شش شش شش قوم سو رہی ہے
حب الوطنی کے نام پر ون ویلنگ،فلم،سینما اور سڑکوں پر مٹر گشت...کل تک یہ سب ختم ہو جائے گا۔پھر وہی روٹین،وہی لوگ ہونگے
لگتا ہے جشن ختم ہوگیا ہے، قوم پھر سو گئی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ
رات کے بارہ بجنے والے ہیں، نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ میری روم میٹس سو چکی ہیں لیکن باہر گیلری میں بہت شور ہے۔ بارہ بجنے والے ہیں ناں۔ چودہ اگست شروع ہوجائے گی۔ اس لیے سب جاگ رہے ہیں۔ ٹیرس کی کھڑکی کھلی ہے۔ باہر سے تھوڑے تھوڑے وقفے سے کسی بغیر سائلنسر کے بائیک کی زوردار آواز سنائی دیتی ہے۔ باجے بجنے کی انتہائی تیز آواز بھی آرہی ہے جو سماعتوں پر سخت ناگوار گزر رہی ہے۔ کچھ دیر پہلے پٹاخوں کی آواز بھی سنی۔ زندگی جاگ رہی ہے۔ شہر جاگ رہا ہے۔
لیکن میں یہاں نہیں ہوں۔ میری نگاہوں میں کچھ منظر گھوم رہے ہیں۔ کچھ حقائق جو قطعی مختلف ہیں۔ کچھ اور طرح کی تصاویر۔ اور طرح کے لوگ۔
پہلا منظر
ہمارے گھر میں ایک ماسی آتی ہے۔ وہ گھروں میں کام کرتی ہے۔ میں نے ہوش سنبھالا تو اس کو دیکھا۔ وہ تب غریب تھی، وہ اب بھی غریب ہے۔ اس کے گھر میں اس کے بیمار بیٹے، نکمے شوہر اور طلاق یافتہ بیٹی کے ساتھ اس کے دو چھوٹے بچے ہیں۔ اس وقت ان کے گھر میں اندھیرا ہے اور وہ سب سو رہے ہیں۔ کبھی کبھی گرمی کی وجہ سے کوئی بچہ چلاتا ہے ورنہ خاموشی ہے۔
دوسرا منظر
جب میں نے کالج سے واپسی پر وہ دو بوڑھے فقیر زمین پر بیٹھے دیکھے۔ ان میں سے ایک کانپتے کمزور ہاتھوں سے اپنی جھولی میں رکھے سکے گن رہا تھا اور دوسرا اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ شاید رشک سے؟ یا شاید حسد سے؟ وہ دونوں بھی وہیں میٹرو اسٹیشن کے قریب زمین پر سر کے نیچے کچھ رکھے بغیر ہی سو گئے ہیں۔
تیسرا منظر
باہر گلی گلی گھومنے والا آئسکریم والا۔ وہ ابھی بھی باہر تھا۔ شاید گیا۔ ہاں ! اب وہ گھر جا کےاپنی جیب سے نکلنے والے پیسے گن رہا ہوگاـ گھر کی ضروریات سبزی، صابن، سرف کا حساب لگا رہا ہوگا۔ اور دل ہی دل میں سوچتا ہوگا کہ اللہ خرچے اتنے؟ اور پیسے؟ بچے بھی تو مانگتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو دینا ہوں گے۔ اس کے بعد کتنے بچیں گے؟
چوتھا منظر
یہاں کسی گھر میں کوئی ایم۔ اے پاس بے روزگار نوجوان جو اب مزدوری کرنے لگا ہے۔ اپنی بیمار ماں کے سرہانے بیٹھا سوچتا ہوگا کہ اماں کی دوا کیسے آئے گی؟ جیب میں کچھ نہیں۔ کل مزدوری بھی ملے نہ ملے۔
پانچواں منظر
