بلوچستان دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر بے قابو

تربت کے علاقے تمپ میں فورسز کی کارروائی کے دوران فائرنگ تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔


Editorial August 09, 2018
تربت کے علاقے تمپ میں فورسز کی کارروائی کے دوران فائرنگ تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ فوٹو:فائل

ملک میں دہشت گردانہ واقعات اور تعلیم دشمن عناصر کی جانب سے اسکول جلانے کے واقعات نے معصوم اذہان پر بھی کس قدر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے اس کا اندازہ پشین کی تحصیل خانوزئی میں ہونے والے ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں نامعلوم شرپسندوں نے گرلز پرائمری اسکول کو آگ لگادی، تحصیلدار نانا صاحب نے واقعے کو شرارتی بچوں کی کارستانی قرار دیا ہے۔

اگر واقعی یہ کسی دہشت گرد گروپ کی کارروائی نہیں بلکہ بچوں کی شرارت ہے تو یہ واقعہ تقاضا کرتا ہے بڑے پیمانے پر عوام کی سائیکوتھراپی کی جائے، کیونکہ دہشت گردانہ واقعات نے نہ صرف بالغان بلکہ بچوں کے اذہان کو بھی متاثر کیا ہے جس کے باعث عوام میں شدت پسندانہ رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردانہ واقعات نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردیا ہے، جس سے صوبہ کے لوگوں کا چین و سکون درہم برہم ہوچکا ہے۔ قبل از انتخابات مہم کے دوران امیدواروں پر حملوں اور جانی نقصانات کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں دہشت گرد مستقل سرگرم عمل ہیں، پاک افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف پراثر کارروائیوں کے بعد کچھ عرصہ یہ شرپسند عناصر پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے لیکن حالیہ وارداتیں ظاہر کررہی ہیں کہ دہشت گردوں کی باقیات خود کو منظم کرنے میں مصروف ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ وہ بچے کچھے دہشت گرد ہیں جو کہ یا تو ملک کے دوسرے علاقوں سے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں بھاگ کر یہاں آگئے ہیں۔

مزید برآں افغانستان سے بھی بلوچستان میں دہشت گرد داخل کیے جارہے ہیں جو تجربہ کار اور تربیت یافتہ ہیں اور یہ سب افغانستان اور بھارت مل کر رہے ہیں جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' پیش پیش ہے۔ اس بات کا اعتراف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو نے بھی اپنے بیان میں کیا تھا کہ کراچی اور بلوچستان خاص طور پر بھارتی دہشت گردی کے نشانے پر ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور بڑی حد تک امن و امان کے قیام میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

گزشتہ روز بھی تربت کے علاقے تمپ میں فورسز کی کارروائی کے دوران فائرنگ تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور دیگر تخریبی مواد قبضے میں لے لیا۔

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی کی راہ میں غیر ملکی اسلحہ اور سرمائے کی امداد حائل ہے، انھیں مقامی علیحدگی پسند عناصر کی شہ بھی حاصل ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت سیکیورٹی اداروں کو مزید فعال کرکے ہی اس صورت حال پر قابو پاسکتی ہے، اس کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