کیا سائنس فکشن واقعی ’’سائنسی‘‘ ہوتا ہے؟

نائلہ حنا  اتوار 12 اگست 2018
کسی بھی سائنس فکشن تخلیق میں سب سے ضروری عنصر ’’سائنس‘‘ ہی ہے اور اگر سائنسی قوانین ہی نظرانداز کردیئے جائیں تو ’’سائنسی‘‘ کہلانے والی وہ تخلیق محض افسانہ یا تخیل ہی بن کر رہ جائے گی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کسی بھی سائنس فکشن تخلیق میں سب سے ضروری عنصر ’’سائنس‘‘ ہی ہے اور اگر سائنسی قوانین ہی نظرانداز کردیئے جائیں تو ’’سائنسی‘‘ کہلانے والی وہ تخلیق محض افسانہ یا تخیل ہی بن کر رہ جائے گی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

میں مانتی ہوں کہ سائنس فکشن کا انحصار سائنسی تصورات، نظریات اور سائنس سے وابستہ امیدوں اور خدشات پر ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ سائنس فکشن کی ہر کہانی، ہر افسانے، ہر ناول اور ہر فلم کو تمام و کمال سائنسی اور مبنی بر معقولیت قرار دیا جاسکے۔ میں اپنی زیرنظر تحریر میں آپ کو یہی بتانے جارہی ہوں کہ سائنس فکشن کیا ’’نہیں‘‘ ہوتا۔

مشہور سائنس فکشن فلم ’’ایلیسیئم‘‘ (Elysium) میں ہیرو ’’میٹ ڈیمن‘‘ نے اپنی زندگی بچانے اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک داؤ کھیلا اور خطرہ مول لیتے ہوئے اپنے گنجے سر میں آپریشن کے ذریعے مختلف النوع سائنسی آلات نصب کروالیے۔ اب اس کےلیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ کسی بھی دوسرے شخص کے ذہن میں موجود معلومات کا خزانہ، کمپیوٹر کی مدد سے اپنے دماغ میں نصب کمپیوٹر میں منتقل کرسکے۔ اس مقصد کےلیے اس کے سر (کنپٹی والے حصے) میں یوں کمپیوٹر نصب (پلگ) کردیئے گئے، گویا کسی سوئچ بورڈ میں استری کا پلگ نصب کردیا گیا ہو․․․ دیکھ کر ہی ہنسی چھوٹ گئی۔

آج کل زیادہ تر سائنسی فلموں میں ان نظریات اور ممکنات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور انہیں حقیقت بناکر پیش کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔ مثلاً خود مشہورِ زمانہ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’’اوتار‘‘ (Avatar) میں سائنسی آلات کی مدد سے غیر انسانی مخلوق کے ذہن ہی نہیں؛ بلکہ ان کے اجسام اور دنیاؤں تک رسائی حاصل کی گئی۔ اگرچہ ان نظریات میں بے پناہ ابہام موجود ہیں مگر مجازی اور حقیقی دنیاؤں میں تعلق پیدا کرنے کی خواہش نے فلم سازوں کو ہر حد عبور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا کی بہت ساری ایجادات ان ہی سائنس فکشن ناولوں، فلموں اور فنی شاہکاروں کی مرہونِ منت ہیں۔ مگر یہ فلمیں بناتے وقت کچھ فنی غلطیوں سے صرفِ نظر ہوجاتا ہے؛ جن کا تعلق سائنسی قوانین سے ہے۔

مثلاً اسٹار وارز ہو یا دوسری خلائی فلمیں، ان میں جس طرح خلائی جہازوں کو خلاء میں چھلانگیں مارتے، قلابازیاں کھاتے یا ایک سے دوسری جگہ جاتے دکھایا جاتا ہے، وہ بلاشبہ شدید ترین غلطی ہے۔ کیونکہ خلائی جہاز، عام ہوائی جہازوں کی طرح پرواز نہیں کرسکتے۔ البتہ، دیکھنے میں یہ سب بہت اچھا لگتا ہے اور وقتی طور پر مزا بہت آتا ہے۔ مگر آج کا ناظر اور قاری بہت عقلمند ہوچکا ہے۔ وہ ان سائنسی غلطیوں کو پکڑ لیتا ہے اور اس وجہ سے وہ فلم فلاپ ہوجاتی ہے۔

