بھارت افغانستان کا پاکستان سے بہتر تعلقات کا عندیہ

بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور خطے کو پرامن بنانے کے لیے جن خواہشات کا اظہار کیا ہے۔


Editorial July 31, 2018
بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور خطے کو پرامن بنانے کے لیے جن خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو: فائل

عمران خان کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھارت اور افغان حکومت نے انھیں مبارکباد دیتے ہوئے ملکی سطح پر بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو خوش آیند ہے۔

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے عمران خان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان باہم بھائی چارے ہمسائیگی اور دوستی کے دیرینہ رشتوں میں منسلک ہیں، افغان صدر نے عمران خان کو افغانستان دورے کی دعوت بھی دی جسے عمران خان نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مکمل امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔

افغان صدر نے اس گفتگو کے بارے میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم نے ماضی کو بھلا کر دونوں ملکوں کے خوشحال سیاسی' سماجی اور معاشی مستقبل کے لیے ایک نیا سنگ بنیاد رکھنے پر اتفاق کیا۔

بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو محفوظ اور پر امن بنانے کے لیے کام کرے گی، انھوں نے کہا کہ بھارت خوش حال اور ترقی پسند پاکستان کا خواہشمند ہے، امید کرتے ہیں نئی حکومت جنوبی ایشیاء کو محفوظ، مستحکم و پرامن اور دہشت گردی و تشدد سے پاک خطہ بنانے کے لیے تعمیری کام کریگی، ترجمان بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانیوں نے انتخابات کے ذریعے جمہوریت پر جس اعتماد کا اظہار کیا وہ خوش آیند ہے ، نئی حکومت سے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی توقع ہے۔

بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور خطے کو پرامن بنانے کے لیے جن خواہشات کا اظہار کیا ہے،وہ یقیناً ایک صائب قدم ہے' اگر دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان کے ساتھ اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ایک عرصے سے دہشت گردی اور تشدد کے شکار اس خطے میں حقیقی معنوں میں امن و امان قائم ہوجائے گا۔

عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی وکٹری اسپیچ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ' انھوں نے یورپی یونین کی طرز پر افغانستان کے ساتھ کھلے بارڈر کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔

بھارت اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک عرصے سے بہت سی پیچیدگیوں کا حامل ہونے کے باعث کشیدہ چلے آ رہے ہیں' رخصت ہونے والی پاکستانی حکومت نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی بالخصوص بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے حکومتی سطح پر بارہا مذاکرات کی خواہش کے اظہار کا اعادہ کیا جاتا رہا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان ہر دو حکومتوں کی جانب سے پاکستان کی ان کوششوں میں رخنہ اندازی کے سبب بہتر تعلقات قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا' پاکستانی حکومت نے مودی سرکار کے جارحانہ رویوں کے باوجود خطے میں قیام امن کی خاطر بھارتی حکومت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی مگر بھارتی حکومت کے منفی رویے کے باعث خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات کا کوئی سلسلہ شروع نہ ہو سکا۔

اگر بھارتی حکومت لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیتی تو ممکن ہے بات آگے بڑھتے بڑھتے دونوں ممالک کے حکمرانوں کے درمیان مذاکرات تک پہنچ جاتی جس میں باہمی تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کیا جا سکتا تھا۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو پاکستان نے وہاں بھی امن عمل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا یہاں تک کہ مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا بہترین کردار ادا کیا مگر افغان حکومت کے اپنے منفی رویے کے باعث یہ مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے اور معاملات جوں کے توں رہے۔

پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی سرپرستی بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے کیمپوں اور اڈوں سے ہوتی رہی' جس پر پاکستان نے احتجاج کرتے ہوئے افغان حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ وہ اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے مگر افغان حکومت ابھی تک ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

عمران خان کی جانب سے بھارت اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار خوش آیند ہے مگر اس کی راہ میں بے شمار پیچیدگیاں اور مسائل حائل ہیں جب تک ان کے حل کے لیے بھارت اور افغانستان کی حکومتوں کی طرف سے مثبت رویے کا اظہار نہیں کیا جائے گا بات آگے نہیں بڑھے گی۔ اس لیے نئی پاکستانی حکومت کو اپنے دونوں پڑوسی ممالک کے ساتھ بنیادی متنازعہ مسائل کے حل پر زور دینا ہو گا۔