں کی کاریگری پر سرسری نظر ڈالی جائے تو انھوں نے بھی ایسے ایسے قوانین بنائے جن کے ذریعے انھوں نے دنیا بھر کی کرنسیوں کی تلواروں کو گویا ایک دھاگے سے کاٹ پھینکا۔

اب بھلا اس بات کی کوئی منطق ہو سکتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت روپیہ اور ڈالر تقریباً برابر کی کرنسیاں تھیں لیکن اب ان گزرے برسوں میں پاکستان کا روپیہ ڈالر سے 125کے لگ بھگ کم ہو گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے پلک جھپکنے میں اس مملکت خداداد پر اربوں کی مقدار میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ہمارے بیشتر قارئین کرام کو شاید اس چالاکی کا علم ہی نہ ہو کہ دیگر ملکوں کو قرضے میں جکڑنے کے لیے مغربی ماہرین اقتصادیات نے باقاعدہ '' اکنامک ہٹ مین'' مقرر کیے ہوئے ہیں جو نوزائیدہ ملکوں میں بطور خاص بھیجے جاتے ہیں کہ جاؤ اور ان کی نئی حکومت کو قرضے کے فوائد اور مراعات سے آگاہ کر کے ان کا لالچ بیدار کرو اور ایک دفعہ وہ ہمارے شکنجے میں آ جائیں تو پھر ہماری خون آشام مکڑیاں ان کا خون چوستی رہیں گی اور وہ کبھی ہمارے چنگل سے آزاد نہ ہو سکیں گے۔

جہاں تک پاکستانی معیشت کی بحالی کا تعلق ہے تو سب سے پہلے ہمارے ذمے داروں کو اس حوالے سے غیریقینی کی فضا ختم کرنا ہو گی۔ عوام کا اور کاروباری حضرات اور تاجروں وغیرہ کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ معیشت کی ترقی کے لیے اس کی سمت کا تعین کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس ضمن میں ٹھوس احکامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس حکومت میں پرخلوص اور محب وطن ماہرین بھی موجود ہیں جن کو یہ مشکل کام نتیجہ خیز بنانے کے لیے سوچا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ تازہ خبروں میں ڈالر کی قیمت میں تھوڑڑی کمی اور روپے کی قدر میں تھوڑے اضافے کی شنید ہے۔

اللہ کرے یہ بات درست ہو تو اس سمت میں مزید کوشش جاری رکھی جا سکتی ہے جو یقیناً نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی سے تمام اشیاء ضرورت کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لہٰذا اس طرف پوری طاقت لگا دینی چاہیے۔ اقتصادی معاملات پر اب جس شخص کو بٹھایا جائے وہ وزارت مالیات کے تمام افسروں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذمے داروں سے مثبت ملاقاتیں کرے اور مسائل کا حل نکالے۔

ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری نے متوسط طبقے کی حالت پتلی کر دی ہے' خوشحال اور متمول طبقے کے لیے تو شاید مسائل اتنے زیادہ نہ ہوں لیکن نچلے تنخواہ دار اور چھوٹے کاروباری طبقے کے لیے حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں' حالت یہ ہے کہ ہمارے ڈاکٹرز اور انجینئرز تک بے روز گار ہیں اور ہماری معیشت میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ ان قابل نوجوانوں کو اپنے اندر سمو سکے۔ آنے والی نئی حکومت کو اپنی اولین توجہ ملکی معیشت پر دینی چاہیے تاکہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