 

کیا سائنس فکشن میں سائنس ضروری ہے؟

نہ تو کوئی خلائی جہاز، خلاء میں اس طرح بم اور گولیاں داغ سکتا ہے جیسے زمین کی فضا میں جہاز گولیاں اور بم برساتے ہیں؛ اور نہ ہی سائنس فکشن فلموں میں دکھائی دینے والی رنگین شعاعوں کو لیزر کہا جاسکتا ہے۔ یہ ناظرین کو دھوکا دینے اور اپنی کم علمی اُن پر تھوپنے والی بات ہوگی۔ آج سائنس کا طالب علم یا کوئی بھی عقلِ سلیم رکھنے والا شخص نہ صرف ان غلطیوں کو ناپسند کرتا ہے بلکہ سائنس فکشن فلم بنانے کا مقصد بھی فوت ہوجاتا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا ہم اتنی باریک بینی سے فلم دیکھیں؟ اور کیا ان فلموں میں سائنس اور سائنسی قوانین کا کوئی عمل دخل ضروری ہے؟

جواب ہے: ’’جی ہاں!‘‘ بہت ہی ضروری ہے۔ کیونکہ کسی بھی سائنس فکشن تخلیق میں جو سب سے ضروری عنصر ہے، وہ ’’سائنس‘‘ ہی ہے۔ اگر ہم سائنسی قوانین ہی کو نظرانداز کردیں گے، تو ’’سائنسی‘‘ کہلانے والی وہ تخلیق محض افسانہ یا تخیل ہی بن کر رہ جائے گی۔ سائنس، سچائی کا علم ہے۔ اور سائنسی قوانین کی پابندی ہی ایک سائنس فکشن کی نہ صرف بنیاد ہے بلکہ اسے دوسرے ادبی علوم سے ممتاز کرتی ہے، فرق بتاتی ہے۔ جھوٹ پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ کبھی کبھی یہ غلطیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور عام ناظر انہیں پکڑ نہیں پاتا۔ مگر اکثر غلطی اتنی بڑی اور واضح ہوتی ہے کہ فلم بین کے منہ کا مزا خراب ہوجاتا ہے․․․ اور فلم محض مذاق بن کر رہ جاتی ہے یا ایک دیومالائی داستان۔

اس مضمون میں ہم ان ہی بڑی بڑی غلطیوں کی نشاندہی کریں گے جو سائنس فکشن فلموں اور تخلیقات میں اکثر پائی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں کچھ اہم نکات بیان کرتی چلوں:

  • ہماری فہرست مکمل نہیں۔ ہم چند ہی نکات زیر بحث لائے ہیں۔ ان میں اضافہ بہرحال ممکن ہے۔ آپ کا ہمارے نکات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ بحث کی گنجائش ہمارے پاس بہت ہے اور یہ بہترین رجحان ہے۔ ہم خود سائنس فکشن فلموں، ٹی وی ڈراموں اور کہانیوں کو پسند کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ معلومات میں اضافہ ہے، نہ کہ غلطیوں کی نشاندہی کرنا۔
  • ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فلم سازی کا اولین مقصد ناظرین کا دل بہلانا ہے نہ کہ ان کو تعلیم دینا؛ اور کبھی کبھار محض سائنس کو مدنظر رکھنے سے بھی کہانی کا اصل مقصد ضائع ہوجاتا ہے۔
  • یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ فلم سازوں کو ایک حد میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً جو لاگت آئے گی اس کےلیے مختصر بجٹ ہوتا ہے یا بہرحال بجٹ کی ایک حد ہوتی ہے۔ اسی طرح فنی مہارت اور ناظرین کا ذوق بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

مندرجہ بالا نکات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آئیے ہم یہ جانتے ہیں کہ سائنس فکشن کیا ’’نہیں‘‘ ہوتا۔

 

