دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے پھر سے واقعات

ملک میں پنپنے والے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تشویشناک ہیں۔


Editorial August 02, 2018
ملک میں پنپنے والے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تشویشناک ہیں۔ فوٹو:فائل

ملک میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تھمے نہیں ہیں جس کا تدارک کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے خانہ شریف میں ڈیوٹی کے دوران موٹر سائیکل پر جانے والے 2 پولیس اہلکاروں کو نامعلوم دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا جب کہ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں شمالی وزیرستان میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 قبائلی مشران جاں بحق ہوگئے، یہ مشران علاقائی مسائل کے حل لیے ہر جرگہ میں بلائے جاتے تھے۔

دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات نئے نہیں، اس سے پیشتر بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ملک میں پنپنے والے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تشویشناک ہیں، ابھی گزشتہ دنوں ملک عام انتخابات کے مرحلے سے گزرا ہے لیکن اس دوران بھی دہشت گردانہ واقعات اور خودکش حملوں نے قوم کو لرزائے رکھا، کئی قیمتی جانیں ان واقعات کی نذر ہوگئیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام تر انٹیلی جنس رپورٹس اور سیکیورٹی اقدامات کے باوجود دہشت گرد اپنے اہداف پورے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یقیناً سسٹم میں موجود خامیاں اور غفلت دہشت گردوں کی معاون ثابت ہوتی ہیں، اگر ہر جانب سے چوکس رہا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان دہشت گردی کے واقعات پر قابو پایا جاسکے۔

ملک میں ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد جیسے آپریشنز کے بعد دہشت گردانہ واقعات میں جو کمی آئی تھی اس کے بعد قوم نے اطمینان کا سانس لیا تھا، لیکن ملک میں وقتاً فوقتاً ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ابھی مطمئن ہوکر بیٹھنے کا وقت نہیں، دہشت گردوں کی باقیات کے مکمل خاتمے تک کارروائی جاری رہنی چاہیے۔ قوم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے والی قوتوں کا باہمی اتحاد سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا کسی مذہب اور مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ فعال اور متحرک ہونا ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ضرورت ہے، عوام بھی ہوشیار رہیں اور اپنے اردگرد مشکوک عناصر پر نظر رکھیں تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسند عناصر کا قلع قمع کیا جاسکے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا چاہئیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