سال میں 2 لیگز پلیئرز کے ماتھے پر تشویش کی شکنیں نمودار

قومی ٹیم سے باہرپلیئراگر4،5 ڈومیسٹک میچزکھیل چکا ہوتوتیسری لیگ میں بھی حصہ لینے سے نہیں روکا جائے گا،حکام


Saleem Khaliq August 03, 2018
مشروب ساز ادارے کی جانب سے پلیئرزکولوگو منی سال کے آخر میں نہیں بلکہ میچ فیس کے ساتھ ہی ملے گی۔ فوٹو : فائل

سال میں 2 لیگز کی پابندی سے قومی کرکٹرزکے ماتھے پرتشویش کی شکنیں نمودار ہوگئیں۔

پی سی بی نے گذشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ کھلاڑیوں کو انجریز سے بچانے کیلیے سال میں 2 ہی لیگز کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، ان میں سے بھی ایک پی ایس ایل ہوگی، یوں عملی طور پر قومی کرکٹرز کوئی ایک ہی دوسری لیگ کھیل سکیں گے۔ اس شق کو بورڈ نے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا بھی حصہ بنا لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کھلاڑی اس سے خوش نہیں اور انھوں نے حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے، گزشتہ دنوں اس حوالے سے کپتان سرفراز احمد اور انضمام الحق، ہارون رشید سمیت بورڈ کی اہم شخصیات میں تبادلہ خیال بھی ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ تک قومی ٹیم کو بہت زیادہ کرکٹ کھیلنی ہے،لہذا اگر زیادہ تعداد میں لیگز میں حصہ لیا تو فٹنس مسائل سامنے آ سکتے ہیں، کرکٹرز کا موقف ہے کہ چونکہ 15 سے20 کھلاڑی ہی قومی ٹیم کیلیے کھیلتے ہیں لہذا سب کو لیگز کھیلنے سے روکنا مناسب نہیں ہوگا۔

حکام نے واضح کر دیا کہ جو کرکٹرز قومی ٹیم سے باہر مگر سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل ہوئے تو انھیں درخواست پر تیسری لیگ میں شرکت کی بھی اجازت مل سکے گی، جیسے وہاب ریاض ان دنوں کیریبیئن لیگ کیلیے گئے ہوئے ہیں، وہ اگر اگلی سیریز کیلیے بھی منتخب نہیں ہوئے اور اس دوران کہیں سے پیشکش ہوئی تو انھیں این او سی جاری کر دیا جائے گا،البتہ اس کیلیے ضروری ہے کہ مذکورہ پلیئر نے 4،5 ڈومیسٹک میچز میں حصہ لیا ہو، حسن علی اور محمد عامر جیسے کھلاڑیوں کو کسی صورت زیادہ لیگز میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق بورڈ نے انگلش کاؤنٹی کو اس کیٹیگری میں شامل نہیں کیا اور کھلاڑی وہاں کھیل سکتے ہیں،اسی طرح ٹی ٹین لیگ کو چونکہ پی سی بی خود سپورٹ کر رہا ہے لہذا وہاں بھی جانے کی اجازت ہوگی،2 لیگز والی شرط کا اس پر اطلاق نہیں ہوگا، بورڈ آفیشلز نے پلیئرز پر یہ بھی واضح کیاکہ ورلڈکپ کے پیش نظر لیگز میں کھلاڑیوں کی شرکت محدود کی جا رہی ہے،ممکن ہے بعد میں اس شرط کو ختم کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم فیکا بھی پاکستانی کرکٹرز کو سال میں 2لیگز تک محدود کرنے پر اعتراض کر چکی، اس نے اسے کھلاڑیوں کو روزی روٹی کے حق سے محروم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

دریں اثنا نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں قومی کرکٹرز کے معاوضوں میں 20 سے25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق میچ فیس پر بھی ہو گا، دورئہ زمبابوے کے معاوضے بھی اسی حساب سے دیے جائیں گے، کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کی تعداد بڑھا کر31 کر دی گئی ہے، نئی ای کیٹیگری میں سعد علی، میر حمزہ، عمید آصف، شاہین شاہ آفریدی و دیگر ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمرز شامل ہوںگے۔

علاوہ ازیں کھلاڑیوں کومشروب ساز ادارے کی جانب سے لوگو منی سال کے آخر میں نہیں بلکہ میچ فیس کے ساتھ ہی ملے گی، جیسے کسی ٹیسٹ کرکٹر کا معاوضہ6 لاکھ ہوا تو اسے 5 لاکھ لوگو منی سمیت 11 لاکھ دیے جائیں گے،ٹیسٹ کی الگ جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی لوگو منی ایک ہی ہوگی، نئے سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں سے ایشیا کپ سے قبل دستخط کرائے جائیں گے۔