ناظر کا شک دور کرنا

یہ فلمسازی کا بنیادی نکتہ ہے۔ یعنی کہانی کے تقاضوں کے مطابق چند ناقابل یقین واقعات و نظریات کو قابل یقین بناکر پیش کرنا․․․ اور ایک حد تک یہ جائز بھی ہے۔ مثلاً ایک عام قاری کا ذہن، جادوئی واقعات پر مشتمل کہانیوں اور داستانوں کو حقیقت سمجھ کر قبول کرلیتا ہے۔ ایسا سائنس فکشن فلموں یا کہانیوں میں بھی ممکن ہے۔

مثلاً جب کوئی سائنس فکشن کسی خاص موضوع پر تحقیق کے دوران لکھا گیا ہو، یا سائنسدان ابھی اس کے متعلق کسی خاص نتیجے پر نہ پہنچ سکے ہوں، تو سائنس فکشن کے ذریعے اسی جاری تحقیق سے وابستہ کسی ممکنہ نتیجے کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ مشہور فلم ’’جرنی ٹو دی سینٹر آف دی ارتھ‘‘ میں ہوا۔

جولز ورنز کا یہ شاہکار ناول (جس پر بعد میں اسی نام سے فلم بھی بنی) اس وقت لکھا گیا تھا جب ماہرین ارضیات ابھی زمین کی اندرونی ساخت اور پلیٹ ٹیکٹونکس (Plate Tectonics) کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ یوں وہ ناظرین کا شک دور کرکے اسے فلم سے لطف اندوز کرنے میں کامیاب ہوئے۔

لیکن وہ حد کہ جہاں پہنچ کر قاری یا ناظر کا ذہن شک دور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، معلوم کرنا بہت مشکل ہے۔ یعنی کس سطح کا ذہن کس حد تک کسی ناقابل یقین نظریئے یا واقعے کو قبول کرسکتا ہے؟ اور کہاں جاکر یہ حد ختم ہو جاتی ہے؟ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

لیکن چونکہ سائنس بہرحال مندرجہ بالا وجوہ کی بناء پر سائنس فکشن فلموں کی اساس بھی ہے، لہٰذا فلمسازوں اور لکھاریوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ سائنس فکشن کو جتنا زیادہ حقیقت سے قریب رکھ سکتے ہیں، رکھیں۔ اگر یہ سائنس فکشن، حقیقت سے قریب نہ ہوگا تو ناظر/ قاری مختلف اور غیر متوقع ردعمل دے سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر چند افراد اپنا شک دور کرکے وہ بات ضرور قبول کرلیں گے۔ (ہاں، اگر دوسری طرف ساری فلم ہی سائنس کا سبق بن جائے، تب بھی ناظر بور ہوجائے گا۔)

’’دی کور‘‘ (The Core) ایک ایسی معرکۃ الآراء فلم تھی جو انتہائی ناقابل یقین ہونے کے باوجود ناظرین کو بہت پسند آئی۔ پھر بھی یہ باکس آفس پر بوجھ تھی۔ گویا ایک فلم کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ ناظرین کا شک کس طرح دور کیا جائے۔ اب ہم سائنس فکشن فلموں کے کچھ غیر سائنسی پہلوؤں پر ایک ایک کرکے بات کریں گے۔

 

خلائی جہاز کس طرح حرکت کرتے ہیں؟

جیسا کہ ابتدائیہ میں بیان کیا گیا، فلم ’’اسٹار وارز‘‘ میں کس طرح مضحکہ خیز انداز میں خلائی جہازوں کو آپس میں لڑتے اور پرواز کرتے دکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ٹی وی سیریز ’’بیٹل اسٹار گیلکٹیکا‘‘ میں ’’وائپر‘‘ نامی خلائی جہاز لڑتے ہوئے دکھائے گئے۔ ڈیزائنر نے ان خلائی جہازوں کو (اُس زمانے کے) جدید جیٹ لڑاکا طیاروں (مثلاً مگ یا ایف-14) کے ماڈل پر تیار کیا․․․ تقریباً اسی طرح جیسے فلم ’’ٹاپ گن‘‘ میں لڑاکا طیارے دکھائے گئے تھے۔ بقول اقبالؔ

پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ

تو ناظرین کا لہو ضرور گرم ہوا، مگر فلمساز کئی حقیقتوں کو نظر انداز کرگئے۔

ایک طیارہ اس وقت پرواز کرتا ہے جب ’’ہوا‘‘ اس کے ایلیرونز اور رڈرز میں سے گزرتی ہے؛ اور نتیجے میں وہ طیارہ، ہوا میں آگے بڑھتا ہے۔ جب طیارہ گھومتا ہے تو یہی ہوا، ان پروں کی پوزیشن تبدیل ہونے کی وجہ سے، مختلف انداز میں گزرتی ہے۔ یعنی ایلیرونز ایک طرف سے اوپر اٹھ جاتے ہیں تو دوسری طرف سے نیچے آجاتے ہیں؛ اور طیارے کو پلٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اسی طرح پچھلی جانب، یعنی دُم پر موجود رڈر (Rudder) مخالف سمت میں حرکت کرتا ہے تو ہوا، پیچھے ہٹتی ہے اور طیارہ رُخ بدل لیتا ہے۔ گویا ’’ہوا‘‘ کی ان تمام حرکات کی وجہ سے ہی طیارہ پلٹتا اور اپنی سمت تبدیل کرتا ہے۔ بغیر ہوا کے وہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔

تو جہاں ایک طیارہ ہوا میں پرواز کرتا ہے، وہیں ایک خلائی جہاز ’’خلاء‘‘ میں حرکت کرتا ہے۔ اس پر نیوٹن کا تیسرا قانونِ حرکت لاگو ہوتا ہے۔ یعنی ہر عمل کے مساوی لیکن مخالف سمت میں ردعمل ہوتا ہے۔ یہی قانون خلائی جہاز کی حرکت کی بنیاد ہے۔ چنانچہ ایک خلائی جہاز کو پلٹنے کےلیے ایک راکٹ فائر کرنا پڑے گا جو گرم گیسوں کے اخراج کا سبب بنے گا۔ خلائی جہاز اسی زوردار اخراج کے مخالف سمت میں حرکت کرے گا۔

طیارے میں گردش کے تین محور (اندازِ حرکت) ہوتے ہیں جنہیں ’’پچ‘‘ (pitch)، ’’یا‘‘ (Yaw) اور ’’رول‘‘ (roll) کہا جاتا ہے۔ خلائی جہاز میں ان تینوں طرح کی حرکات کےلیے چھوٹے چھوٹے راکٹ، اس کے ڈھانچے پر مختلف جگہوں پر نصب ہوتے ہیں۔ جس طرح کی حرکت دینی ہوتی ہے، اس کے مخالف سمت والا راکٹ فائر کردیا جاتا ہے۔ بعض مرتبہ یہ تینوں حرکات بیک وقت انجام دینے کے لیے تمام متعلقہ راکٹ فائر کیے جاتے ہیں․․․ جس کے ردِعمل میں خلائی جہاز حرکت کرتا ہے۔ البتہ، یہ ہوا میں پرواز کرنے والے طیارے کی طرح سے ہموار حرکت نہیں ہوتی، بلکہ اچانک پلٹا کھانے کی مانند ہوتی ہے۔

ایسی حرکت کا مشاہدہ آپ نے ایچ بی او کی منی سیریز ’’فرام دی ارتھ ٹو دی مون‘‘ میں کیا ہوگا، جس میں ’’اپولو‘‘ نامی جہاز اچھلتا، پلٹتا ہے؛ یا پھر نئی ’’بیٹل اسٹار گیلکٹیکا‘‘ میں ’’وائپر‘‘ لڑاکا خلائی جہاز نظر آئے گا جو ’’سائی فائی چینل‘‘ ایک خاصی مقبول سیریز ہے۔

(بلاگ کے اگلے حصے میں سیاروں اور اجرامِ فلکی، ہالی ووڈ کے مریخ اور سائنس فکشن فلموں میں ضد مادّہ (اینٹی میٹر) پر بات کی جائے گی۔)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

نائلہ حنا

نائلہ حنا

بلاگر مکینیکل انجینئر ہونے کے علاوہ ابلاغِ علم و ادب کی شہسوار بھی ہیں۔ آپ کا پہلا مجموعہ کلام ’’بہشت چار ساعت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ اردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں مہارتِ تامّہ رکھتی ہیں جبکہ ادب، سائنس اور فطرت آپ کی پسندیدگی کے خاص موضوعات ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