فضائلِ اخلاص فوائد اور ثمرات

اخلاص کے نتیجے میں بندے کو اﷲ اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے


August 10, 2018
اخلاص کے نتیجے میں بندے کو اﷲ اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ فوٹو : فائل

اخلاص، عبادات و ا عمال میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرکے اس کی رضا کو حاصل کرے اور جنت انہیں نصیب ہو، اس مقصد کے لیے اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔

علماء نے اعمالِ صالحہ کی قبولیت کے لیے دو شرطیں ذکر کی ہیں: اخلاص یعنی وہ عمل صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کیا جائے، اور اتباعِ سنت یعنی وہ عمل قرآن و سنت کی تعلیمات کے موافق ہو۔

اخلاص کی تعریف یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اﷲ واحد کے قرب کا طالب ہو، اہل علم نے اخلاص کی کئی تعریفیں ذکر کی ہیں: اخلاص کی ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو اطاعت میں تنہا مقصود جاننا اخلاص کہلاتا ہے اور دوسری تعریف یہ کی گئی ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ کے اعمال ظاہر و باطن ہر دو صورتوں میں برابر ہوں۔ اور ریاکاری یہ ہے کہ بندے کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر اور اچھا ہو۔ عمل کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک وصاف رکھنا اخلاص کہلاتا ہے۔

اخلاص، عمل کو اﷲ واحد کی طرف پھیرنے اور اس سے قربت حاصل کرنے کا نام ہے، جس میں کوئی ریا و نمود، زائل ہونے والے ساز و سامان کی طلب اور بناوٹ نہ ہو، بل کہ بندہ صرف اﷲ واحد کے ثواب کی امید کرے، اس کے عذاب سے ڈرے اور اس کی رضا مندی کا حریص ہو۔ اسی لیے امام قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: '' لوگوں کی وجہ سے عمل ترک کردینا ریاکاری اور لوگوں کی خاطر عمل کرنا شرک ہے۔ اور اخلاص یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں ان دونوں چیزوں سے عافیت میں رکھے۔

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمؐ کی زبان مبارک سے یہ فرماتے ہوئے سنا: '' تم سے پہلے کسی امت کے تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے۔ راستے میں رات گزارنے کے لیے ان کو ایک غار ملا۔ وہ اس کے اندر داخل ہوکر سوگئے۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان پھسلی اور غار کے منہ پر آگئی جس سے غار کا راستہ بالکل بند ہوگیا۔

صبح بیدار ہوکر جب انہوں نے آپس میں کہا کہ اس چٹان کی مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنی اپنی زندگی کے سب سے زیادہ اچھے اور نیک عمل کا واسطہ دے کر اﷲ تعالی سے دعا کرو۔ تو ان میں سے ایک مسافر نے کہا: اے اﷲ تُو جانتا ہے کہ میرے بہت عمر رسیدہ ماں باپ تھے اور میں ان سے پہلے اپنے کسی بیوی بچے، لونڈی یا غلام کو شام کا دودھ پینے کے لیے نہیں دیا کرتا تھا۔ پہلے والدین کو پلاتا پھر دوسروں کو، یہ روز کا معمول تھا۔ اتفاق سے ایک دن میں چارے کی تلاش میں بہت دور نکل گیا اور گھر اتنی دیر سے واپس آیا کہ میرے ماں باپ انتظار کرتے کرتے بھوکے سوگئے۔ میں ان کے لیے بکریوں کا دودھ نکال کر لایا۔ دیکھا کہ دونوں گہری نیند سو رہے ہیں۔

میں نے ان کے آرام کا خیال کرتے ہوئے نہ ان کو جگانا پسند کیا اور نہ ہی ان سے پہلے بیوی بچوں کو دودھ پلانا گوارا کیا اور رات بھر ان کے سرہانے دودھ کا پیالا ہاتھ میں لیے کھڑا رہا اور ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور بچے رات بھر بھوک سے میرے قدموں میں پڑے بلکتے رہے۔ بہ ہر حال جب وہ بیدار ہوگئے اور انہوں نے اپنے حصے کا دودھ پی لیا پھر ہم سب نے پیا۔ اے اﷲ! اگر میں نے ماں باپ کا یہ احترام اور خدمت تیری رضا کے لیے کیا ہو تو اس نیک عمل کے واسطے سے ہم سب کو اس چٹان کی مصیبت سے نجات دے۔

اس دعا کے بعد وہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اس سے وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ دوسرے مسافر نے کہا: اے اﷲ! تُو جانتا ہے کہ میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ مجھے اس لڑکی سے اس سے بھی زیادہ شدید محبت تھی جتنی کسی مرد کو ایک عورت سے ہوتی ہے۔ میں نے اس کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کے لیے کافی ڈورے ڈالے۔ مگر اس نے صاف انکار کردیا۔

