سوشل ویب سائٹس کے حوالے سے قوانین میں مزید سختی

سینٹرل کنٹریکٹ میں انٹرنیٹ کالنگ و میسجزکے حوالے سے بھی نئی شق شامل.


Saleem Khaliq May 15, 2013
پلیئرزکے موبائل فونزاورلیپ ٹاپ کمپیوٹرز کو کسی بھی وقت چیک کیا جا سکے گا۔ فوٹو: فائل

پی سی بی نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے حوالے سے قوانین میں مزید سختی کردی ہے۔

نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں انٹرنیٹ کالنگ و میسجزکے حوالے سے بھی نئی شق شامل کر دی گئی،اس کے تحت ٹورز میں پلیئرز کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کو کسی بھی وقت چیک کیا جا سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کیس میں تین کھلاڑیوں کے ملوث ہونے سے ملک کی جو بدنامی ہوئی اس نے پی سی بی کو حد سے زیادہ محتاط کر دیا، اب بورڈ کرپٹ عناصر کو کھلاڑیوں سے دور رکھنے کیلیے ہرممکن کوشش کر رہا ہے، فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے استعمال کو پہلے ہی محدود کیا جا چکا، اس کے ذریعے غلط لوگ کھلاڑیوں سے رابطہ کر سکتے تھے۔



کئی پاکستانی کرکٹرز ویسے بھی ان ویب سائٹس پر اکاؤنٹس نہیں رکھتے اور بیشتر کے جعلی پیجز بنائے گئے ہیں، اس بار بھی سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی صورت میچ یا ٹیم کی کوئی معلومات سوشل سائٹس پر افشا نہ کریں، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی،اسی کے ساتھ بورڈ نے انٹرنیٹ کالنگ و میسجز کے حوالے سے نئی شق بھی معاہدوں میں شامل کر دی، ٹورز میں اب کھلاڑیوں کو ٹیم منیجر کی جانب سے موبائل سم فراہم کی جاتی اوراس کا تمام تر ریکارڈ مینجمنٹ کے پاس ہوتا ہے۔

''ایکسپریس'' نے کچھ عرصے قبل نشاندہی کی تھی کہ پلیئرز نے اس کا توڑ نکال لیا اور اب رابطے کیلیے واٹس ایب، اسکائپ اور وائبر جیسے سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں، اس سے وہ غلط لوگوں کے بھی ہتھے چڑھ سکتے ہیں، پی سی بی نے اس رپورٹ پر ایکشن لیتے ہوئے نئے معاہدوں میں ایک شق شامل کی جس میں کھلاڑیوں کو دوران ٹور ایسے سافٹ ویئرز کے استعمال سے محتاط رہنے کا کہاگیا ہے، اسی کے ساتھ یہ بات بھی معاہدوں میں شامل ہے کہ مینجمنٹ جب کبھی چاہے کسی بھی پلیئر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر چیک کر سکے گی۔