گلگت بلتستان علم دشمنی کی بدترین واردات

مذمتی بیانات سے قطع نظر دہشتگردی اور اسکول سوزی کی ان وارداتوں سے ارباب اختیار کو بیدار ہونا چاہیے۔


Editorial August 04, 2018
مذمتی بیانات سے قطع نظر دہشتگردی اور اسکول سوزی کی ان وارداتوں سے ارباب اختیار کو بیدار ہونا چاہیے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تعلیم دشمن دہشت گردوں نے 2 سرکاری اسکولوں سمیت لڑکیوں کے 12 اسکولوں کو نذرآتش کر دیا۔ دو اسکولوں میں مبینہ طور پر دھماکے بھی کیے گئے۔ لیکن اس بہیمانہ اور شرم ناک کارروائی میں ملوث عناصر نے تاحال ان واقعات کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ان دردناک واقعات کا از خود نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ حکام سے 48 گھنٹے کے اندرجواب طلب کیا ہے، نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے بھی دیامر، چلاس واقعے کی مذمت اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سے صورتحال معلوم کی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ دہشتگردوں نے اسکولوں کو نذر آتش کرنے سے پہلے کتابیں باہر نکال کر انہیں آگ لگائی اور پھر دیامر اور چلاس میں مادر علمی کو نذر آتش کیا۔ یہ کارروائی درحقیقت وہی علم دشمن اور خرد بیزار عناصر کرسکتے ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم و تدریس کے دشمن اور اپنی جاہلانہ غراہٹوں کے غلام ہیں، انہیں بنت حوا کی جدید فکری تربیت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔

ان مہیب وارداتوں کی تاریخ بہت قدیم اور تاریک ہے، دنیا میں بہت سے جرائم ہوتے رہے ہیں مگر ماہرین علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کتب دشمنی اور اسکولوں کو نذر آتش کرنے کا جرم دہشتگردی کی بدترین شکل ہے، اس کا اندازہ قوم اور سیکیورٹی حکام سوات، مالاکنڈ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے دیکھ چکے ہیں، طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ نے ڈرون حملہ کا نشانہ بننے سے پہلے مذکورہ علاقوں میں لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کرنے کا ہولوکاسٹ سلسلہ شروع کیا تھا، ان کے حواریوں نے پاکستان کی ریاستی رٹ کو چیلنج کیا اور معصوم طالبات پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا، ان کے ظلم وجبر کا نشانہ بننے والوں میں ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب چلاس شہر میں لڑکیوں کے اسکولوں رونئی اور تکیہ میں شرپسندوں نے مبینہ طور پر دھماکے بھی کیے، تحصیل داریل میں ایک سرکاری اسکول، گیال گاؤں میں لڑکیوں کے اسکول، تبوڑ میں لڑکیوں کے لیے قائم دو اسکول اور کھنبری میں قائم لڑکیوں کے ایک اسکول کو آگ لگائی گئی۔ تحصیل تانگیر میں جنگلوٹ میں قائم سرکاری اسکول، گلی بالا اور گلی پائین میں قائم لڑکیوں کے دو اسکولوں اور تحصیل چلاس کے علاقے ہوڈر اور تھور میں قائم لڑکیوں کے اسکولوں کو بھی آگ لگائی گئی۔

دیامر کی ضلعی انتظامیہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے ان واقعات کے مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ دیامر یوتھ موومنٹ نے دیامر میں اسکولوں کو نذر آتش کیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اس حملے کو دیامر کے مستقبل پر حملہ قرار دیا۔

ادھر ضلعی ترجمان دیامر شمس میر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعرات کی شب شدت پسندوں نے ضلع کے بعض زیر تعمیر اور تکمیل کے قریب اسکولوں کو نشانہ بنایا اور آگ لگا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ شدت پسندوں نے 12 سرکاری اسکولوں کو نشانہ بنایا جن میں سے چار اسکول لڑکیوں اور 7 لڑکوں کے تھے جبکہ باقی اسکول زیر تعمیر تھے اور مکمل ہونے والے تھے۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے چلاس میں طالبات کے اسکول جلانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو تعلیم سے روکنا معاشرے پر ظلم ہے، انھوں نے حکومت سے کہا کہ خواتین کو تعلیم سے روکنے والوں کی کڑی نگرانی اور ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ ضلع دیامر میں اسکولوں کے نذر آتش کیے جانے کے واقعات انتہائی افسوس ناک و قابل مذمت ہیں۔

بہرحال مذمتی بیانات سے قطع نظر دہشتگردی اور اسکول سوزی کی ان وارداتوں سے ارباب اختیار کو بیدار ہونا چاہیے، ملکی سیاست میں نئی تبدیلیوں کے آغاز پر ایسی وحشیانہ وارداتیں مسقتبل کے ہولناک منطر نامہ کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں، دہشتگرد اس بار بھی واردات کرنے میں کامیاب ہوگئے، ان کی ٹارگٹ اچیونگ نیشنل ایکشن پلان اور نیکٹا کی مستعدی کو دھوکہ دے گئی، لہٰذا دہشتگردی مخالف میکنزم پر نظر ثانی کی سخت ضرورت ہے، بعد از مرگ واویلا کی روایت رہے گی تو فتنہ گروں کی ابلیسیت کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا، کم از کم دیامر و چلاس کے الم ناک واقعات اس امر کی واضح گونج ہیں کہ دہشتگردی کے عفریت نے پھر سے سر اٹھایا ہے۔ یہ تو خوش نصیبی ہے کہ واردات رات کی تاریکی میں ہوئی ورنہ دن دہاڑے ہوتی تو انسانی جانوں کے اتلاف کی کتنی الم ناک صورتحال ہوسکتی تھی۔

اب بھی وقت ہے کہ سیکیورٹی کے معاملات کا از سر نو جائزہ لیا جائے، ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ شرپسند موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب، سندھ، فاٹا، بلوچستان اور کراچی کے شہری علاقوں میں بدامنی کے شرارے الیکشن کی رنجشوں کے تناظر میں مسائل پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے ایک ملک گیر ہمہ جہتی پالیسی وضع کی جائے جو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر شکوک اور تساہل کے اعتراضات کا ازالہ کرے اور دہشتگرد قابو میں لائے جائیں۔