اتفاق سے ایک موقع پر وہ خاندان کے ساتھ شدید ترین قحط میں مبتلا ہوگئی۔ فقر و فاقے سے مجبور ہوکر وہ میرے پاس مدد مانگنے آئی تو میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ مجھے تنہائی میں اپنے نفس پر قدرت دے۔ مجبوراً وہ اس پر آمادہ ہوگئی۔ جب میں نے اس پر قابو پالیا۔ ایک روایت کے مطابق جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے بڑی عاجزی سے کہا: اے خدا کے بندے اپنے پروردگار سے ڈر، حق کے بغیر اس مہر کو مت توڑ، یہ امانت ہے۔ الٰہی تیرے خوف سے میں فوراً ہٹ گیا۔ حالاں کہ مجھے اس سے بے انتہا محبت تھی، قابو بھی پا چکا تھا، جو چاہتا کرتا اور وہ سونے کے سکے جو میں نے اس کو دیے تھے اسی کے پاس چھوڑ دیے۔

اے خدا! اگر میں نے یہ نیک کام صرف تیری رضا کے لیے کیا ہو تو اس مصیبت کو جس میں ہم گرفتار ہیں دور کر دے۔ اس دعا کے بعد چٹان اور تھوڑی سی ہٹ گئی مگر پھر بھی وہ غار سے نہیں نکل سکتے تھے۔ تیسرے مسافر نے کہا: اے اﷲ! تُو جانتا ہے کہ میں نے ایک بار چند مزدوروں سے کام کرایا اور کام ختم ہونے کے بعد میں نے ان سب کی اجرت بھی دے دی۔ ایک مزدور نے کسی وجہ سے اجرت نہیں لی اور چلا گیا تو میں نے اس کی مزدوری کی رقم کو کاروبار میں لگا دیا۔

یہاں تک کہ وہ رقم بڑھتے بڑھتے بہت زیادہ مال بن گئی۔ تب وہ مزدور ایک دن آیا اور اس نے کہا: اے اﷲ کے بندے! میری اجرت مجھے دے دے۔ میں نے کہا یہ اونٹ، گائیں، بکریاں اور لونڈی غلام سب تیری اجرت کی پیداوار ہیں آؤ اور شوق سے لے جاؤ۔ مزدور نے کہا: اﷲ کے بندے ! میرے ساتھ دل لگی نہ کر۔ میں نے کہا میں تمہارے ساتھ کچھ بھی مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ یہ تمام چیزیں درحقیقت تمہاری اجرت کا نتیجہ ہے۔ اس نے وہ سب مویشی اور لونڈی غلام مجھ سے لے لیے اور سب کو ہانکتا ہوا لے گیا اور کچھ نہیں چھوڑا۔ اے اﷲ! اگر یہ نیک کام میں نے صرف تیرے لیے کیا ہے تو اس کے طفیل میں اس مصیبت کو دور کر دے، جس میں ہم تمام گرفتار ہیں۔ چناں چہ چٹان غار کے منہ سے بالکل ہٹ گئی اور تینوں باہر نکل آئے۔(بہ حوالہ: ریاض الصالحین )

یہ واقعہ بیان فرما کر نبی کریمؐ نے اپنی امت کو ایسے نیک اعمال اور بلند کردار کی ترغیب دی ہے جو اخلاص اور تقویٰ پر مبنی ہو یعنی رات کی تاریکی اور تنہائی میں بھی عمل اور کردار کا وہی نہج رہے جو دن کے اجالے اور لوگوں کی عام نگاہوں میں ہوا کرتا ہے۔ کوئی بھی عبادت اور عمل انجام پاتے ہوئے بندے کا اﷲ تعالیٰ سے راست تعلق ہونا چاہیے۔ جو غیر کی شرکت سے بالکل پاک اور منزہ ہو۔ جب کسی کام کا محرک محض نیک جذبہ اور اﷲ کی رضا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی بنیاد اخلاص ہے۔ ہر انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

اخلاص کے فوائد و ثمرات:

دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اخلاص کے فضائل و ثمرات میں سے ہیں۔ اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے، بہ شرطے کہ نبی کریمؐ کی اتباع شامل ہو۔ اخلاص کے نتیجے میں بندے کو اﷲ اور فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے اور زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت لکھ دی جاتی ہے۔ اخلاص عمل کی اساس اور اس کی روح ہے۔ اخلاص تھوڑے عمل اور معمولی دعا پر بیش بہا اجر اور عظیم ثواب عطا کرتا ہے۔ مخلص جس عمل کی بھی نیت کرے لکھ لیا جاتاہے اگرچہ اسے انجام نہ دے سکے۔ مخلص اگر سوجائے یا بھول جائے تو معمول کے مطابق جو عمل کرتا تھا اسے لکھا جاتا ہے۔ اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا حالت سفر میں ہو تو اس کے اخلاص کے سبب اس کے لیے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالت اقامت و صحت میں کیا کرتا تھا۔ اخلاص کے سبب اﷲ تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے۔ اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات دلاتا ہے۔ دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات اخلاص کے ثمرات میں سے ہے۔ اخلاص کے سبب آخرت میں درجات کی بلندی حاصل ہوتی ہے۔ حسن خاتمہ نصیب ہوتا ہے۔ دعاؤں کی قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ قبر میں نعمت اور شادمانی کی بشارت ملتی ہے۔ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات عطا ہوتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مقبول خبریں