امریکا اور ترکی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

امریکا اور ترکی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات کو مزید خراب کرے گی۔


Editorial August 13, 2018
امریکا اور ترکی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات کو مزید خراب کرے گی۔ فوٹو: فائل

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکی سے درآمد کردہ اسٹیل اور ایلومینیم پر محصول دگنا کرنے پر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اپنی پالیسی کو تبدیل نہ کیا تو ان کا ملک نئے اتحادی اور دوست تلاش کر سکتا ہے۔

صدر اردوان کے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شایع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اگر اپنے یک طرفہ اور غیر مہذب رجحانات کو ترک نہیں کرتا تو ترکی اپنے لیے نئے دوستوں اور اتحادیوں کو دیکھے گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی دھمکی کے بعد ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بعض ناپسندیدہ ممالک کے بارے میں اول جلول اعلانات کرنے کی شہرت رکھتے ہیں جو دھمکیوں اور پابندیوں کی وارننگ پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اردوان نے امریکا سے اپنی رنجش کے بارے میں مزید کہا کہ امریکا شام میں کرد فورسز کو مسلح کر رہا ہے اور مذہبی لیڈر فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کی طرف سے امریکی پادری اینڈریو برنسن کے معاملے پر کشیدگی کو ہوا دی جا رہی ہے لیکن ترکی امریکی دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ ترکی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ امریکا اور ترکی کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اردوان نے کہا کہ امریکا کو شرم آنا چاہیے کہ وہ ایک پادری کی خاطر نیٹو اتحادی ملک سے تعلقات خراب کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی پادری پر ترکی میں دہشتگردی کے مقدمے کا سامنا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے امریکا کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی پابندیاں اور دباؤ کے نتیجے میں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو گا۔ ترکی توقع کرتا ہے کہ دیگر ممبر ممالک بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے۔ ادھر صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کے تھوڑی دیر بعد صدر اردوان نے روسی صدر سے فون پر بات بھی کی ہے۔

امریکا اور ترکی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات کو مزید خراب کرے گی اور اس کشیدگی کے اثرات مغربی یورپی ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جارحانہ پالیسی نے ایران ہی نہیں بلکہ ترکی اور پاکستان کے لیے بھی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ایران، ترکی اور پاکستان متحد ہو کر ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کریں جس کے بل بوتے پر صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم کو روکا جا سکے۔