بنت حوا پر بڑھتے مظالم تشویش ناک

کیا ایسا معاشرہ جو حیوانیت کی اس انتہا کو پہنچ گیا ہو اسے انسانی معاشرہ کہا جا سکتا ہے؟


Editorial August 10, 2018
کیا ایسا معاشرہ جو حیوانیت کی اس انتہا کو پہنچ گیا ہو اسے انسانی معاشرہ کہا جا سکتا ہے؟ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو ماہ قبل چولستان میں تین بچیوں کی موت راستہ بھٹکنے یا بھوک پیاس سے نہیں، بلکہ انھیں زیادتی کے بعد قتل کر کے صحرا میں پھینکا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ روح فرسا واقعہ 13 جون کو ضلع بہاولنگر کے دور دراز علاقے میں پیش آیا، جہاں اس روز ریت کا طوفان آیا تھا، بچیوں کی لاشیں ان کے گھروں سے تقریباً 10کلومیٹر دور ملی تھیں، بچیوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی ہوا تاہم واقعہ کے ایک ماہ 25 روز بعد اس کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔

جس میں قتل اور زیادتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پاکستان میں بچوں اور لڑکیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں جو معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور زوال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ بے مہار میڈیا، بیرونی سازشوں اور غیر ملکی ثقافت کے ملک میں فروغ کے باعث بے حیائی اور انارکی نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جس کے باعث نہ صرف نوجوان بلکہ اکثریت جرائم کی جانب راغب ہونے کے ساتھ نفسیاتی کج روی کا شکار ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے سینئر افسر بچیوں کی قتل پر پردہ ڈالنے میں ملوث ہیں، بچیوں کے قتل کے حقائق چھپانے والے افسروں کے خلاف مقدمہ درجہ کیا جائے۔ قوم ابھی قصور کی زینب، مردان کی کائنات اور عاصمہ کے واقعات کا غم ہی نہیں بھلا سکی ہے۔

قصور میں ہی ڈھائی سو سے زائد بچوں کے ساتھ زیادتی اور ویڈیوا سکینڈل نے عالمی سطح پر پاکستان کا چہرہ داغدار کیا۔ آج ہی کے اخبار میں 2 اگست کو اسلام آباد کے پارک میں لڑکی کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز کی اجتماعی زیادتی کے واقعے پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کے نوٹس کی خبر شایع ہوئی ہے، عوامی پارک میں ہونے والے اس واقعے نے عوام کو قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ایک نوبیاہتا کے ساتھ ہونے والے ظلم کی یاد دلادی ہے۔ یہ اگست کا وہی مہینہ ہے جب پاکستان وجود میں آیا تھا۔

کیا ایسا معاشرہ جو حیوانیت کی اس انتہا کو پہنچ گیا ہو اسے انسانی معاشرہ کہا جا سکتا ہے؟ صائب ہوگا کہ ایسے عناصر جو نہ صرف ان واقعات میں ملوث ہوں بلکہ واقعات چھپانے اور مجرمان کو فائدہ پہنچانے کے سہولت کار کا کردار ادا کریں ان کے خلاف بھی سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے انھیں نشانہ عبرت بنایا جائے تاکہ معاشرے میں پنپتے ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب کیا جاسکے۔