’’کپتان جی مبارکباد ہو‘‘

میں آسٹریلیا سے روانہ ہو چکامجھ سے انتظار نہیں ہو رہا کہ پاکستان آکر کپتان کو جیت کی مبارکباد دوں، وقار یونس کی ٹوئٹ


Saleem Khaliq August 01, 2018
میں آسٹریلیا سے روانہ ہو چکا، مجھ سے انتظار نہیں ہو رہا کہ پاکستان آ کر کپتان کو جیت کی مبارکباد دوں فوٹو:فائل

''میں آسٹریلیا سے روانہ ہو چکا، مجھ سے انتظار نہیں ہو رہا کہ پاکستان آ کر کپتان کو جیت کی مبارکباد دوں'' وقار یونس کی یہ ٹویٹ دیکھ کر میں مسکرانے لگا، ساتھ کھڑے دوست نے پوچھا ''کسی نے کوئی اچھا سا لطیفہ بھیج دیاکیا مجھے بھی فارورڈ کردو'' میں نے جواب دیا لطیفہ تو نہیں البتہ جو کچھ ان دنوں ہو رہا ہے وہ کسی لطیفے سے کم نہیں ہے،سابق کرکٹرز اتنی تیزی سے عمران خان کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے ہیں جیسے ان سے مخلص کوئی اور ہے ہی نہیں، جب تک نئے پاکستان کا نیا کرکٹ بورڈ تشکیل نہیں پاتا یہ سلسلہ جاری رہے گا، میں یہ نہیں کہتا کہ سب کو عہدوں کی لالچ ہے لیکن بیشتر کو یہی لگتا ہو گا کہ کپتان کو شکل دکھا دو شاید کل کچھ فائدہ ہوجائے۔

عمران خان طویل عرصے سے سیاسی جدوجہدکر رہے تھے مجھے نہیں یاد اس وقت اتنی بڑی تعداد میں کرکٹ کے پرانے ساتھیوں نے ان کے پاس جا کر کہا ہو'' اسکیپر ہم آپ کے ساتھ ہیں'' بعض نجی محفلوں میں توکئی کو میں نے ان کا مذاق اڑاتے بھی سنا کہ '' یہ ساری عمر جدوجہد کر لیں وزیراعظم نہیں بن سکتے'' اب وہی لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ '' ہمیں پہلے ہی پتا تھا کہ عمران بھائی ایک دن اس عہدے پر پہنچیں گے'' تو اس پرمیں مسکراؤں نہیں تو کیا کروں، آسٹریلوی شہری وقار یونس موجودہ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے ستائے ہوئے ہیں، سابق کوچ کوشک تھا کہ خفیہ رپورٹ انھوں نے ہی میڈیا کو لیک لی، لہذا اب اگر وہ ملاقات کیلیے خاص طور پر سڈنی سے آئے ہیں تواس خوشی کی وجہ تو بنتی ہے، وقار، انضمام الحق، وسیم اکرم اور مشتاق احمد یہ سب عمران خان کی کپتانی میں کھیل چکے مگر سیاسی جدوجہد کے دوران کوئی بھی زیادہ قریب نظر نہیں آیا، ایک آدھ موقع کی بات اور ہے، سب کو ڈر تھا کہ اس سے حکومت وقت ناراض ہو جائے گی۔

زیادہ دور کیوں جائیں حالیہ الیکشن سے قبل کون سا کرکٹر عمران خان کے ساتھ کھڑا تھا؟ جاوید میانداد اور عبدالقادر کے بارے میں ہی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں نے کھل کر اپنے سابق کپتان کی حمایت کی، پھر جب یقین ہونے لگا کہ اب تحریک انصاف ہی جیتنے والی ہے تو بعض سابق اسٹارز کی حمایتی ٹویٹس سامنے آنے لگیں، کپتان بہت جہاندیدہ انسان ہیں انھیں بخوبی علم ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد سب کس طرح قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا مجھے نہیں لگتا کہ وہ کسی کو کوئی فیورد دیں گے، وسیم اکرم کا ماضی ویسے ہی داغدار رہا ہے،جسٹس قیوم کی رپورٹ میں انھیں پاکستان کرکٹ کا کوئی عہدہ نہ دینے کی سفارش ہو چکی لہذا وہ تو کسی طور چیئرمین کے امیدوار نہیں، ملاقات کے لیے جانے والے دیگر افراد بھی کیا ''کارنامے'' انجام دے چکے یہ یاد دلانا ضروری نہیں ہے،اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ ذاکرخان کو پی سی بی میں کوئی بڑی ذمہ داری سونپی جائے گی مگر وہ چونکہ عمران خان کے قریبی دوست ہیں لہذا تنقید کا سلسلہ شروع ہوجاتا، ممکن ہے وہ کرکٹ بورڈ کی تنخواہ وصول کرنے تک محدود ملازمت بھی اب جاری نہ رکھیں، اب تک مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید احسان مانی ہی چیئرمین بنیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

