چین کے ساتھ ایف ٹی اے سے قبل پیداواری لاگت گھٹانے پر زور

مس ڈیکلریشن اور انڈرانوائسنگ سے ہماری انڈسٹری مشکلات میں گھری ہوئی ہے،افتخار ملک


Business Reporter August 10, 2018
سیکنڈ راؤنڈ کیلیے پاکستان موثر انداز میں حکمت عملی اپنائے،مظہر ناصر،عزیزکریم ودیگر۔ فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران، ممتاز بزنس مینوں اور اقتصادی امور کے ماہرین نے پاک چائنا ایف ٹی اے کے دوسرے راؤنڈ پر حتمی دستخط سے قبل ملکی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی پر زور دیا ہے۔

ای سی اے کریڈٹ کو ریویو کیا جائے، بائی لٹرل ٹریڈ میں اضافہ کیا جائے، پاک چائنا سیکنڈ راؤنڈ کیلیے پاکستان موثر انداز میں حکمت عملی اپنائے۔جمعرات کو فیڈریشن ہاؤس کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں ''پاک چائنا فریڈ ٹریڈ ایگریمنٹ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس'' سے خطاب کرتے ہوئے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئرنائب صدر اور یونائٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا کہ سی پیک کا جو معاہدہ ہوا ہے اس میں آر اینڈ ڈی پر بھی ورکنگ کی جائے، مس ڈیکلریشن اور انڈرانوائسنگ سے ہماری انڈسٹری مشکلات میں گھری ہوئی ہے لیکن مسائل کے باوجود ہم ٹریکٹر میں100فیصد ڈیلیشن میں جاچکے ہیں جو پاکستان کی کامیابی ہے، چائنا ہمارا بہترین دوست اور ٹریڈ پارٹنر ہے لیکن اس کی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کیلیے ملکی صنعتی پیداواری لاگت کو کم نہ کیا گیا تو پھر مشکل زیادہ ہوگی۔

راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر مظہر اے ناصر، ڈاکٹر اختیار بیگ، کریم عزیز ملک، رحمت اللہ جاوید، آئی بی اے کی ڈاکٹر خدیجہ باری، شفیق شہزاد، زاہد عمر، ڈاکٹر ظفر، کیپٹن عبدالرشیدابڑو، انجینئردارو خان، سعیدہ بانو، عاطف ملک اور دیگر بھی موجود تھے۔

مظہر اے ناصر نے کہا کہ پاک چائنا ایف ٹی اے پر صرف میٹنگز ہی ہوئی ہیں لیکن عملاً اقدامات نہیں ہوئے، آئندہ ماہ ستمبر میں اس ضمن میں ایف پی سی سی آئی میں ہونے والے اجلاس میں وزارت تجارت کے ایف ٹی اے ڈیسک کے ممبران کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

اختیار بیگ نے کہا کہ ہم صرف پاک چائنا ایف ٹی اے سے ہی مارنہیں کھا رہے بلکہ ای سی اے کریڈٹ بھی ہمارے لیے نقصان کا سبب ہے لہٰذا ای سی اے کریڈٹ کاازسرنو جائزہ لیا جائے۔

مقبول خبریں