ذکر بعض انتخابی بینرز کا

آج ہم انتخابی بینروں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ بینر انتخابات سے پہلے کے اور دوسرے انتخابات کے بعد کا ہے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq May 17, 2013
[email protected]

آج ہم انتخابی بینروں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ بینر انتخابات سے پہلے کے اور دوسرے انتخابات کے بعد کا ہے۔ گویا اسے ہم اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد۔ حالانکہ ایسے بینرز مختلف لوگوں نے تیار کر کیے ہیں لیکن بظاہرکئی ہوتے ہوئے بھی وہ ایک ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ کم از کم ان کی طاقت کا سرچشمہ ایک تھا۔ وہ سرچشمہ جس میں عوام کے خون پسینے کی دھاریں بہتی ہیں۔ جو یوٹیلٹی بلوں، ٹیکسوں، بجلی، گیس، پٹرولیم، بسوں کے کرایوں، ٹول ٹیکسوں اور حتیٰ کہ سر درد کی ایک گولی میں بھی عوام کے خون کی بوندیں شامل ہوتی ہیں۔ پھر یہ قطرہ قطرہ مل کر جب دریا بن جاتا ہے تو اس سے مچھیروں کے تالاب، جاگیر داروں کے کھیت اور شہزادوں کے باغ سیراب ہوتے ہیں۔ یوں کہئے کہ سیدھے سادے الفاظ میں عوام سے ایک ایک پیسہ نچوڑ کر پھر کروڑوں اربوں میں اس کی تقسیم ہوتی ہے۔

ایسی شخصیات کے نام ویسے تو کچھ اور ہیں لیکن عرف عام میںمشیر کے نام سے زیادہ جانا جاتا تھا۔ یہ طبقہ ایم این اے تھا نہ ایم پی اے اور نہ سینیٹر نہ ناظم نہ کونسلر صرف مشیر کا ٹائٹل رکھتا تھا۔ جو ایک ایسا نام ہے جسے مجمع البحرین کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اور پاکستان میں ایک ''کھلی سیاسی دادا گیری'' ہوتی ہے بلکہ اس میں وہ صلاحیت ہے کہ کوئی کچھ چاہے بن سکتا ہے، وزیر، ایم این اے، ایم پی اے، سرکاری افسر سب کے سب اس کے سامنے پانی بھرتے ہیں جو ایک بھی ووٹ لیے بغیر صرف ایک قدم کے شارٹ کٹ سے اس منزل پر پہنچتا ہے جس تک پہنچنے کے لیے لوگوں کی عمریں لگ جاتی ہیں بلکہ منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے کے مصداق پہلے ہی سے منزل پر موجود ہوتے ہیں۔ مشیر تقریباً وہی مفہوم رکھنے والا لفظ ہے جسے ماڈرن لوگ ایجنٹ کہتے ہیں۔

کچھ اور نام بھی ہیں لیکن ''بھڑوں'' کے چھتے کو ہم کیوں ڈھیلا ماریں۔ جناب مشیر صاحبان نے ایک انتخابی اشتہار میں اپنی سب سے بڑی خوبی یہ بتائی تھی کہ منتخب نمایندہ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک حلقے میں دو ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے' ایک نہ دو ہزار نہ لاکھ بلکہ ''دو ارب'' روپے، اب یہ پاکستان کا نظام انصاف نظام قانون و آئین اور نظام نظم و ضبط ہی بتا سکتا ہے کہیہ سب کچھ کیسے ہوا۔یہ تو صرف وہی فگر ہے جومختلف بینروں میں بتایا گیا ہے۔

ایسے سیاستدانوں کی ان خریدی جانے والی جائیدادوں اور تعمیر کیے جانے والے محل نما اور قلعہ نما حجروں اور بنگلوں کا حساب لگایا جائے تو ایک ریاضی میں کوالیفائیڈ منشی رکھنا پڑے گا، یہ تو صرف ایک شاخ یا ٹہنی یا پتے کی بات ہے بارے اب درخت کا بھی کچھ بیاں ہو جائے یا یوں کہئے کہ یہ تو صرف ایک دھارے کا قصہ تھا اب جھیل یا مجمع البحرین یا معدن کا پورا پورا حساب تو کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کیوں کہ اس کی جڑیں ملک کی سر زمین سے نکل کر بہت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کچھ اشتہارات اظہار تشکر کے طور پر بھی جاری ہوئے ہیں ۔ان میں سیاستدان حضرات نے ووٹروں کا شکریہ ادا کیاہے جنہوں نے کمال جوش و خروش سے کام لے کر اتنا زور لگایا کہ موضوع کی کئی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی دلدل سے خدا خدا کر کے نکال دی گئی جس میں نہ جانے کتنے منارے غروب ہوئے اس کامیابی کو نہ جانے کس کس بات کے کون کون سے تعریفی الفاظ سے سراہا گیا ہے بہرحال کچھ نہ کچھ لاج رہ گئی خطرہ تو یہ تھا کہ

