بجلی فراہمی کا شفاف نظام ناگزیر

’’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘‘ کے مصداق اس مسئلہ کا کوئی شافی وکافی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔


Editorial August 19, 2018
’’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘‘ کے مصداق اس مسئلہ کا کوئی شافی وکافی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

ملک کو یوں تو بیشمار چیلنجز درپیش ہیں مگر بجلی کابحران سنگینی میں سرفہرست ہے۔ توانائی کے مختلف النوع پیچیدہ تکنیکی معاملات، بجلی کی معطلی، کم پیداوار، تقسیم، کنڈا سسٹم سمیت اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ بدستور درد سر بنے ہوئے ہیں۔ تاہم ان سے ہٹ کر بجلی کے بریک ڈاؤن نے صورتحال کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے، بجلی کے مستحکم اور مربوط نظام کی عدم موجودگی میں پاور بریک ڈاؤن کا ملک گیر عذاب اکثر شہریوں کے لیے اعصاب شکن اور انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتا رہا ہے۔

گزشتہ روز ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی وحیدرآباد سمیت دیگر بڑے شہر اور دیہی علاقے جو لوڈ شیدنگ سے محفوظ نہیں تھے، پاور بریک ڈاؤن سے شدید متاثر ہوئے جب کہ سابق حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی گونج اور نیشنل گرڈ میں 13 ہزار میگاواٹ بجلی کی اضافی پیداوار کی نوید اسی برقی تعطل کی نذر ہوگئی۔

میڈیا کے مطابق کے الیکٹرک کی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن ٹرپ کرنے سے شہر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوگیا، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، شہریوں نے پوری رات جاگ کر گزاری ۔ جمعے کی شب ساڑھے 10 بجے شہر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہر کا بڑا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

بریک ڈاؤن کی وجہ سے 5 صنعتی علاقوں سمیت شہر کے رہائشی علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی، کے الیکٹرک حکام کے مطابق جام شورو سے کراچی آنے والی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن ٹرپ کر گئی جس کی وجہ سے نیشنل گرڈ اسٹیشن سے کے الیکٹرک کو ملنے والی 600 میگا واٹ بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، تاہم فالٹ کی تلاش اور مرمت کے لیے کے الیکٹرک کے عملے پر مشتمل ٹیموں کو روانہ کردیا گیا۔ بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت شہر کے دیگر علاقے بجلی سے محروم رہے، بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہر کا 80 فیصد علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے پوری رات جاگ کر گزار دی۔

واضح رہے نیشنل گرڈ سے صرف 600 میگا واٹ بجلی آتی ہے جب کہ 1700 میگاواٹ کے الیکٹرک اپنے پاور پلانٹ سے پیدا کرتی ہے، ترجمان نے صارفین سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے پریشانی پر معذرت کی ہے، ادھر ترجمان حیسکو کے مطابق حیسکو ریجن کے 21 گرڈ اسٹیشنز بند ہوگئے جس کی وجہ سے بدین، ٹنڈو محمد خان، ڈگری، میرپورخاص اور ٹنڈو جام میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، جب کہ حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے بھی کئی اضلاع تاریکی میں ڈوب گئے، ٹنڈو آدم میں بجلی بندش کا دورانیہ 14 سے 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔

یہی لوڈشیڈنگ کراچی کے قدیم علاقے لیاری ٹاؤن میں صبح، دوپہر، سہ پہر اور رات گئے جاری رہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کے اس انکار سے پاور سیکٹر کا بحران مزید شدید ہونے کا امکان ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اربوں روپے کی مقروض ہیں اور قرضوں کی ادائیگی اور سودکی ادائیگی کے لیے مزید قرضے لیے جارہے ہیں، جس سے پاور سیکٹر بحران در بحران کا شکار ہے۔

ادھر سینٹ قائمہ کمیٹی برائے گردشی قرضے میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کا گردشی قرض ایک ہزار 148 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس میں سے پاور ڈویژن نے مختلف سرکاری و نجی اداروں سے 817.5 ارب وصول کرنے ہیں، اجلاس میں سیکریٹری پاور ڈویژن، سیکریٹری خزانہ اور وزارت توانائی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔

پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاورہولڈنگ کمپنی کو 618 ارب روپے قرض دیا گیا جب کہ پاورہولڈنگ کمپنی کے ذمہ 582 ارب 86 کروڑ روپے واجب الادا ہیں اور پاورہولڈنگ کمپنی کے ذمہ 153 ارب سود بھی واجب الادا ہے۔ پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کا واحد مقصد گردشی قرضے کوختم کرنا تھا، بلوںکی عدم ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ نہ کرنے سے گردشی قرضوں میں سالانہ 150 ارب کا اضافہ ہوا۔ لاہور کامرس رپورٹر کے مطابق ملک میں جمعہ کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا، حبس کے باعث بجلی کی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہوجانے کے باعث شارٹ فال مزید بڑھ گیا، شہروں میں رات کو بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

جس کے باعث لوگ رات کو دو گھنٹے بھی سکون کی نیند نہ لے سکے، بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث بیشتر علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہوگئی، میڈیا کے مطابق ایف آئی اے اسلام آباد زون سمیت چاروں زونز نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ملک بھر میں بجلی وگیس چوری کے خلاف بھرپور کارروائیوں کا دیا گیا ٹاسک پس پشت ڈال دیا جب کہ اس ضمن میں تشکیل دی گئی ٹیمیں غیرفعال ہوکر رہ گئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ توانائی بحران کے کنٹرول کے بعد ہی ملکی اقتصادی اور سماجی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، مگر افسوس ہے کہ بجلی کی پیداوار، تقسیم، بجلی کے بے محابا ضیاع، انتظامی و فنی نیٹ ورک کی اوورہالنگ اور فالٹ فری بلنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کے مستقل شفاف نظام کے میکنزم کا فقدان ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ''ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں'' کے مصداق اس مسئلہ کا کوئی شافی وکافی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔

پورے ملک میں کنڈا سسٹم کا ناسور موجود ہے، پوش علاقوں میں بجلی کی ''سائنٹیفک چوری'' معمولات زندگی کا حصہ بن چکا ہے، بجلی چوروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو بجلی چور اہلکاروں پر کھلم کھلا فائرنگ کرتے ہیں، بجلے محکمے کنڈا سسٹم کے خاتمہ کے لیے زون وائز اسٹرٹیجی تیار کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو بلنگ میں باقاعدگی لانے سے ملک کو اربوں روپے کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ بجلی چوری انتظامی تساہل کا نتیجہ ہے، واضح رہے یکم مئی 2018 کو انگریزی کے ایک موقر روزنامے نے خبر دی تھی کہ میگا واٹس میں اضافہ کی اطلاعات کے شور میں لوڈشیڈنگ کا تسلسل تعجب خیز ہی لگتا ہے، جب کہ پاور بریک ڈاؤن کے گزشتہ اور اس سے پیوستہ برسوں میں کئی بار پاور بریک ڈاؤن ہوئے جس سے پنجاب، کراچی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان شدید متاثر ہوئے، دن بھر بجلی معطل رہی، پنجاب اور دیگر علاقے ''پاور لیس'' بنے رہے۔

ادھر ماہرین عرصہ دراز سے بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں مضمر خرابیوں کے ازالے کے لیے انتظامی سطح پر ٹھوس اور شفاف اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے رہے، ان کا استدلال یہی تھا کہ بجلی کے تکنیکی شعبوں میں اسی شعبہ کی گہری معلومات اور علمی و فنی تجربے سے معمور افراد کا تقرر ناگزیر ہے، نیز اقربا پروری کے خاتمہ کو بجلی کی مستقل فراہمی کے سسٹم کی اصلاح کی جانب موڑا جائے جب کہ بڑے بریک ڈاؤنز رونما ہونے پر ذمے داری قبول نہ کرنے والوں کا فوری احتساب بھی ہو، علاوہ ازیں توانائی بحران کے حل کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جائے تاکہ ملکی ترقی، عوام کی خوشحالی اور معیشت کی ہمہ جہت پیش قدمی پر کسی کو شک نہ ہو۔ لہٰذا توانائی بحران پر قابو پانا نئی حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