ویسے سوچنے کی بات ہے ملک کو ابھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے کیسے عمران خان حلف اٹھاتے ہی کرکٹ کا سوچنے لگیں گے، انھیں کئی بڑے کام نمٹانے ہوں گے پھر کہیں جا کر کرکٹ کا نمبر آئے گا، ان کے جیسی کرکٹ کی سمجھ ملک میں گنتی کے ہی چند لوگوں کو ہے، وہ اپنے پرانے ساتھیوں سے اچھی طرح واقف ہوں گے لہذا صرف ملاقات کیلیے جا کر تعریفی جملے کہنے والا مستقبل میں نوازا جائے اس کا کوئی امکان موجود نہیں، حال ہی برطانیہ میں چھٹیاں گذار کر واپس آنے والے انضمام الحق ویسے ہی سلیکشن میں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں، دیگر ممبران تنخواہیں وصول کرنے تک محدود ہیں، وہ جسے چاہے منتخب کرتے جسے چاہے اچھی پرفارمنس کے باوجود باہر رکھتے ہیں، ان کو اس سے اچھا شاید ہی کوئی کام ملے جس میں گھر بیٹھے کئی لاکھ روپے تنخواہ مل جاتی ہے، مشتاق احمد نے طویل عرصہ انگلینڈ میں گذارا پھر جب وہاں کم پوچھا جانے لگا تو ملکی محبت دل میں جاگ اٹھی اور کبھی بولنگ کوچ تو کبھی دوسرا عہدہ پانے لگے۔

اب اکیڈمی سے بھاری تنخواہ وصول کر رہے ہیں، اب یہ نہ پوچھیے گا کہ کتنے اسپنرز ملک کو دیے،برطانوی پاسپورٹ شاید پہلے سے ہی ان کے پاس موجود ہے، وسیم اکرم کا دل بھارت میں ہی لگتا تھا، پھر حالات کی خرابی کے باعث انھیں وہاں لفٹ ملنا بند ہوئی تو ملک کی یاد ستائی،یہ تمام بڑے کرکٹرز تھے، بعض باتوں کو بھلا دیا جائے تو ملک کیلیے بڑی خدمات بھی انجام دیں مگر ان میں سے کوئی بھی پاکستان کرکٹ میں کوئی بڑا عہدہ پانے کا اہل نہیں ہے۔ دوسری جانب پی سی بی میں جس تیزی سے ان دنوں کام ہو رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں بھی تبدیلی آنے کا یقین ہو گیا، گذشتہ دنوں کئی ملازمین کی ترقی کر دی گئی، اب سنا ہے ہارون رشید کو کراچی کی اکیڈمی بھیجا جا رہا ہے، ویسے ان کو اس عمر میں اب گھر بھیجنا چاہیے، ساری زندگی وہ کرکٹ بورڈ سے مختلف عہدوں میں وابستہ رہے مگر زیادہ تر سے نکالا گیا۔

ان کیلیے خاص طور پر ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز کی پوسٹ تشکیل دی گئی وہاں بھی دل نہ لگا، اب انھیں لگتا ہو گا کہ بورڈ میں تبدیلی کے بعد نیا چیئرمین شاید جان جائے کہ وہ کتنے ''اہل'' ہیں لہذا عافیت اسی میں ہے کہ کونا پکڑ لو،اس وقت صورتحال بڑی دلچسپ ہے، سب کی کوشش ہے کہ کسی طرح کپتان کو اپنی جانب متوجہ کرلیں، دوسری جانب نجم سیٹھی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے، ایک بات طے ہے پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مستقبل کا فیصلہ پرفارمنس سے نہیں ہوتا، چاہے ٹویٹر آرمی کتنی ہی مہم چلا لے،ملازم سابق کرکٹرز جتنے بڑے بیانات دے دیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اگر تبدیلی آنی ہوئی تو ضرور آئے گی، دیکھتے ہیں موجودہ چیئرمین آگے کیا فیصلہ کرتے ہیں، آئندہ چند روز میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)