گلگت اور بلوچستان میں دہشتگردی کی وارداتیں

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے جس میں اسے خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔


Editorial August 13, 2018
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے جس میں اسے خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت اور بلوچستان میں چاغی کے علاقے دالبندین میں ہفتے کو رونما ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان کے دشمن ابھی تک سرگرم عمل ہیں اور جہاں انھیں موقع ملتا ہے ، وہاں وہ واردات کرنے سے نہیں چوکتے۔

گلگت کے کارگاہ نالہ کے قریب پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں تین پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے جب کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر خلیل الرحمن سمیت دو حملہ آور مارے گئے جب کہ چار کو گرفتار کر لیا گیا، ادھر بلوچستان میں دالبندین میں چینی انجینئرز کی بس کے قریب خودکش حملے میں تین چینی انجینئرز سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق سینڈک پراجیکٹ میں کام کرنے والے چینی انجینئرز چھٹیاں گزارنے وطن واپس جانا چاہتے تھے جن کی بس کو سینڈک سے دالبندین ایئرپورٹ جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا لیکن خوش قسمتی سے ان کے مقررہ مقام پر پہنچنے سے پہلے دھماکا ہوگیا جس سے بس کو جزوی نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق دھماکا خیز مواد گاڑی میں رکھ کر بلاسٹ کیا گیا جو خودکش حملہ لگتا ہے کیونکہ جائے وقوعہ پر انسانی جسم کے متعدد اعضاء اور پک اپ گاڑی کے پرخچے ملے ہیں۔ واقعہ کے بعد پاک فوج، ایف سی بلوچستان، پولیس اور لیویز فورس کی بھاری نفری نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل نے دالبندین میں چینی انجینئرز اوران کے ہمراہ جانے والے ایف سی اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر رہنمائوں نے بھی دالبندین اور گلگت کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آور عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے جس میں اسے خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں لیکن تمام تر کوششوں اور قربانیوں کے باوصف دہشت گردی کا عفریت اختتام پذیر ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ آپریشن ضربِ عضب سے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے، پناہ گاہیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا گیا اور ایک عرصے تک پورے ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما نہیں ہوئے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ اب دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور رہی سہی ان کی باقیات بھی جلد دم توڑ جائیں گی۔

اس تاثر سے پورے ملک میں خوشی کا احساس ابھرا اور امن وامان کی صورت حال بہتر ہونے سے شہروں کی رونقیں پھر سے لوٹ آئیں۔ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے لگی لیکن اس عارضی خاموشی کے پیچھے چھپے ہوئے دہشت گردی کے طوفان کی شدت کا کسی کو اندازہ نہیں ہو سکا۔ کچھ عرصے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کی ہونے والی اکادکا وارداتوں سے یہ احساس اجاگر ہوا کہ دہشت گرد اس علاقے کو محفوظ جانتے ہوئے اپنی قوت ایک بار پھر سے مجتمع کر رہے ہیں۔

اس احساس کو اس وقت مہمیز ملی جب یہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ اس صورت حال نے سیکیورٹی اداروں کو بھی الرٹ کر دیا اور انھوں نے یہاں دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ ملک میں آنے والے متوقع آبی بحران سے نمٹنے کے لیے جب بھاشا سمیت دیگر ڈیمز کی تعمیر کی آواز اٹھی تو دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت دیامر کے علاقے کو نشانہ بنا لیا، تین اگست کو دہشت گردوں نے دیامر اور ملحقہ علاقوں میں درجنوں اسکولوں کو نذرآتش کر دیا جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کے اسکولوں کی تھی۔

اب گلگت اور دالبندین کے علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ چند بیرونی قوتیں پاکستان کا انفرااسٹرکچر اور معاشی ڈھانچہ کمزور کرنے اور سی پیک کو نقصان پنچانے کے لیے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیرملکی قوتوں کے ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان امریکا اور عالمی دنیا کے سامنے لا چکا ہے مگر امریکا اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کرنے کے بجائے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اسے دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کے لیے ڈومور کے مطالبے کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام کو بھی امریکی سازشوں کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا جھکاؤ اب چین اور روس کی جانب بڑھ رہا ہے۔ چین اور روس سے دوستی کی پینگیں بڑھانے پر امریکا پاکستان پر بطور سزا مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے پر اتر آیا ہے، گزشتہ دنوں اس نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت کے منصوبے بھی ختم کر دیے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی آنے والی پاکستانی حکومت دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔دہشت گرد گروہوں اور اندرونی پشت پناہوں کے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے بیرونی پشت پناہوں کو بھی سخت پیغام دینے کی ضرورت ہے۔