ایران پر نئی امریکی پابندیاں
عالمی مبصرین کے مطابق ٹرمپ ایران کو جن اقتصادی پابندیوں کی زنجیر میں جکڑنا چاہتا ہے اس کی کوئی عقلی دلیل نہیں ہے
ایرانی جوہری معاہدے کی تنسیخ کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کی طرف رخ کرلیا ہے اور ایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں جن کا اطلاق منگل کی رات سے ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے نیا جوہری معاہدہ کیا جائے گا جس کے لیے امریکا تیار ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی معیشت ڈوب رہی ہے ، میرے صدر حسن روحانی سے ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا کا معاشی پابندیوں کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دینا سمجھ سے بالاتر ہے، امریکا ایران کو تقسیم کرکے خانہ جنگی کرانا چاہتا ہے، ٹرمپ پابندیاں لگا کر پچھتائے گا۔
صدر ٹرمپ نے حقیقت میں مشرق وسطیٰ کی دہکتی صورتحال کا ادراک نہ کیا تو خطے میں خطرناک کشمکش شروع ہوسکتی ہے جو اسرائیلی مذموم عزائم، سعودیہ یمن کشیدگی، قطر خلیجی ممالک میں رنجشوں کے تناظر میں ایران کو کثیر جہتی مزاحمت پر مجبور کردے گی، چنانچہ معاشی پابندی کے امریکی اعلان کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ چاہتا ہے اور وہ ایران کے لوگوں کو تقسیم کررہا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا، امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کرنے کا مقصد ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر دو مرحلوں میں معاشی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، پہلا مرحلہ منگل سے شروع ہوگیا ہے جب کہ پابندیوں کا دوسرا مرحلہ 5 نومبر سے شروع ہوگا۔
ٹرمپ نے عجیب منطق پیش کی ہے کہ وہ ایسا نیا معاہدہ کرنے پر تیار ہیں جس میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور دہشتگردی کی پشت پناہی شامل ہو جب کہ ایران کی منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، مبصرین کے مطابق امریکا اپنی اس ہٹ دھرمی میں اقوام متحدہ کے مانیٹرز کی ان تجزیاتی رپورٹس کو بھی مسترد کررہا ہے جن میں بارہا اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایران ایٹمی معاہدہ کی مکمل پابندی کررہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی ایران کے خلاف اقتصادی مہم جوئی کے دنیا بھر میں منفی اثرات مرتب ہونگے اور امریکا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کوشدید معاشی اور سماجی مصائب سے دوچار ہونا پڑیگا جب کہ ایران کی داخلی صورتحال اورسماجی اضطراب و بے چینی سے فائدہ اٹھانے کی امریکی کوششیں بھی خطے کے امن کے لیے آتش فشاں ثابت ہوسکتی ہیں، بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر تیل کے عالمی بحران میں مبتلا کیے جانے کے اندیشے تیزی سے سر اٹھائیں گے، میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہر مز میں بحری مشقیں شروع کردی ہیں۔
عالمی مالیاتی اور اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں سے تیل کی عالمی منڈیوں کا نظام تہہ وبالا ہونے کے سنگین خطرات ہوگے، مزید برآں امریکی پابندیوں سے ایرانی آٹوموبائلز ، گولڈ ، توانائی سمیت دیگر قیمتی دھاتوں کے شعبے بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں، ایرانین آئل کمپنی کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے باعث ایرانی تیل کی برآمد ات میں 5 لاکھ بیرل فی دن کمی آسکتی ہے۔
واضح رہے ایران سعودی عرب اور روس کے بعد دنیا میں تیل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، ایرانی سرکاری ادارے کے مطابق رواں برس میں ایرانی تیل کی برآمدات نے 2.617 بیرل فی دن کی ریکارڈ سطح کو چھولیا ہے، عالمی سطح پر تیل کی کھپت کا بیشتر انحصار ایران پر ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر جس خطیر مقدار میں تیل نکالا جاتا ہے شاید دنیا اقتصادی پابندی کے بعد اس کے خراب مضمرات کی متحمل نہ ہو۔
لیکن ضرورت امریکی انتظامیہ کی طرف سے ابتر ہونے والی ممکنہ صورتحال کے فوری ادراک کی ہے، صدر ٹرمپ کو تو یورپی یونین کی تشویش اور جوہری معاہدہ کی تنسیخ پر پائے جانے والے عدم اطمینان کی بھی کوئی پروا نہیں ہے، امریکا نے انتباہ کیا کہ جو ممالک ایرانی تیل خرنے کی جسارت کریں گے ان کے خلاف گرفت ہوگی، امریکا کی اس دھونس کا بلاشبہ چین اور بھارت پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا، ادھر ترکی بھی ایرنی تیل کے استعمال کی راہ تلاش کریگا۔
دریں اثنا یورپی یونین نے ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کے دفاع کا اعلان کردیا ہے، برطانیہ ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں یورپی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کا کہنا ہے کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانا افسوس ناک ہے۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا اطلاق ہر صورت ہو گا، آج سے ایرانی حکومت کسی بھی قسم کے امریکی بینک نوٹ نہیں خرید سکے گی۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران تنازع سے دنیا کا امن پھر سے برباد ہوگا، ٹرمپ ایران کو جن اقتصادی پابندیوں کی زنجیر میں جکڑنا چاہتا ہے اس کی کوئی عقلی دلیل نہیں، یورپی یونین امریکا ایران جوہری معاہدہ کی منظوری کے عمل کو ایک ذمے دارانہ اور سنجیدہ کوشش سمجھتی ہے اور اسے معاہدہ کی تنسیخ کے بین الاقوامی مضمرات کا درست اندازہ ہے۔ امریکا کو بھی گن بوٹ ڈپلومیسی سے گریز کرنا چاہیے۔