بوئے گل نالہ دل دُود چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

یعنی ممکن تھا کہ ''عزت سادات'' کی یہ ایک چھوٹی سی ''دھجی'' بھی ہاتھ نہ لگتی ہے ایک ایسی دھجی جسے نہ اوڑھا جا سکتا ہے نہ پہنا جا سکتا ہے شاید ماتھے کا پسینہ پونچھا جا سکے۔ وقت بھی کیا کیا رنگ دکھاتا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہ سیاستدان سب کچھ کر سکتا تھا حالانکہ اس کے پاس کوئی اختیار بھی نہیں تھا صرف تعلقات تھے۔

کچھ بینرز میں تواربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کا ذکر ہوایہ تو گاجر کا وہ حصہ تھے جو زمین کے اوپر تھا باقی گاجر زمین میں کتنی تھی یہ کوئی نہیں جانتا، صرف ایک ٹہنی نے کروڑوں روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے تھے تو اصل تناور پیٹر یا شجر سایہ دار نے کتنے لگائے ہوں گے اس کا حساب لگانے کے لیے ایک اور حساب دان کی ضرورت تھی، وہ تو ہماری استطاعت میں نہیں تھا کیوں کہ یہاں منشی کی نہیں کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ضرورت تھی اس لیے ہم نے خود ہی انگلیوں پر موٹا موٹا حساب لگایا تو سادہ حساب کی رو سے ایک ایک ووٹ کم از کم ڈیڑھ دو لاکھ روپے کا پڑا ہو گا اور اگر ملازمتوں تبادلوں ٹھیکوں اور دوسرے اخراجات کا حساب کیا جائے تو ایک ووٹ کی قیمت شاید ہماری سالانہ آمدنی سے بھی تجاوز کر جائے۔

یوں اگر آپ چاہیں تو ووٹ کا نام بدل کر ہیرا موتی بھی رکھ سکتے ہیں، ممکن ہے آپ کے منُہ میں پانی بھر آئے کہ کاش ہمارے ووٹ بھی اتنے قیمتی ہوتے تو یہ خود آپ کی غلطی ہے وہ تو بار بار ہر اشتہار میں ہر امیدوار نے آپ کھلا کھلا بتایا ۔۔ آپ کا قیمتی ووٹ ۔۔ اور آپ کا قیمتی ووٹ ۔۔ جب آپ خود ہی اپنے ووٹ کو قیمتی نہ سمجھ پائے تو اس میں خریدار کا کیا قصور، اس نے تو اپنا فرض ادا کر دیا تھا عام طور پر تو ''خریدار'' مال میں نقص نکالتے ہیں اسے بے قیمت بتاتے ہیں اور یہاں دیانت کا یہ عالم تھا کہ خریدار بار بار آپ کے مال کو قیمتی بتا رہا تھا اور آپ اسے کیچڑ میں پھینک رہے تھے رحمٰن بابا نے کیا کمال کا شعر کہا ہے کہ

پہ دکان د نابینا و جوہر یانو

خر مہرے دُر و گوہر درے واڑہ یودی

ترجمہ : نابینا جوہریوں کی دکان میں خرمہرے، موتی اور گوہر تینوں ایک ہوتے ہیں

مدار نقطہ بینش زخال تست مرا

کہ قدر گوہر یک دانہ جوہری داند

بہرحال ہم نے صرف ان بینروں کے حوالے سے آپ کو یہ بتانا تھا کہ پاکستان کے عوام کی بدحالی در بدری مفلسی اور بھوک پیاس کی وجہ کیا تھی، وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا ایک دوست نے اپنے پتلے دبلے دوست کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی تم کو دیکھ لے تو سمجھے گا کہ پاکستان میں خوراک کا قحط ہے اس پر دوسرے نے کہا ۔۔۔ اور اگر تجھے دیکھ لے تو قحط کی وجہ بھی سمجھ میں آ جائے گی یہ دوسرا دوست بے حد موٹا تھا، ہاں یہ بات تو ہم بھول گئے کہ موبائل فون ہمارے معاشرے میں کس حد تک دخیل ہو چکا ہے،کچھ سیاستدانوںکے بارے میں تو آپ جان گئے لیکن دوسرے صاحبان کا عوامی نام نیٹ ورک ہے وہ تو سب جانتے ہیں، قحط سالی کی وجہ بھی سمجھ میں آ گئی ہوگی لیکن ابھی تو اور بھی بہت کچھ بتانا باقی ہے کیوں کہ پانچ سال کی عوامی حکومت نے عوام کو جو ثمرات کھلائے اور چکھائے وہ اپنی جگہ ایک پوری طلسم ہوشربا ہے۔