گھر کے صحن میں ٹہلتا ہوا سفید بالوں والا بوڑھا۔ اس کی بیٹی بڑی پیاری اور سگھڑ ہے۔ مگر آج تیسری دفعہ رشتے سے انکار ہوا ہے۔ کیونکہ وہ لمبا چوڑا جہیز نہیں دے سکتا۔ اور رشتہ بغیر جہیز کے ممکن نہیں۔
(باہر ملی نغموں کا شور اٹھا ہے۔ ہاں! بارہ بج گئے ہیں۔ رکو! مجھے دعا کرنی ہے، اس ملک کی سلامتی کےلیے۔)
چھٹا منظر
کچھ لوگ دکانوں کے باہر بیٹھے ہیں۔ ملکی حالات پر سوگوار انداز میں تبصرے کر رہے ہیں۔ اکہتر سال ہوجانے کے باوجود حالات نہ بدلنے پر افسوس کر رہے ہیں۔ ساتھ میں پان چبا کے پیک تھوک رہے ہیں اور حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں۔
ساتواں منظر
ملک کے نااہل اور بددیانت ثابت ہونے والے وزیراعظم کو جیل لے جایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کےآگے پیچھے گاڑیاں ہیں، گارڈز ہیں۔ اور ہاں، عوام بھی موجود ہیں۔ وہی عوام جن کو باہر سے کسی نے بتایا کہ سنو یہ جن کو مسندوں پر بٹھا رکھا ہے وہ تمہارا سب کچھ کھا گئے ہیں۔ وہ اس سابق وزیراعظم کی شکل دیکھنے کو بے تاب ہیں۔ نعرے لگا رہے ہیں۔ تالیاں پیٹ رہے ہیں۔
آٹھواں منظر
الیکشن پر بحث ہو رہی ہے۔ نا اہل شخص کی پارٹی کو ووٹ ڈالنے والے بھی موجود ہیں۔ بلکہ بہت زیادہ موجود ہیں۔ کچھ نئے رنگ برنگے چہروں کا نام لے رہے ہیں۔ ان کو بھی آزمالیا۔ لیکن اس کا نام کوئی نہیں لیتا جس کا نام عدالت عظمٰی نے لیا تھا۔ ''صادق اور امین'' کہہ کر۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی پٹی ہے کہ کھلتی ہی نہیں۔ کوئی اندھا پن ہےکہ جاتا ہی نہیں۔
باہر سے آنے والا شور میری محویت توڑ رہا ہے۔ ابھی یہ سب جاگ رہے ہیں۔ اور یہ لوگ کیا کرتے پھر رہے ہیں؟
حب الوطنی کے نام پر ون ویلنگ، فلم، سینما اور سڑکوں پر مٹر گشت؟ کل تک یہ ختم ہو جائے گا۔ پھر وہی روٹین، وہی لوگ، امیر امیر رہے گا۔ غریب غریب رہے گا۔ نا امیدی بدستور رہے گی۔ مایوسی چھٹ نہ پائے گی۔
اگلی چودہ اگست تک شاید ماسی اس عمر میں بھی کام کرتی رہے گی۔ وہ دونوں بوڑھے بابا جی سڑک پر ہی سوجایا کریں گے۔ بے روزگار نوجوان کی فکریں ہونہی رہیں گی۔ آئسکریم والا روز مایوسی سے جیب سے نکلنے والے پیسے گنا کرے گا۔ بوڑھے باپ کی بیٹی گھر بیٹھی رہے گی۔ لیکن سب لوگ نااہلوں، غاصبوں، بے دینوں اور غداروں کے جلسوں میں جایا کریں گے۔ اور ووٹ بھی انہی کو دے دیں گے۔
اچھا... وقت بہت ہو گیا ہے۔ خاموشی چھا گئی ہے۔ لگتا ہے جشن ختم ہوگیا ہے۔ باہر اکا دکا گاڑیوں کی آوازیں ہیں۔ کبھی کبھی کوئی بائیک گزرتی ہے۔ ویسے خاموشی ہے۔
شاید شہر سو گیا ہے... قوم پھر سو گئی ہے!
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