قرضہ معافی کیس میں سپریم کورٹ کا 75 فیصد رقم واپس نہ کرنے پر جائیداد قرقی کا حکم

آپشن نمبر1 لینے والے فریقین رقوم رجسٹرارکے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائیں،باقیوں کے مقدمات عدالتوں کوبھیجے جائیں،چیف جسٹس


Numainda Express August 17, 2018
 رپورٹ اور حالات دیکھنے کے بعد سوچا معاملہ یہیں نمٹا دیں، ماتحت عدلیہ میں معاملات لٹک نہ جائیں،عدالت،بینکوں کے سربراہان طلب۔ فوٹو:فائل

سپریم کورٹ نے قرض معافی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں معاف کرائے گئے قرض کا 75فیصد واپس نہ کرنے والوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آپشن نمبر ایک استعمال کرنے والے فریقین کو رقوم نیشنل بینک کی فارن آفس والی شاخ میں جمع کرانیکی ہدایت کی ہے جہاں رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام پر اکاؤنٹ کھولا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر قرض دہندگان کو 2آپشنز دیئے گئے تھے، پہلے آپشن کے مطابق اصل رقم کا 75 فیصد جمع کرانا تھا، آپشن نمبر2کے مطابق قرض معاف کرانے والوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم دیا گیاتھا۔ کئی فریقین نے آپشن نمبر ایک کا انتخاب کیا جس پر باقی فریقین کی جائیداد قرق کرنے کا حکم جاری کیا ہے، رپورٹ اور حالات دیکھنے کے بعد ہم نے سوچا معاملہ یہیں نمٹا دیا جائے، ہم نے اصل رقم پر25فیصد رعایت دی تھی۔ نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے رقوم جمع کرائیں، ماتحت عدالتوں میں معاملات لٹک نہ جائیں، اس لیے فریقین کو آپشن ون دیا۔

قبل ازیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ5 نجی کمپنیوں کے وکیل ہیں،4 کمپنیاں قرض واپس کرنے پر آمادہ ہیںجبکہ ایک کمپنی کے قرض کی رقم متنازعہ ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ نائیک صاحب ڈیمز فنڈ کے لیے بھی پیسے چاہئیں، اپنے موکلوں کو کہیں ڈیم فنڈ میں بھی پیسے دیں، جن لوگوں نے پہلا آپشن نہیں لینا ان کے مقدمات عدالتوں کو بھیجے جائیں، ایک ایک پیسہ واپس لینا ہے۔ اس معاملہ میںبنکوں سے تعاون درکار ہے۔ تمام بنکوں کے سربراہان ریکارڈ کے ہمراہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں، مزید سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔

مقبول خبریں